بریکنگ نیوز: رجب طیب اردگان ڈٹ گئے۔۔!! ترک صدر نے پڑوسی ملک کو سنگین نتائج کی دھمکی دے ڈالی

انقرہ (ویب ڈیسک) مشرقی بحیرہ روم میں ترکی کی جانب سے تیل اور گیس کی تلاش کے مشن پر پیدا ہونے والے تنازع کے بعد ترک صدر رجب طیب ایردوآن نے پڑوسی ملک یونان کو سنگین نتائج کی دھمکی دی ہے اور کہا ہے کہ یونان زیر آب قدرتی وسائل کے تنازع پر ترکی

کے ساتھ مذاکرات کرے ورنہ اسے تباہ کن جنگ کا سامنا کرنا پڑے گا۔غیرملکی خبر رساں ادارے کے مطابق استنبول میں طبیہ شہر کے افتتاح کے موقع پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ترکی کی حکومت اور عوام تمام طرح کے پس منظر اور ان کے مرتب ہونے والے نتائج کے لیے تیار ہیں۔ دریں اثنا یونان کے وزیر خارجہ ترکی کے ساتھ پائے جانے والی کشیدگی سے متعلق بات چیت کے لیے امریکا پہنچے ہیں جہاں وہ امریکی حکام کے ساتھ ساتھ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوٹیرس سے بھی بات چیت کریں گے۔ مشرقی بحیرہ روم میں ترکی کی جانب سے تیل اور گیس کی تلاش کے مشن پر پیدا ہونے والے تنازع کے بعد ترک صدر رجب طیب ایردوآن نے پڑوسی ملک یونان کو سنگین نتائج کی دھمکی دی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یونان زیرآب قدرتی وسائل کے تنازع پر انقرہ کے ساتھ مذاکرات کرے ورنہ اسے تباہ کن جنگ کا سامنا کرنا پڑے گا۔ استنبول میں طبیہ شہر کے افتتاح کے موقع پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ترکی کی حکومت اور عوام تمام طرح کے پس منظر اور ان کے مرتب ہونے والے نتائج کے لیے تیار ہیں۔ خیال رہے کہ ترک صدر کی طرف سے یہ دھمکی آمیز بیان ایک ایسے وقت میں دیا گیا ہے جب دوسری طرف انقرہ نے یونان کی سرحد کی طرف ٹینک روانہ کیے ہیں۔ اخبار ‘ھبرلار’ کی رپورٹ کے مطابق جنوبی شام کی سرحد کے قریب ہاتائی ریاست سے 40 ٹینکوں کا ایک کانوائے یونا کے سرحدی علاقے ادرنہ کی جانب روانہ کیا گیا ہےاخباری رپورٹ کے مطابق یہ ٹینک الریحانیہ اور کومولو کے مقامات پر متمرکز ہیں۔ یہ ٹینک بڑے بڑے ٹرکوں‌ پر سرحدی علاقے میں بھیجے گئے ہیں۔ ایک دوسرے ذرائع کا کہنا ہے کہ ٹینکوں کے دو قافلے اسکندرون شہر سے ادرنہ کے لیے بھیجے گئے ہیں۔ دوسری طرف ترکی کے عسکری حکام نے یونان کی سرحد پر ٹینکوں کی تعینات کرنے کی تردید کی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ملاطیہ سے ٹینکوں کی روانگی پہلے سے طے شدہ منصوبے کا حصہ تھی مگر وہ ٹینک یونان کی سرحد کی طرف نہیں بھیجے گئے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں