وہ خاتون کون تھی جسکے موبائل پر عمران خان اور ذوالفقار مرزا کے درمیان بات چیت اور ڈیل ہوئی تھی ؟ ایک اور حیران کن انکشاف

کراچی(ویب ڈیسک)عزیر بلوچ کی جے آئی ٹی رپورٹ کے معاملے پر پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف میں لفظی جنگ مزید شدت اختیار کرگئی ، پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما اور وزیر تعلیم سندھ سعید غنی کا کہنا ہے کہ میں گزشتہ کئی روز سے کہہ رہا ہوں کہ پی ٹی آئی کا عزیر بلوچ سے رابطہ تھا۔

پی ٹی آئی کے دھرنوں میں امن کمیٹی کے لوگ شریک ہوتے رہے اور ان کی دعوتیں اور ملاقاتیں ہوتی رہیں، اب حبیب جان بلوچ نے بھی ان تمام باتوں کی تصدیق کردی ہے کہ کراچی میں پی ٹی آئی کے جلسے امن کمیٹی کی وجہ سے کامیاب ہوئے۔وفاقی وزیر برائے بحری امور علی حیدر زیدی نے کہاہے کہ صوبائی وزیر حقیقی مسئلے سے توجہ ہٹانے کی ناکام کوشش کر رہے ہیں، عزیر بلوچ برسوں سے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی حراست میں ہے اور اس کو استعمال کرنے والی سیاسی شخصیات کے نام جے آئی ٹی میں ہیں اوروہ آزاد ہیں۔تفصیلات کے مطابق صوبائی وزیر تعلیم سعید غنی نے کہا کہ انہیں قومی احتساب بیورو(نیب)پراعتماد نہیں کہ وہ پی ٹی آئی کے کسی رہنما کیخلاف کارروائی کریں گے۔محسوس ہوتا ہے کہ نیب نے حلیم عادل شیخ کو کلین چٹ دینے کے لیے یہ معاملہ اٹھایا ہے، ایسی کوئی مثال ہمارے سامنے نہیں کہ جس میں نیب نے ٹھوس شواہد ہونے کے باوجود پی ٹی آئی کے کسی رہنما کے خلاف کارروائی کی ہو۔اتوارکوصوبائی وزیر بلدیات ناصر شاہ کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے صوبائی وزیرتعلیم سعید غنی نے کہاکہ شوگر کمیشن کی رپورٹ آگئی، وزیراعظم، وزیراعلی پنجاب، اسد عمر، مشیر خزانہ، مشیر تجارت، جہانگیر ترین اور خسرو بختیار پر انگلیاں اٹھیں لیکن کسی ایک شخص کو نیب نے طلب نہیں کیا۔بظاہر محسوس نہیں ہوتا کہ نیب پی ٹی آئی کے کسی رہنما کے خلاف کارروائی کرے لیکن دیکھتے ہیں کہ شاید اپنی ساکھ کو کچھ بحال کرنے نیب کوئی اقدام اٹھالے۔انہوں نے کہا کہ اس وقت ملکی معیشت کا برا حال ہے اور عوام کے حقیقی مسائل سے توجہ ہٹانے کے لیے اس حکومت نے نیا طریقہ اختیار کیا ہے کہ نان ایشوز کو سامنے لا کر اس پر شور مچاتے ہیں اور میڈیا کی توجہ اس جانب مبذول کردیتے ہیں۔انہوں نے کہاکہ علی زیدی بے وقوف نہیں بے وقوفوں کے سردار ہیں جنہوں نے دو روز قبل دعویٰ کیا کہ وہ ایک تہلکہ خیز ویڈیو منظر عام پر لانے والے ہیں اور پھر وہ حبیب جان کی ویڈیو ریلیز کی۔انہوں نے کہاکہ ایک انٹرویو میں حبیب جان نے یہ ساری باتیں تسلیم کرنے کے علاوہ ایک نیا انکشاف یہ کیا ہے کہ لندن میں پی ٹی آئی کی رابعہ نام کی خاتون رہنما کے فون پر سال2011 میں عمران خان اور ذوالفقار مرزا کی بات ہوئی جس میں یہ طے ہوا کہ امن کمیٹی پی ٹی آئی کی حمایت کرے گی۔سعید غنی نے کہاکہ حبیب جان نے اس بات کو بھی تسلیم کیا کہ اس نے پی ٹی آئی میں شمولیت اختیار کی تھی اور علی زیدی نے 2014 میں ایک ٹوئٹ کے ذریعے بھی اس کی تائید کی تھی اور جب کسی نے اعتراض اٹھایا کہ یہ لوگ انسانی جان کے دشمن ہیں تو علی زیدی نے جواب دیا کہ ان کے خلاف تمام مقدمات سیاسی طور پر بنائے گئے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں