جب کوئی قافلہ روکنا ہو تو میر کاررواں کو نشان عبرت بنایا جاتا ہے ۔۔۔۔ میر شکیل الرحمٰن کے کیس میں دراصل کیا گیم کھیلی جارہی ہے ؟ پول کھول دینے والے حقائق

لاہور (ویب ڈیسک) میر شکیل الرحمٰن کے خلاف لگائے گئے الزامات یحییٰ بختیار کے مقدمے کے مقابلے میں نہایت بے بنیاد ہیںبلکہ سچ تو یہ ہے مذکورہ معاملہ سرے سے نیب کے دائرہ کار میں ہی نہیں آتا۔اگر کوئی بے ضابطگی ہوئی تو ایل ڈی اے قوانین کے تحت کارروائی کی جا سکتی ہے۔

نامور کالم نگار محمد بلال غوری اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔جس انداز میں میرشکیل الرحمٰن کو انتہائی ابتدائی سطح پر گرفتار کیا گیا ،اس پر کئی سوالات ہیں لیکن انہیں سردست بالائے طاق بھی رکھ چھوڑا جائے تو نیب کی طرف سے گرفتار کئے گئے افراد کو 90دن تک تحویل میں رکھا جاسکتا ہے۔اگرچہ 90دن کی مدت پوری ہونے سے پہلے بھی کئی افراد ضمانت پر رہا ہوئے مگر جسمانی ریمانڈ کی مدت ختم ہونے پر اعلیٰ عدالتوں کی طرف سے ضمانت پر رہا کیا جانا معمول کی بات سمجھی جاتی ہے۔نیب کا طریقہ کار یہ ہے کہ شکایت یا درخواست موصول ہونے کے بعد انکوائری ہوتی ہے ،پھر بورڈ تفتیش کی منظوری دیتا ہے اور آخر میں ریفرنس داخل کیا جاتا ہے جسے آپ مقدمہ کے اندراج کا مرحلہ قرار دے سکتے ہیں ؟اس سے بڑھ کر ناانصافی اور کیا ہوگی کہ جس شخص کے خلاف کوئی ایف آئی آر یا مقدمہ درج نہیں ،اسے چار ماہ سے حبس بے جا میں رکھا ہوا ہے؟اس دوران ان کے بھائی جاویدالرحمٰن فوت ہوئے اور اب ان کی ہمشیرہ لندن میں انتقال کرگئیں۔جب یہ مقدمہ جھوٹا اور بے بنیاد ثابت ہوگا تو کیا یہ سب میر شکیل الرحمٰن کو لوٹایا جا سکے گا؟ایک طرف ہم دیکھتے ہیں کہ تفتیش کی منظوری ہونے کے باوجود وفاقی وزیر خسرو بختیار کو گرفتار نہیں کیا جاتا؟وزیراعظم کے مشیر بابر اعوان کے خلاف ریفرنس دائر ہو جاتا ہے ،وہی جج ارشد ملک جو اب برطرف ہو چکے ہیں ان کے ذریعے کلین چٹ لے لی جاتی ہے مگر اس دوران گرفتاری کا مرحلہ نہیں آتا۔ایک اور وفاقی وزیر پرویز خٹک کے خلاف ریفرنس دائر کرنے کی منظوری ہو جاتی ہے مگر انہیں حراست میں نہیں لیا جاتا۔سابق وزیراعظم راجہ پرویز اشرف نیب عدالت سے باعزت بری ہو جاتے ہیں مگر انہیں گرفتار کرنے کی ضرورت نہیں پڑتی۔سابق وزیر اعظم نوازشریف کو بھی تب تک گرفتار نہیں کیا گیا جب تک فیصلہ نہیں آگیا لیکن میر شکیل الرحمٰن کو اندراج مقدمہ سے پہلے ہی نہ صرف گرفتار کرلیا گیا بلکہ ضمانت پر رہائی بھی نہیں دی جا رہی۔آپ نے دیکھا ہوگا جب کوئی قافلہ روکنا ہو تو میر کارواں کو نشان ِ عبرت بنا یا جاتا ہے۔ یہاں بھی صحافت کا گلا گھوٹنے کا ارادہ تھا اس لئے ’’میر صحافت ‘‘کو پابند سلاسل کردیا گیا تاکہ جب کوئی سچ بولنے یا لکھنے لگے تو اسے بتایا جا سکے ،پاکستان کےسب سے بڑے میڈیا گروپ کے ایڈیٹر انچیف کیساتھ یہ سلوک ہو سکتا ہے توتم کس کھیت کی مولی ہو۔

جب کوئی قافلہ روکنا ہو تو میر کاررواں کو نشان عبرت بنایا جاتا ہے ۔۔۔۔ میر شکیل الرحمٰن کے کیس میں دراصل کیا گیم کھیلی جارہی ہے ؟ پول کھول دینے والے حقائق” ایک تبصرہ

  1. My dear
    Can I asked as citizen of pakistan on which grounds 54 kanals allotted to him. How citizens of Pakistan are without 1 marla land which is 1/1080. If there are something wrong let to court decided. Lhr high court rejected the bail twicely. How much workers of same group are with out personal roof. Why these type of personalities are blessed. Pls think over. I am worker of PMLN

اپنا تبصرہ بھیجیں