پاکستانی سفیر کی امریکی بیگم کے کرتوت : کچھ عرصہ قبل حکومت پاکستان کو بیرون ملک اپنے ایک سفیر کے بارے میں کیا شکایت موصول ہوئی تھی ؟ حیران کن انکشاف

لاہور (ویب ڈیسک) گزشتہ برس وزیراعظم عمران خان کی اقوامِ متحدہ میں تقریر سے محض ایک روز قبل اقوامِ متحدہ کی سب کمیٹی کا حافظ سعید سے متعلقہ خفیہ مراسلہ کس نے افشا کیا؟ نیو یارک میں پاکستانی وزیراعظم سے سکھوں کا ایک وفد ملنا چاہتا تھا، خالصتان تحریک سے وابستہ یہ وفد بتانا چاہتا تھا کہ

نامور کالم نگار مظہر برلاس اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔ بھارتی حکومت سکھوں پر کس طرح ظلم وستم کر رہی ہے مگر عین آخری لمحات میںیہ ملاقات منسوخ کر دی گئی، سکھ ناراض ہوئے، ہمارے ادارے بھی ناراض ہوئے مگر کام لگ چکا تھا۔ہمارے سفارتخانوں پر غریب عوام کے ٹیکسوں کا پیسہ خرچ ہوتا ہے مگر دفترِ خارجہ کو اس سے کیا؟ ہمارے ایک درجن سے زائد سفیروں کی بیگمات غیرملکی ہیں، غیرملکی بیویوں کے حامل سفیر بعض اوقات بیگم کے ملک کے حامی بن جاتے ہیں۔ اس کا اندازہ آپ کو اس واقعہ سے ہوگا۔ایک صاحب سابق دور میں وزارتِ خارجہ میں اہم عہدیدار تھے۔ ہر وقت وزیراعظم کی خوشامد کرتے تھے، انہیں خوشامد کا صلہ یہ دیا گیا کہ گریڈ بائیس کی پوسٹ پر سابق سویت یونین کے ایک ملک میں پاکستان کا سفیر لگا دیا گیا حالانکہ وہ گریڈ بیس میں تھے۔ ابھی انہیں چند مہینے ہوئے تھے کہ وہاں کی وزارتِ خارجہ نے ڈپلومیٹک کیبل کے ذریعے ایک مفصل رپورٹ بھجوائی۔اس رپورٹ میں سفارتی آداب کی خلاف ورزیوں کے علاوہ ایک سنگین بات بھی تھی۔ اُس ملک کے ادارے حیران تھے کہ پاکستان اور اُس ملک کے مابین ہونے والی خفیہ باتیں امریکہ تک کیسے پہنچ جاتی ہیں پھر پتا چلا کہ سفیر صاحب کی بیگم امریکی ہے۔جونہی یہ رپورٹ ملی تو وزارتِ خارجہ نے سفیر کو واپس بلا لیا اور قاضی خلیل اللہ کو وہاں سفیر تعینات کر دیا۔ ایک روز پاکستان میں تعینات اُس ملک کے سفیر نے نامزد سفیر قاضی خلیل اللہ سے طنزاً کہا ’’آپ کی بیوی امریکن تو نہیں‘‘ اس پر قاضی خلیل اللہ نے کہا کہ نہیں اس کا تعلق سندھ سے ہے۔اس خوفناک رپورٹ کے بعد بھی اُس عہدیدار کوسزا نہ ملی بلکہ اسے یورپ ڈیسک کا انچارج بنا دیا گیا۔دو برس پہلے ایک پاکستانی ہائی کمشنر نے غیرسفارتی آداب اپنائے، ایک فنکشن کو چار چاند لگائے،وزیر خارجہ نے صرف نوٹس لیا تو سیکرٹری خارجہ نے جنوبی امریکہ میں سفیر کے طور پراُس کے نام کی منظوری لے لی۔ اِن صاحب کو بھی کسی اور کی طرح گریڈ بیس میں ہوتے ہوئے گریڈ بائیس کی پوسٹ پر ایک یورپی ملک میں ہائی کمشنر تعینات کیا گیا۔ خواتین و حضرات! صرف دو سادہ سوال ہیں کہ کیا سفیر لگانے سے قبل جوائنٹ انٹیلی جنس کلیئرنس نہیں ہوتی؟ غلطی پر سزا کیوں نہیں ہوتی؟ طاہر حنفی یاد آ گئے کہ۔۔آنکھیں ترے مزاج کےسانچوں میں ڈھال کر۔۔بدلے میں لے کے آ گیا ہوں رتجگوں کی راکھ

اپنا تبصرہ بھیجیں