مذاکرات کی میز پر آ جاؤ یا پھر ۔۔۔۔ ترک صدر طیب اردگان نے کس ملک کو سنگین ترین دھمکی دے ڈالی؟ پوری دنیا میں ہلچل

انقرہ (ویب ڈیسک) مذاکرات کی میز پر آ جاؤ یا تلخ تجربات کے لیے تیار ہو جاؤ: ترک صدر کی یونان کو دھمکی۔ ترک صدر رجب طیب اردوان نے یونان کو متنبہ کیا ہے کہ وہ مشرقی بحیرہ روم کے تنازعے پر بات چیت کرے یا پھر اس کا خمیازہ بھگتنے کے لیے تیار ہو جائے۔ تفصیلات کے مطابق بحیرہ روم میں پائے

جانے والے قدرتی وسائل پر ترکی اور یونان کے درمیان حالات مسلسل بدتر ہوتے جا رہے ہیں۔برطانوی خبر رساں ادارے کے مطابق ترک صدر نے یونان کو مذاکرات یا تلخ نتائج میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنے کی دھمکی دے دی ہے۔ ڈیلی میل آنلائن کے مطابق ترک صدر رجب طیب اردوان نے یہ واضح طور پر کہہ دیا ہے کہ ترکی ‘ہر قسم کی صورت حال اور نتائج کے لیے تیار ہے’۔ نیوز رپورٹس کے مطابق استنبول میں ایک اسپتال کی افتتاحی تقریب میں ترک صدر نے یونان کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ یونانی حکام پر منحصر ہے کہ وہ سیاست اور سفارت کاری کی زبان کو سمجھتے ہیں یا پھر اس میدان میں دردناک تجربات کا انتخاب کرتے ہیں۔واضح رہے کہ ترکی نے فوجی دستے یونان کی سرحد پر تعینات کرنا شروع کردیے ہیں۔ عالمی میڈیا کے مطابق ترکی کے یونان کے ساتھ حالات مزید کشیدہ ہوگئے ہیں۔ متفرق خبروں میں بتایا گیا ہے کہ ترکی نے شام کے سرحدی علاقوں سے فوج واپس بلا کر یونان کی سرحد پر بھیجنا شروع کر دی ہے۔ ترک میڈیا کے مطابق یونان کی سرحد پر اس وقت 40 سے زائد ٹینک تعینات کیے جا رہے ہیں۔ترکی کے صدر رجب طیب ایردوان کا کہنا ہے کہ ترک عوام ہر طرح کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہے۔ اس حوالے سے ترک نائب صدر فوات اوکتے پہلے ہی خبردار کرچکے ہیں کہ اگر یونان نے اپنی سمندری حدود سے تجاوز کیا تو جنگ کے سوا کوئی دوسرا راستہ نہیں ہوگا۔ دوسری جانب ترکی نے شمال مغربی قبرص کے قریب بحیرہ روم میں دو ہفتوں کے لیے فوجی مشقوں کا اعلان کیا ہے۔ ترکی نے یہ اعلان ایک ایسے وقت میں کیا ہے جب بحیرہ روم میں پائے جانے والے قدرتی وسائل پر اس کی یونان سے کشیدگی بڑھ رہی ہے۔ عرب نیوز کے مطابق دونوں ممالک مشرقی بحیرہ روم میں فوجی مشقیں کر رہے ہیں جس سے خطے میں پہلے سے پائی جانے والی کشیدگی میں مزید اضافے کا خدشہ ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں