اقوام ِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں بھارت منہ کے بَل آن گرا، بڑا اعلان ہوگیا

اسلام آباد(نیوز ڈیسک ) اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں بھارت کو منہ کی کھانی پڑ گئی، سلامتی کونسل نے مسئلہ کشمیر کو ایجنڈے سے خارج کرنے کا بھارتی مطالبہ مستردکردیا،سلامتی کونسل کے ایک ممبر نے کہا کہ کوئی ریاست یکطرفہ ایجنڈا تبدیل نہیں کرسکتی۔سفارتی ذرائع کے مطابق بھارت کو سلامتی کونسل

میں شدید ہزیمت اور شکست کا سامنا کرنا پڑا۔سلامتی کونسل نے مسئلہ کشمیر کو ایجنڈے سے خارج کرنے کا بھارتی مطالبہ مستردکردیا ہے۔سلامتی کونسل کے ایک ممبر نے کہا کہ ایجنڈے سے کشمیر کا ایشو خارج کرنے کا بھارتی مطالبہ بے بنیاد ہے۔کوئی ریاست یکطرفہ ایجنڈا تبدیل نہیں کرسکتی۔مسئلہ کشمیر کے ایجنڈے کی تکمیل قواعدوضوابط کے مطابق کی گئی۔ایجنڈے کی تبدیلی 15 رکنی کونسل کی اتفاق رائے ہی کی جاسکتی ہے۔دوسری جانب آزاد جموں و کشمیر کے صدر سردار مسعود خان نے کہا ہے کہ مودی اور آر ایس ایس50 لاکھ ہندوئوں کو مقبوضہ کشمیر میں آباد کر کے مسلمانوں کو کشمیر سے دیس نکالا دینے اور کشمیر کا نام نقشہ سے مٹانے پر تل گئے ہیں۔ اٴْن کے اس شیطانی منصوبے کو ناکام بنانے کے لیے پاکستان اور آزاد کشمیر کے تیرہ کروڑ نوجوان اٴْٹھ کھڑے ہوں اور سیاست، سفارتکاری، ابلاغی محاذ اور اگر ضرورت پڑی تو عسکری محاذ پر بھارت کو شکست دے کر کشمیر کو بچائیں۔یہ بات انہوں نے ہفتہ کے روز یوم دفاع پاکستان کے حوالے سے یوتھ فورم فار کشمیر کے زیر اہتمام ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ سردار مسعود خان نے کہا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ پاکستان نے کشمیر کی آزادی کے لیے 1947ء ، 1948، 1965 اور 1971 کے علاوہ کارگل کی جنگیں کشمیر کو حاصل کرنے یا کشمیر کو بچانے کے لیے لڑیں اور اسی طرح آزاد کشمیر کے نوجوان بھی گزشتہ سات دہائیوں سے پاک فوج کا حصہ بن کر دفاع وطن میں اپنا کردار ادا کر رہے ہیں۔اٴْنہوں نے کہا کہ کل ہی 23 سال کے ایک نوجوان آرمی آفیسر نے جس کا تعلق مظفرآباد سے تھا اپنی جان کا نذرانہ پیش کر کے کشمیریوں کے پاکستان کے ساتھ اٹوٹ اور نہ ختم ہونے والے رشتے کی گواہی دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ لیفٹننٹ ناصر خالد کی شہادت نہ پہلی تھی نہ ہی آخری

ہے بلکہ اس راہ میں ہزاروں نوجوان شہادت پیش کر چکے اور ہزاروں اس کے منتظر ہیں۔یوتھ فورم سے تعلق رکھنے والے نوجوانوں سے براہ راست مخاطب ہو کر صدر سردار مسعود خان نے کہا کہ آپ آزاد فضا میں زندگی کی تمام آسائشوں سے لطف اندوز ہورہے ہیں اور یہ سب کچھ اس لیے ہے کہ اس خطہ کو آزاد کرانے کے لیے 1947 میں ہمارے بزرگوں نے جو اس وقت نوجوان تھے قربانیاں دیں اور ہمارے لیے آزادی کی فضا میں زندگی گزارنے کا موقع فراہم کیا۔آج لائن آف کنٹرول کے دوسری جانب غیر ملکی قبضہ کی وجہ سے ظلم و جبر کا نظام ہے جہاں کوئی بزرگ محفوظ ہے اور نہ ہی نوجوان اور بچہ۔ خواتین کی عزت و حرمت تار تار کی جار ہی ہے، نوجوانوں کو چٴْن چٴْن کر یا تو قتل کیا جار ہا ہے یا اٴْنہیں گرفتار کر کے جیلوں اور عقوبت خانوں میں بدترین تشدد کا نشانہ بنایا جا رہا ہے تاکہ وہ آزادی کا نعرہ ترک کر کے ہندوستان کی غلامی پر راضی ہو جائیں۔اِن حالات میں آزاد کشمیر اور پاکستان کے نوجوانوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے مقبوضہ کشمیر کے بھائیوں اور بہنوں کی مدد کے لیے آگے بڑھیں اور اٴْنہیں ظلم و جبر سے نجات دلانے کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔ صدر سردار مسعود خان نے کہا کہ ہمارے نوجوان یاد رکھیں کہ کسی اقوام متحدہ یا عالمی برادری نے کشمیر آپ کو طشتری میں رکھ کر پیش نہیں کرنا بلکہ ہمیں اپنی تحریک کو ویت نام کی تحریک آزادی اور جنوبی افریقہ کی نسل پرستی کے خلاف نیلسن منڈیلا کی طرز پر استوار کرنا ہے اور اقوام متحدہ اور عالمی برادری پر دباؤ بڑھا کر اٴْنہیں مسئلہ کشمیر حل کرنے پر مجبور کرنا ہے۔صدر سردار مسعود خان نے خبردار کیا کہ اگر عالمی برادری نے تنازعہ کشمیر کے حوالہ سے اپنی سرد مہری کا رویہ ترک نہ کیا اور اور بھارت کو مجبور کر کے ستر سال پرانا مسئلہ حل نہ کرایا تو اس خطہ کو جنگ کی ہولناکیوں سے کوئی نہیں بچا سکے گا۔ صدر آزاد کشمیر نے کہا کہ بھارت یہاں کے نوجوانوں کو مجبور نہ کرے کہ وہ سیاسی، سفارتی اور پر امن جدوجہد سے آگے بڑھ کر بندوق اپنے ہاتھ میں لے کر اپنے بھائیوں اور بہنوں پر ہونے والے ظلم کے خلاف شریک جدوجہد ہو جائیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں