بوریا بستر باندھ لو۔۔!!! سعودی عرب سے ہزاروں پاکستانیوں کو نوکریوں سے نکالنے کا فیصلہ

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)سعودی عرب کے نجی شعبوں میں کلیدی عہدوں پر 75 فیصد سعودیوں کو تعینات کرنے کا فیصلہ،سعودی میڈیا کے مطابق سعودی پارلیمنٹ کی جانب سے ایک قانون لایا جا رہا ہےجس میں نجی اداروں میں 75 فیصد کلیدی اسامیاں سعودیوں کے لیے مخصوص کر دی جائیں گی۔سعودی ممبران پارلیمنٹ کا کہنا ہے کہ مملکت میں

اس وقت لاکھوں افراد گریجویٹ، پوسٹ گریجوایٹ اور پی ایچ ڈی کی ڈگریاں لے کر بیکار بیٹھے ہیں۔ اس کے علاوہ غیر ملکی اعلی تعلیمی اداروں سے بھی ہر سال ہزاروں سٹوڈنٹس تعلیم مکمل کر کے سعودی عرب واپس آ رہے ہیں۔ان بے روزگاروں میں اچھے عہدوں کی ملازمتیں نہ ہونے پر مایوسی بڑھ رہی ہے جس کے باعث فیصلہ کیا گیا ہے کہ نجی شعبوں میں کلیدی عہدوں پر 75 فیصد سعودیوں کو تعینات کیا جائیگا۔مذکورہ فیصلے پر عملدرآمد کے بعدنجی اداروں میں بڑے عہدوں پر فائز مزید ہزاروں تارکین بھی نوکریوں سے فارغ ہو جائیں گے جن میں پاکستانیوں کی بھی بڑی تعداد شامل ہو گی۔دوسری جانب دنیا کی امیر ترین ریاست کویت کا خزانہ تیزی سے خالی ہوتا جا رہا ہے امریکی جریدے بلوم برگ نے اپنی حالیہ رپورٹ میں بتایا ہے کہ تیل کی دولت سے مالامال دنیا کی امیر ترین ریاستوں میں سے ایک کویت کا خزانہ تیزی سے خالی ہو رہا ہے جس سے صورتحال تیزی سے تبدیل ہو رہی ہے۔رپورٹ کے مطابق حال ہی میں مستعفی ہونے والے کویتی وزیرخزانہ بارک نے متنبہ کیا تھا کہ اکتوبر کے بعد ملک کے پاس تنخواہیں دینے کے لیے پیسے نہیں بچیں گے‘عالمی وبا کورونا وائرس کے باعث پیدا ہونے والی صورتحال اور قابل تجدید توانائی کے استعمال سے تیل کی طلب میں نمایاں کمی آئی ہے اس وجہ سے سعودی عرب سمیت تمام خلیجی ریاستیں شدید معاشی دباؤ میں ہیں اور خود کو تیل کی معیشت کے بعد کی دنیا کے لیے تیار کر رہی ہیں۔رپورٹ کے مطابق کویت کی آمدنی کا 90 فیصد حصہ ہائیڈرو کاربن پر انحصار کرتا ہے 80 فیصد کویتی ریاست کے ملازم ہیں جن کے اوسط ایک ماہ خرچ 2 ہزار ڈالر ہے تنخواہوں اور سبسڈیوں سے ریاست کے اخراجات کا تین چوتھائی حصہ بڑھ جاتا ہے اور تیل کی مانگ میں کمی کے باعث حکومت 2014 سے مسلسل خسارے کا سامنا کر رہی ہے۔کویت کی آبادی کا 70 فیصد حصہ غیر ملکی افراد پر مشتمل ہے یہ بل اس تعداد کو 30 فیصد تک لانے کا ارادہ رکھتا ہے بھارتی شہری کویت کی غیر ملکی کمیونٹی کا بڑا حصہ ہیں اور انھیں اس بل سے متاثر ہونے کا خدشہ سب سے زیادہ ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں