بریکنگ نیوز۔۔۔ دنیا بھر کے امن کو خطرے میں ڈال دینے والی تفصیلات

لاہور (ویب ڈیسک) گراں خواب چینی سنبھلنے لگے۔۔۔ہمالہ کے چشمے اُبلنے لگے۔۔۔چینیوں کے بارے میں علامہ اقبال نے جس زمانے میں یہ الفاظ لکھے تھے اس وقت تو شاید ہمالہ کے چشمے اتنے نہیں ابلے تھے جتنے ان کی وفات سے ایک دہائی بعد یا پھر آج ابل رہے ہیں۔ممالک و اقوام میں

حکمرانی کے مزے لینے والے صدور ہوں یا وزرائے اعظم، ہرگزرتے لمحے کے ساتھ آتے اور جاتے رہتے ہیں مگر تاریخ میں جس کو ولولہ انگیز قیادت کہا جاتا ہے وہ نرگس کے برسوں یا صدیوں رونے کے باوجود کبھی کبھی آتی ہے۔نامور کالم نگار افضل ریحان اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔کوئی شک نہیں کہ ماؤزے تنگ کو نہ صرف جدید چین کا بانی کہلوانے کا اعزاز حاصل ہے اگر تاریخ میں اسے ڈکٹیٹر کے نام سے یاد نہ بھی کیا جائے پھر بھی یہ تسلیم کرنے میں پس و پیش نہیں ہو گی کہ تمامتر عوامیت کے باوجود ماؤزے تنگ ایک وژنری لیڈر نہیں تھا۔دوسرا چینی لیڈر جس نے تاریخ میں ناقابل فراموش مقام بنایا اور جو کبھی ماؤزے تنگ کے انتقام اور مظالم کا نشانہ بھی بنا تھا، قدرت نے اس کے اندر قائدانہ صلاحیتوں اور عوامیت کے ساتھ ساتھ کس قدر وژن رکھا تھا یہ درویش اسے بجا طور پر جدید چائنہ کا حقیقی بانی یا معمار قرار دے سکتا ہے۔کمیونسٹوں کے اس ماڈریٹ مجدد کا نام ہے ڈنگ ژیاؤ پنگ۔ یہ وہ لیڈر تھا جس نے جدید چین کو نہ صرف یہ کہ کمیونزم کی خوفناک کرختگی سے نکالا بلکہ تعمیر و ترقی کی نئی شاہراؤں پر رواں دواں کر دیا۔ سوشلسٹوں کے روایتی جبر کا شکنجہ ڈھیلا کیا پڑا، چائنہ میں جمہوریت انسانی حقوق اور آزادی کے متوالوں نے سمجھ لیا کہ شاید اب نظریاتی جبر سے ہماری جان چھوٹنے ہی والی ہے اور جو سلوک ماؤزے تنگ کی بیوہ سمیت چار کے ٹولے سے ہوا ہے۔

ہمارے ساتھ وہ نہیں ہو گا، ان کا یہ نعرہ کہ ”روشنی کمیونزم کے علاوہ بھی موجود ہے“، بالآخر 1989ءکی ایک ظالم رات تیامن اسکوائر میں ان کے لئے بصورت برق پیام موت بن کر آیا۔ چینی نوجوانوں کے جواں جذبوں کو ان کے جسموں سمیت ٹینکوں تلے کچل دیا گیا۔عوامی جمہوریہ چین کی تیسری ولولہ انگیز عظیم قیادت موجودہ صدر شی جن پنگ XI Jinping کی صورت پوری دنیا کے سامنے نمودار ہوئی ہے۔ 15جون 1953ءکو پیدا ہونے والے شی زندگی کے بھرپور نشیب و فراز سے گزرنے کے بعد 15نومبر 2012ءکو چینی کمیونسٹ پارٹی کے سیکرٹری جنرل بنے اور بعد ازاں 14مارچ 2013ءکو صدر بنائے گئے۔ آپ پیپلز لبریشن آرمی کے کمانڈر انچیف بھی ہیں۔ آپ کے والد اگرچہ کامریڈ کی حیثیت سے چین کے نائب وزیراعظم رہ چکے ہیں اور زیر عتاب بھی رہے۔شی کو بھی ماقبل ماؤ کے ثقافتی انقلاب نے اور مابعد ڈنگ کے تیامن سکوائر سانحہ پر تنقید نے جھٹکے لگائے۔ نوجوانی میں حکمرانی کا ماحول دیکھنے کے علاوہ انہیں شامکسی صوبے میں 6 سال زراعت بھی کرنی پڑی اور غار میں کچھ عرصہ گزارنے کا تجربہ بھی ہوا۔سپاٹ چہرے والے چینی صدر بظاہر خاموش طبع ہیں لیکن اندر ہی اندر جتنا کام کر جاتے ہیں اس کی گواہی وزیراعظم نریندر مودی بھی دیں گے جن سے ان کی اب تک اٹھارہ ملاقاتیں ہو چکی ہیں۔ احمد نگر (گجرات) میں وہ ان کے ساتھ جھولے بھی جھول چکے ہیں مگر نتیجہ گلوان کی صورت سب کے سامنے ہے۔کیا کبھی کوئی سوچ سکتا تھا کہ نیپال جیسی دنیا کی واحد سابق ہندو ریاست

اور بھارتی اتحادی بھارت کی بجائے چینی نعرے لگائے گی۔ آج اگر وہ متنازعہ بھارتی علاقوں کو اپنے نقشوں میں دکھا رہی ہے تو اس میں اصل کرنٹ صدر شی جن پنگ کا ہے جنہوں نے نیپال کو ہمالہ کوریڈور منصوبے کی تجویز پیش کر رکھی ہے جس کے تحت تبت اور سنکیانگ روڈ سے ہوتے ہوئے نیپال کو براستہ قراقرم گوادر سے ملا دیا جائے گا۔ یوں اس کی سمندر تک رسائی میں بھارتی مجبوری ختم ہو جائے گی۔ یہی سہولت افغانستان کو بھی حاصل ہو جائے گی۔پچھلے دنوں چینی وزیر خارجہ کے ساتھ نیپال، افغانستان اور پاکستان کے ذمہ داران کی ویڈیو کانفرنس بھی منعقد ہو چکی ہے جس میں انہوں نے ٹرانس ہمالہ راہداری کی تعمیر اور سی پیک کو افغانستان تک توسیع دینے کی تجاویز پر بات کی۔ دوسری طرف زلمے خلیل زاد کے ذریعے امریکا یہ تجویز پیش کر رہا ہے کہ وہ سنٹرل ایشیا کے ممالک کو انڈیا سے ملانے کیلئے ریلوے ٹریک منصوبہ کی مالی معاونت کیلئے تیار ہے جو ازبکستان کو افغانستان اور پاکستان کے راستے انڈیا سے ملا دے گا۔پاکستان نے اس حوالے سے چین کو یقین دہانی کروائی ہے کہ وہ امریکی دباؤ میں نہیں آئے گا، البتہ افغانستان کو مطمئن رکھنے کیلئے اس نے انڈیا کے ساتھ افغان ٹرانزٹ ٹریڈ پر پابندی اٹھالی ہے اور افغانستان کے ساتھ تمام تجارتی راستے کھول دیئے ہیں کیونکہ افغانستان کے بغیر پاکستان بھی سنٹرل ایشیائی ممالک تک رسائی حاصل نہیں کر سکتا۔یہ رسائی خواہ انڈیا تک بھی بڑھتی ہے تو پاکستان کے مفاد میں ہے۔ نیپال کے حوالے سے یہ مودی سرکار کی بدقسمتی ہے کہ اس وقت نیپال میں ماؤ نواز کمیونسٹ قیادت برسر اقتدار ہے لیکن بنگلہ دیش میں تو یہ ایشو بھی نہیں ہے وہاں بنگلہ بندھو شیخ مجیب الرحمٰن کی سپتری شیخ حسینہ واجد قیادت کے سنگھاسن پر براجمان ہیں۔ مودی کو سوچنا چاہیےکہ آخر شیخ حسینہ صاحبہ ان سے کیوں نالاں ہیں؟

اپنا تبصرہ بھیجیں