ملک بھر کے میڈیکل و ڈینٹل کالجز میں داخلے کا طریقہ کار تبدیل، کون کون سے طلباء انٹری ٹیسٹ میں بیٹھ سکیں گے؟ اہم خبر جانیے

فیصل آباد (ویب ڈیسک) پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل نے ملک بھر کے میڈیکل و ڈینٹل کالجز میں داخلے کا طریقہ کار تبدیل کردیا۔ پی ایم ڈی سی کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق میڈیکل و ڈینٹل کالجز میں داخلے کے لیے ایف ایس سی پری میڈیکل یا اس کے مساوی تعلیم کے

حامل طلبا انٹری ٹیسٹ میں بیٹھ سکیں گے۔ اعلامیے میں بتایا گیا ہےکہ میٹرک کے 10 فیصد اور انٹر کے 40 فیصد نمبرہوں گے جب کہ انٹری ٹیسٹ کے نمبر 50 فیصد ہوں گے۔ اعلامیے کے مطابق انٹری ٹیسٹ کے لیے پاسنگ مارکس 60 فیصد سے کم کرکے 33 فیصد کردیے گئے ہیں، انٹر امتحانات میں 65 فیصد نمبر لینے والے طلبا میڈیکل و ڈینٹل کالجز میں داخلے لینے کے اہل ہوں گے۔ اعلامیے کے مطابق پرائیویٹ میڈیکل کالجز اپنے ہی صوبے کے طلبا کو داخلہ دینے کے پابند ہوں گے جب کہ دوسرے ملک کی شہریت یا دوہری شہریت کے حامل اور بیرون ملک مقیم طلبا داخلے کے اہل ہوں گے۔ دوسری جانب پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل نے ملک کے 10 میڈیکل کالجوں کی رجسٹریشن منسوخ کردی۔ پی ایم ڈی سی کی جانب سے جاری پبلک نوٹس میں کہا گیا ہے کہ رجسٹریشن منسوخ کیے گئے میڈیکل کالجوں کو آئندہ سال کے لیے داخلہ دینے سے بھی روک دیا گیا ہے اور میڈیکل کالجوں کے انسپیکشن تک ان کالجوں کی کوئی قانونی حیثیت نہیں۔ پبلک نوٹس میں مزید کہا گیا ہےکہ ان تمام کالجوں کو پاکستان میڈیکل کمیشن نے رجسٹریشن دی تھی اور اسلام ہائی کورٹ نے کالعدم قراردیا۔ پبلک نوٹس کے مطابق سندھ میں غیرقانونی اور رجسٹریشن منسوخی والے میڈیکل کالجوں میں کراچی کا ڈاؤڈینٹل کالج، فضائیہ روتھ فاؤ میڈیکل کالج، محمد میڈیکل کالج میرپورخاص، خیرپورمیڈیکل کالج، ایبٹ آباد انٹرنیشنل میڈیکل کالج، سوات میڈیکل کالج، شفا کالج آف ڈینٹسٹری تعمیر ملت اسلام آباد، عزا نائید ڈینٹل کالج لاہور، واتم میڈیکل کالج راولپنڈی اور راول انسٹیٹوٹ آف ہیلتھ سائسنز ڈینٹل سیکشن بھی شامل ہیں۔ پبلک نوٹس میں کہا گیا ہےکہ سال 19-2020 میں داخلہ لینے والے طلبا و طالبات رجسٹرڈ کالجوں میں خودکو ایڈجسٹ کریں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں