پاکستان نے 12 کلومیٹر سے گاڑی کو ڈیٹیکٹ کرنے والا ’’قومی ریڈار‘‘ بنالیا

اسلام آباد (ویب ڈیسک) پاکستان نے 12 کلومیٹر سے گاڑی کو ڈیٹیکٹ کرنے والا نیشنل راڈار بنا لیا۔ پاکستان کے انجنیئرز اور ماہرین نے ایک اہم سنگ میل عبور کیا ہے جب دیسی ساختہ اور ملکی پیدار پر منحصر ایسا راڈار بنا لیا جو 4 کلو میٹر سے ہر انسان کی اطلاع دیتا ہے

اور 12 کلومیٹر سے گاڑی کی اطلاع دیتا ہے۔ پاکستان کی وزارت دفاعی پیداوار نےانجینئرنگ اینڈ مکینکل انجینئرنگ اور NUST کے دیگر محکموں کے اشتراک سے GSR کی مکمل طور پر ملکی پیداوار کے لئے ایک ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ پروجیکٹ کا آغاز کیا۔ آر اینڈ ڈی کے لئے مجموعی طور پر 39 ملین روپے رکھے گئے تھے۔ اس منصوبے پر 20 سے زائد پی ایچ ڈی طلباء کے ساتھ ابتدائی نظریاتی کام ایک سال کے اندر مکمل ہو گیا تھا۔ یہ منصوبہ اتنا کامیاب تھا کہ AESA اور PESA ٹیکنالوجیز پاکستان کی اپنی مہارت اور وسائل میں قابل تصور تھیں۔ پروٹوٹائپ جی ایس آر کی مزید ترقی اور عمارت کے بارے میں تحقیق NUST / EME میں جاری ہے،یہ منصوبہ 2006 میں شروع کیا گیا تھا اور اس کا نام “قومی راڈار” یا این آر رکھا گیا تھا۔یہ انسانی موجودگی 4 کلومیٹر اور گاڑی کو 12 کلومیٹر سے ڈیٹیکٹ کر لیتا ہے ۔ اس راڈار کےگذشتہ برسوں میں 3 ورژن بنائے اور تجربہ کیے گئے اور 2014 میں پاکستان کی وزارت دفاعی پیداوار نے حتمی پروٹو ٹائپ NR-V3 کو پیداوار کے لئے قبول کیا تھا۔

پاکستان نے 12 کلومیٹر سے گاڑی کو ڈیٹیکٹ کرنے والا ’’قومی ریڈار‘‘ بنالیا” ایک تبصرہ

اپنا تبصرہ بھیجیں