مودی کا ایک اور مسلم دشمن اقدام۔!! مقبوضہ کشمیر میں ’’اردو زبان‘‘ کی سرکاری حیثیت ختم

سرینگر (ویب ڈیسک) مودی سرکار باز نہ آئی۔ مودی حکومت نے ایک اور مسلم دشمن اقدام کرتے ہوئے کشمیری مسلمانوں کی زبان اردو کو سرکاری زبانوں سے خارج کر دیا۔ بھارتی حکومت کے اس فیصلے سے کشمیر میں 131 سال سے بولی جانے والی اردو زبان کا وجود خطرے میں پڑ گیا ۔

مقبوضہ کشمیر میں اردو، انگلش، ہندی، کشمیری اور ڈوگری زبان کو سرکاری حیثیت حاصل تھی۔ دوسری جانب وزیر اعظم نریندر مودی نے بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں رہائش اختیار کرنے سے متعلق قوانین میں سات عشروں سے بھی زائد عرصے میں پہلی بار تبدیلی کر دی ہے۔ گزشتہ برس انہوں نے جموں کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت بھی ختم کر دی تھی۔ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کی ہندو قوم پرست حکومت مشرق وسطیٰ میں فلسطینی علاقوں میں اسرائیلی آبادکاری کے سے انداز میں ریاست جموں و کشمیر کے معاشرتی طبقات کی شناخت اور آبادی کی ہیئت تبدیلی کے منصوبے پر عمل پیرا ہے۔ مودی حکومت نے پانچ اگست سن 2019 کے روز بھارت کے زیر انتظام جموں کشمیر کی خصوصی نیم خود مختار شناخت بھی ملکی دستور میں ترمیم کر کے ختم کر دی تھی۔ اس ترمیم سے کشمیر کے جھنڈے اور علیحدہ آئین سمیت دوسرے حقوق بھی ختم ہو گئے تھے۔ بھارت کے زیر انتظام کشمیر مسلم اکثریتی آبادی والا علاقہ ہے۔ اس میں قریب پینسٹھ فیصد مسلمان ہیں اور مزاحمتی تحریک والے علاقوں میں مسلم آبادی کا تناسب تقریباً سو فیصد ہے۔ نریندر مودی کی بھارتیہ جنتا پارٹی کی سخت گیر اساسی جماعت راشٹریہ سوائم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) برسوں سے کشمیر کے زمینی حقائق تبدیل کرنے کی وکالت جاری رکھے ہوئے ہے۔ ایسا دکھائی دیتا ہے کہ آر ایس ایس کا دیرینہ پلان اب تکمیل کے قریب ہے۔ کشمیر میں مستقل رہائش اختیار کرنے کے قوانین سن 1927 میں لاگو ہوئے تھے۔ انہی قوانین کے تحت مقامی آبادی کو جائیداد کی خرید و فروخت، حکومتی محکموں میں ملازمت کے مواقع، یونیورسٹی میں داخلے اور بلدیاتی انتخابات میں حق رائے دہی جیسے حقوق حاصل ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں