’’کچھ عرب ممالک اور اسرائیل مل کر گوادر کو نشانہ بنانے کی تیاری کر رہے ہیں۔‘‘ برادر اسلامی ملک نے پاکستان کو پیشگی آگاہ کردیا

اسلام آباد (ویب ڈیسک) برادراسلامی ملک ترکی نے پاکستان کوخبردارکیاہے کہ پاکستان، ایران اور چین پر نظر رکھنے کے لئے اسرائیل کا یمن میں انٹیلی جنس مرکز قائم کرنے کا فیصلہ کیاہے۔اس سلسلے میںیو اے ای اور سعودی عرب نے یمن کے جزیرے سوکوترہ میں انٹیلی جنس سینٹر قائم کرنے کی اجازت دے دی ہے۔

یہ جزیرہ یمن کاتھاجس میں پہلے سعودی عرب کے حمایتی گروپ کی حکومت تھی بعد میں متحدہ عرب امارات نےاس جزیرے پرقبضہ کرلیا۔ اسرائیل سی پیک کونشانہ بناناچاہتاہے۔مقامی قبائل کے مطابق سعودی عرب کی مرضی سے فوجی اڈہ قائم ہونےجارہاہےجس کی وجہ سے مقامی قبائل نے اس فیصلے کو ماننے سے انکار کر دیااورسعودی فوج کوعلاقے سے نکالنےکی دھمکی دیدی۔ دوسری جانب متحدہ عرب امارات کو اسرائیلی خفیہ اداروں کا بیس کیمپ بنایا جائے گا،یواے ای اور اسرائیل کا معاہدہ محض سفارتی تعلقات کی بحالی یامحض تسلیم کرنا نہیں،بلکہ گوادر پورٹ اور سی پیک کیخلاف یہ نیا کھیل کھیلا جا رہا ہے،پاکستان ،چین، ایران کوشدید تحفظات ہیں۔سینئر تجزیہ صابر شاکر نے اپنے تبصرے میں کہا کہ پاکستان نے سعودی عرب کے سامنے 4،6باتیں رکھیں، آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ دورہ سعودی عرب سے واپس آگئے ہیں۔ سعودی عرب سے متعلق وزیراعظم عمران خان کابھی اپنا مئوقف سامنے آگیا ہے۔آرمی چیف اور ڈی جی آئی ایس آئی کے دورے کچھ نتائج برآمد ہوئے ہیں،آرمی چیف اور ڈی جی آئی ایس آئی نے کافی وقت گزارا، ہر کوئی اپنے نقطہ نظر سے دیکھ رہے ہیں۔ انتہائی باوثوق ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان کیلئے دورہ سعودی عرب مفید رہا، پاکستان اپنی بات پر قائم رہا، اور اپنی بات منوائی، متحدہ عرب امارات اور اسرائیل کا معاہدہ ہوچکا ہے، موساد کے چیف یو اے ای پہنچ چکے ہیں، اب شکوک وشبہات کھل کر سامنے آرہے ہیں، یواے ای اور اسرائیل کا معاہدہ محض سفارتی تعلقات کی بحالی یامحض تسلیم کرنا نہیں، بلکہ یواے ای اسرائیل کے خفیہ اداروں کا بیس کیمپ بنے گا۔ یہاں سے کچھ اور کیا جائے گا، اس سے پاکستان، چین، ایران، شدید تحفظات ہیں۔ گوادر پورٹ اور سی پیک کیخلاف یہ نیا کھیل کھیلا جا رہا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں