واہ ری جمہوریت! ن لیگ اور پی پی پی کی اربوں کی کرپشن جائز قرار،تمام اعتراضات ختم،تحریک انصاف خاموش تماشائی کیوں بن گئی؟ تہلکہ انگیز انکشاف

اسلام آباد(ویب ڈیسک ) پاکستان پیپلزپارٹی اور پاکستان مسلم لیگ(ن) کی مک مکاؤ اور کرپشن بچاؤ اتحاد کی عملی شکل پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں کھل کر سامنے آگئی جب پی اے سی کے سربراہ اور ن لیگ کے اہم رہنما رانا تنویر نے پیپلزپارٹی دور حکومت میں آبی وسائل کے نام پر اربوں روپے کی لوٹ مار بارے درجنوں آڈٹ

اعتراضات نمٹا دئیے جبکہ اجلاس میں آزاد میڈیا کو کوریج کرنے سے روک دیا گیا۔ پیپلزپارٹی دور حکومت میں مالی سال 2012-13 کے دوران آبی وسائل کے نام پر اربوں روپے کی لوٹ مار ہوئی تھی اور اربوں روپے کی کرپشن کے سکینڈل سامنے آئے تھے لیکن مسلم لیگ ن اور پی پی پی کے مابین کرپشن بچاؤ اتحاد کے تحت یہ کرپشن سکینڈل قانونی جواز کے تحت ختم کر دئیے گئے اور کرپشن کو جائز قرار دے دیا گیا۔ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اند اربوں روپے کی کرپشن اور بددیانتی بارے سابق سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق پہلے ہی احتجاج ریکارڈ کرا چکے ہیں۔ پی اے سی کا اہم اجلاس چیرمین کمیٹی رانا تنویر کی صدارت میں منگل کے روز پارلیمنٹ ہاؤس میں ہوا جس میں وزارت آبی وسائل مالی سال 2012-13 میں اربوں روپے کے آڈٹ اعتراضات کا جائزہ لینا تھا تاہم پی اے سی نے آزاد میڈیا کو اس اہم اجلاس کی کوریج سے روک دیا ہے۔ پی اے سی کے اندرونی ذرائع نے بتایا کہ اجلاس میں مالی سال 2012-13 میں آبی وسائل کی وزارت میں اربوں روپے کی کرپشن ہوئی ہے، کرپشن سکینڈل میں کچھی کنال کرپشن سکینڈل، منگلا ڈیم ایکسٹینشن کرپشن سکینڈل، تربیلا ڈیم کرپشن سکینڈل، بھاشا ڈیم کرپشن سکینڈل، دادو ڈیم کرپشن سکینڈل، حب ڈیم کرپشن سکینڈل، فلٹر کنٹرول کرپشن سکینڈل اور وزارت کے اندر افسران کی لوٹ مار کا کرپشن سکینڈل شامل تھے جو (ن) لیگ کی کی پیپلزپارٹی سے مک مکاؤ کی پالیسی کے تحت تمام سکینڈل کو قانونی جواز بنا کر نمٹا دئیے گئے ہیں۔ یار رہے کہ جب پیپلزپارٹی کے پاس پی اے سی کے چئیرمین شپ تھی تو ن لیگ کے اربوں روپے کی کرپشن کے آڈٹ اعتراضات نمٹائے گئے تھے۔ آبی وسائل وزارت کے انچارج وزیر پی ٹی آئی کے رہنما فیصل واوڈا ہیں جبکہ وفاقی سیکرٹری محمد اشرف ہیں۔ آڈیٹر جنرل جاوید جہانگیر نے آبی وسائل وزارت میں اربوں روپے کی لوٹ مار کی رپورٹ پی اے سی اجلاس میں پیش کی لیکن ن لیگ اور پی پی پی کے اتحاد نے اس رپورٹ کو غلط ثابت کیا جبکہ حکمران جماعت پی ٹی اے کے رہنما خاموشی کے ساتھ منہ تکتے رہ گئے کیونکہ پی ٹی آئی کے ممبران بھی ماضی میں ن لیگ اور پی پی پی کے ساتھ منسلک رہے ہیں اور جب آبی وسائل میں کرپشن کی گئی تھی اس وقت پی ٹی آئی کے یہ ممبران انہی جماعتوں کا حصہ تھے جن میں راجہ ریاض، ریاض فتیانہ وغیرہ شامل ہیں۔ پی اے سی کے اجلاس کی کوریج سے روکنے پر صحافیوں نے شدید احتجاج کیا اور مطالبہ کیا کہ ہمارا آئینی حق ہے نہ روکا جائے۔ قومی اسمبلی کے ڈی جی میڈیا نے صحافیوں سے کہا کہ رات کو پی اے سی کے چئیرمین نے حکم دیا تھا کہ آزاد میڈیا کو کوریج سے روکا جائے جس کے بعد ہم نے کوریج کو روکا ہے اس پر ہم بے بس ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں