پاکستان جو سوچ لے وہ کر کے ہی رہتا ہے حقائق سامنے آتے ہی ٹرمپ انتظامیہ بھی چکرا کر رہ گئی

کراچی (نیوز ڈیسک) سابق ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹننٹ جنرل(ر) اسد درانی نے ایک ویب ٹی وی کو انٹرویو کے دوران بتایا کہ امریکہ کو افغانستان سے نکال باہر کرنے کا فیصلہ پاکستان 10 سال پہلے کر چکا تھا۔ مگر آخر میں جو کچھ ہوا اس میں پاکستان کا کردار بہت کم رہا ہے۔انہوں نے کہا

کہ مسئلہ افغان لوگوں کا ہے کہ وہ فیصلہ کریں کہ مستقبل میں ان پر حکمرانی کون کرے گا یا وہ کس کو اپنا سربراہ تسلیم کرتے ہیں۔لیفٹننٹ جنرل(ر) اسد درانی نے کہا کہ پاکستان یہ 10 سال پہلے جانتا تھا کہ آخرکار افغان امن کے لیے امریکہ کو افغانستان سے باہر نکلنا ہوگا۔ مگر موجودہ صورتحال میں بطور ایک ملک پاکستان کا کردار بہت کم ہے۔انہوں نے کہا افغانستان پر حکومت کے خواہشمند افغان طالبان کے علاوہ دیگر کھلاڑیوں جیسے عبد اللہ عبد اللہ ، اور دیگر مقامی رہنماؤں کے بھی مستقبل کا سوال ہے۔ مگر اشرف غنی کا افغان سیاست میں کوئی مستقبل نہیں کیونکہ انہیں مسلط کرنے میں غیر ملکی ہاتھوں کا کردار ہے۔انہوں نے کہا کہ اس کے لیے مقامی رہنماؤں میں سخت مذاکرات ہوں گے اور اس کے بعد مستقبل کی منتقلی کا فیصلہ کیا جائے گا۔سابق ڈی جی آئی ایس آئی نے امریکہ کی افغان امن کے لیے جدوجہد پر کہنا تھا کہ امریکہ ہر سال بے کار افغان فوج پر اربوں ڈالر ضائع کر رہا ہے۔ انہوں نے یہ بھی انکشاف کیا کہ امریکہ ہر سال طالبان کو500 ملین ڈالر دے رہا ہے۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ چونکہ اب طالبان نیٹو جیسی طاقت کو ئی زیر کر چکے ہیں اس لیے اب طالبان کو روک پانا ناممکن ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں