اہلِ اسلام کے دل دُکھ گئے

پیرس (ویب ڈیسک) فرانس گستاخوں کی سرپرستی کرنے لگا، فرانسیسی صدر نے گستاخانہ خاکوں کی مذمت کرنے سے انکار کر دیا۔ خبر رساں ادارے رائیٹرز کے مطابق فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے کہا کہ ہمیں آزادی اظہار رائے کا حق ہے، جمہوریہ کے کسی صدر کو یہ مقام حاصل نہیں ہوتا کہ

وہ صحافی یا نیوز روم کے ادارتی انتخاب کے بارے میں فیصلہ دے لیکن میکرون نے لبنان کے دورے کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ فرانسیسی شہریوں پر لازم ہے کہ وہ ایک دوسرے کے ساتھ شرافت اور احترام کا مظاہرہ کریں اور “نفرت انگیز گفتگو” سے اجتناب کریں۔ واضح رہے کہ فرانسیسی میگزین چارلی ہیبدو نے ایک مرتبہ پھر حضرت محمدﷺ سے متعلق گستاخانہ خاکے شائع کرنے کا شرمناک اعلان کیا ہے۔ میگزین کے دفتر پر ہوئے حملے میں ملوث ملزمان کے ٹرائل کے آغاز سے قبل دوبارہ گستاخانہ خاکے شائع کر کے کروڑوں مسلمانوں کے جذبات مجروح کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ پاکستان سمیت دنیا بھر کے مسلم ممالک کی جانب سے اس اقدام کی شدید مذمت کی گئی۔ رپورٹ کے مطابق 2015ء میں گستاخانہ خاکے شائع کرنے کے اقدام کے بعد میگزین کے دفتر پر ہوئے حملے میں ملوث ملزمان کا ٹرائل شروع کرنے کی تیاریاں کی جا رہی ہیں، ایسے میں فرانسیسی میگزین چارلی ہیبدو نے اعلان کیا ہے کہ حضرت محمدﷺ سے متعلق گستاخانہ خاکے دوبارہ سے شائع کیے جائیں گے۔ پاکستان نے فرانسیسی جریدے کی جانب سے گستاخانہ خاکے دوبارہ شائع کرنے کے فیصلے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔دفتر خارجہ سے جاری بیان کے مطابق ‘پاکستان، فرانسیسی جریدے چارلی ہیبڈو کے گستاخانہ خاکے دوبارہ شائع کرنے کے فیصلے کی شدید مذمت کرتا ہے۔’ بیان میں کہا گیا کہ ‘دنیا بھر کے اربوں مسلمانوں کے جذبات مجروح کرنے کے لیے جان بوجھ کر کیے جانے والے اس اقدام کا آزادی اظہار یا آزادی صحافت کا نام دے کر کوئی جواز پیش نہیں کیا جاسکتا۔’ ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ ‘اس طرح کی حرکت سے پرامن بقائے باہمی کے ساتھ ساتھ سماجی اور بین المذاہب ہم آہنگی کی عالمی خواہشات کو نقصان پہنچتا ہے۔’واضح رہے کہ ‘چارلی ہیبڈو’ نے گستاخانہ خاکے دوبارہ شائع کرنے کا اعلان کیا تھا۔ چارلی ہیبڈو کو پہلی مرتبہ اس وقت شہرت ملی جب اس نے ڈنمارک کے روزنامہ جے لینڈز-پوسٹان میں فروری 2006 میں شائع ہونے والے گستاخانہ خاکے شائع کیے، بعد ازاں چارلی ہیبڈو نے 2011 میں ایک بار پھر گستاخانہ خاکوں کی اشاعت کی۔ فرانسیسی جریدے میں پیغمبر اسلام نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے گستاخانہ خاکے شائع ہونے پر دنیا بھر میں احتجاج سامنے آیا تھا جبکہ اس کے بعد رسالے کے دفتر پر آتش گیر مادے سے حملہ بھی ہوا تھا البتہ اس میں کسی قسم کا نقصان نہیں ہوا تھا۔

اہلِ اسلام کے دل دُکھ گئے” ایک تبصرہ

اپنا تبصرہ بھیجیں