عمران خان چھوڑو یہ کرکٹ کوئی وزیر بنو ۔۔۔!!! وہ وقت جب صدر جنرل ضیا الحق نے عمران خان کو وزارت کی پیشکش کی لیکن کیا کہہ کر کپتان نے یہ پیشکش ٹھکرائی؟ جان کرآپ کو بھی فخر ہوگا‎

اسلام آباد (ویب ڈیسک) اسٹیبلشمنٹ نے عمران خان کی طرف 80کی دھائی میں اس وقت دیکھا جب کرکٹ کیریئر کے عروج پرتھے۔عمران خان کو اس وقت کے صدر جنرل ضیا الحق نے اپنے پاس بلایااور انہیں وزرات کی پیشکش کی۔روزنامہ جنگ میں شائع اپنے کالم میں مظہرعباس نے لکھا ہے کہ ۔۔۔ اس پیشکش پر “عمران خان نے شائستگی کے ساتھ یہ کہہ کر پیشکش ٹھکرا دی

کہ وہ اپناکرکٹ کیریئر سے لطف اندوزہو رہے ہیں۔لیکن عمران خان اس کے بعد بھی مختلف وجوہات کی بنا پر اسٹیبلشمنٹ کے راڈارپررہے،اس کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ اس وقت کا ڈکٹیٹرایک ایسی غیرسیاسی اور ٹیکنوکریٹس پرمشتمل ٹیم بنانے کی کوشش میں تھا جو نظریاتی سیایست کوکاؤنٹر کرسکے۔جو بھٹو اور اینٹی بھٹو نظریات پرچل رہی تھی۔ضیا نے عمران خان سے مایوس ہو کر بے نظیر بھٹواورپیپلزپارٹی جو اس وقت بھٹو کی پھانسی کے بعد بھی پنجاب میں مضبوط تھی کو کاؤنٹر کرنے کیلئے شریف برادران کوتلاش کیا۔بھٹو کی پھانسی کے تقریباً 25 سال بعد 1996 میں عمران خان نے سیاست کاآغازکیا۔لیکن عمران خان کی نئی پارٹی پاکستان تحریک انصاف 1997 کے انتخابات میں کوئی بھی نشست نہجیت سکی۔جبکہ پی ٹی آئی نے 2002کے انتخابات میں صرف ایک سیٹ حاصل کی۔جبکہ پارٹی نے 2013 کے بعد پیچھے مڑ کرنہیں دیکھااور25 جولائی کو یوم تشکر جبکہ اپوزیشن نے عمران خان کو سلیکٹڈ سمجھتے ہوئے انتخابات کوغیرشفاف قراردیاور یوم سیاہ منایا۔2013 کے انتخابات کے بعد عمران خان نے بھی اسی طرح کے الزامات لگاتے ہوئے کہاتھاکہ شریف برادران پہلے سے کیسے نتیجہ جانتے تھے۔لیکن عمران خان نے کبھی بھی لفظ سلیکٹڈ استعمال نہیں کیا جبکہ یہ لفظ ان کیلئے استعمال ہورہاہے۔عمران خان کی حکومت کاپہلا سال کامیابیوں اورناکامیوں پرمشتمل ہے، فارن پالیسی میں ایک کامیاب کہانی بیان کرتی ہے جبکہ معاشی پالیسیاں اور تیزی سے بڑھتی ہوئی قیمتیں، ملک میں اختلافی آوازوں کودبانا حکومت کی ناکامیاں سمجھے جاسکتے ہیں۔پی ٹی آئی حکومت کو اس وقت اپوزیشن کے سخت چیلنج کاسامنا ہے جو اپوزیشن کامتحدہ بیانیہ دینے کی کوشش میں ہے۔جبکہ یہ بات دلچسپ ہوگی کہ قومی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان عمران خان ان کے پسندیدہ کیسے بنتے ہیں جن کے ملک کیساتھ معاملات ہیں، اور کس طرح روایتی سیاست کابدل بنتے ہیں۔لیکن عمران خان خود احتساب کے عمل کواپنی سب سے بڑی کامیابی سمجھتے ہیں۔کیونکہ انہیں یقین ہے کہ احتساب کے عمل نے نوازشریف اورزرداری جیسے سیاسی مخالفین کیخلاف کارروائی کی راہ ہموارکی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں