سندھ میں غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ از خونوٹس کیس کی سماعت، چیف جسٹس حکومت پربرس پڑے

اسلام آباد (آن لائن)سندھ میں غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ کیخلاف از خود نوٹس کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس گلزار احمد نے کے الیکٹرک اور پاور ڈویژن کی کارکردگی پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ریمارکس دئیے ہیں کہ 2015 سے کے الیکٹرک نے ایک روپیہ حکومت کو نہیں دیا۔ کے الیکٹرک عوام کوبجلی اور حکومت کو پیسے نہیں دیتی،

خواہ مخواہ کہا جاتا ہے کراچی معیشت کا 70 فیصد دیتا ہے،کراچی پہلے 60 سے ستر فیصد ریونیو دیتا تھا اب اس کے پاس کچھ نہیں,شہر کی دیکھ بھال کا ذمہ حکومت کا ہے,ہمیں علم ہے کہ کراچی کہ کراچی کے کرتے دھرتے کچھ نہیں کرینگے۔شہریوں کے منہ سے نوالا بھی چھین لیا جاتا ہے۔کراچی کے پاس دینے کے لیے اب کچھ نہیں،کراچی میں اربوں روپے جاری ہوئے تاہم خرچ کچھ نہیں ہوا،کراچی والوں کے بیرون ملک اکاؤنٹ فعال ہوچکے ہیں،کراچی میں مال بنانے کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے،پہلے ہی اربوں روپے بیرون ملک جاچکے ہیں،وفاقی حکومت کی آخر رٹ کہاں ہے؟4 سال میئر رہنے والے نے ایک نالی تک نہیں بنائی ،ہم نے جس دن سے نوٹس لیا ہے شہر کی حالت مزید خراب ہو گئی ہے, شہر سے باقی سارا جوس نکال لیا ہے جو چند قطرے بچے ہیں وہ بھی نکال رہے ہیں، پاور ڈویژن والے لکیر کے فقیر ہیں۔ جواب تیار کرتے وقت اپنا دماغ تک استعمال نہیں کیا, تمام حکومتی ادرے کے الیکٹرک کی معاونت کے لئے ہیں, پاور ڈویڑن کی رپورٹ کو ریکارڈ کا حصہ بنائیں گے۔سیکرٹری پاور ڈویژن اپنی سمت درست کریں۔ کے الیکٹرک کے مسائل حل کرنے کے لئے ون ونڈو آپریشن کیوں نہیں۔ کراچی کا ایسا کوئی علاقہ نہیں جہاں شہری سکون سے رہ سکیں۔

حکومت کو بے بس کیا جارہا ہے کیونکہ اس کے پاس اہلیت نہیں،پاور سیکٹر کے پاس کام کرنے کا دم نہیں،ملک میں پیٹرول کا بڑا سکینڈل آیا ،ملکی معیشت تباہی کے دہانے پر آگئی،دس روز تک ملک مکمل بند رہا۔ حکومت کہ رہی ہے معاملے پر کمیشن بنا دیا کمیشن کا کیا فائدہ جس نے کام کرنا تھا وہ کر گیا، حکومتی معاملات سمجھ سے باہر ہیں۔از خود نوٹس کیس چیف جسٹس کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے کی۔ دوران سماعت اٹارنی جنرل نے موقف اپنایا کہ اور ڈویژن کا جواب واپس لیتا ہوں نیا جواب جمع کرائینگے۔کے الیکٹرک کے پاس پیداواری صلاحیت نہیں تو پھر بجلی پیداوار کا خصوصی اختیار ختم ہو جاتا ہے۔جب کے الیکٹرک نے معاہدہ کیا تھا تب بھی شہر کی صورتحال ایسی تھی۔جسٹس اعجازالاحسن نے ریمارکس دئیے کہ کراچی کے شہری اس وقت کے الیکٹرک کے ہاتھوں یرغمال بنے ہوئے ہیں, کے الیکٹرک والے اسٹے آرڈر لے کر پانچ سال تک بیٹھے رہتے ہیں, زبانی کلامی کچھ نہیں ہوگا ، ادارے مل بیٹھ کر کوئی حل نکالیں،سانپ نکل گیا ہے اور آپ لکیر پیٹ رہے ہیں۔وکیل کے الیکٹرک نے ایک موقع پر عدالت کو بتایا کہ کے

الیکٹرک شہر میں 2900میگا واٹ بجلی سپلائی کررہا ہے۔عدالت عظمیٰ نے اس موقع پرنیپرا قانون کے سیکشن 26 پر عملدرآمد کا حکم دیتے ہوئے قرار دیا کہ اب سیکشن 26 کے اختیار کے استعمال پر کوئی عدالت حکم امتناع نہیں دے سکے گی ،قانون کے تحت نیپرا کو عوامی سماعت کرکے فیصلے کا اختیار ہے۔ نیپرا قانون کے مطابق کے الیکٹرک کے کراچی میں بجلی سپلائی کے خصوصی اختیار کا فیصلہ کرے، عدالت عظمیٰ نے اس موقع پر دس دن میں نیپرا ٹربیونل کے ممبران تعینات کرنے کا حکم دیتے ہوئے کے الیکٹرک کیخلاف نیپرا اقدامات پر جاری شدہ حکم امتناع بھی خارج قرار دیتے ہوئے نیپرا کو کارروائی پر مبنی پیش رفت رپورٹ جمع کرنے کا حکم دیتے ہوئے معاملے کی سماعت چار ہفتوں تک کے لئے ملتوی کر دی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں