کرپشن کی سزا، سعودی شاہی خاندان کی اہم شخصیات کی قسمت کا فیصلہ ہوگیا، پروانہ جاری

ریاض(نیوز ڈیسک ) سعودی حکومت نے سعودی عرب کی مشترکہ افواج کےکمانڈر کوکرپشن کے الزامات کے باعث عہدے سے ہٹا دیا ہے۔ ایک شاہی فرمان کے تحت سعودی عرب کی مسلح افواج کے کمانڈر سمیت متعدد اہم عسکری عہدیدران کو ان کے عہدوں سے ہٹا دیا گیا ہے۔العربیہ نیوز کے مطابق کے

مطابق برخاست کیے جانے والے عہدیداروں میں مملکت کی مشترکہ فوج کے کمانڈراور الجوف ریجن کے ڈپٹی گورنر شامل ہیں۔مشترکہ فوج کے کمان دار فھد بن ترکی بن عبدالعزیز اور الجوف ریجن کے نائب شہزادہ عبدالعزیز بن فھد بن ترکی بن عبدالعزیز عہدوں سے ہٹائے جانے کے بعد ان کے مقدمے بدعنوانی کے تحقیقات کے لئے متعلقہ اداروں کے سپرد کر دیے گئے ہیں۔ان دونوں شخصیات کا تعلق سعودی شاہی خاندان سے ہے ۔دونوں حکام کے خلاف فیصلہ وزارت دفاع کے معاملات میں کرپشن سے متعلق اطلاعات سامنے آنے پر اٹھایا گیا۔شاہی فرمان کے تحت وزارت دفاع کے متعدد دوسرے فوجی اور سول عہدیداروں کو بھی کرپشن سے متعلق مقدمات کی تحقیق کی خاطر ان کے کیسز عدلیہ کے سپرد کر دیے گئے ہیں۔سرکاری محکموں میں کرپشن کے خلاف کارروائی کا یہ تازہ مرحلہ ہے۔اکیس اگست کو مملکت کے جنوب مشرقی العلا سیاحتی منصوبے، بحیرہ احمر میگا پراجیکٹ اور سعودہ ڈیوپلمنٹ کمپنی کو کرپشن کے شبہے میں متعدد سرکاری حکام کو ان کے عہدوں سے الگ کر دیا گیا تھا۔ گذشتہ برس فروری میں سعودی عرب میں سرکاری مصارف کے استعمال کی نگرانی کے لیے ایک ادارہ قائم کیا تھا۔ اس ادارے کا مینڈیٹ ملک سے کرپشن کا خاتمہ تھا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں