بریکنگ نیوز: ’’نوازشریف کو سرنڈر کرنا ہوگا، اگر ایسا نہ کیا گیا تو پھر۔۔‘‘چیف جسٹس کے دبنگ ریمارکس نے قوم کے دل جیت لیے

اسلام آباد (ویب ڈیسک) اسلام آباد ہائیکورٹ میں ایون فیلڈ ریفرنس پر نواز شریف کی سزا کے خلاف اپیل پر سماعت ہوئی۔اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس عامر فاروق اور جسٹس محسن کیانی نے سماعت کی،دوران سماعت جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ نواز شریف ضمانت پر نہیں اب بتائیں آگے کیا ہونا ہے ؟

جس پر خواجہ حارث بے کہا کہ نواز شریف کو آپ مفرور بھی قرار دے دیں تو پھر بھی اپیل کا فیصلہ تو کرنا ہے،پہلا تاثر یہی بن رہا کہ۔نواز شریف مفرور ہیں، جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا کہ نواز شریف کو ضمانت کے ہمارے فیصلے پر عمل درآمد کے لیے پہلے سرنڈر کرنا ہوگا، اگر سرنڈر نہیں کرتے تو اس کے نتائج ہونگے تین سال کی سزا ہوسکتی ہے،یہ ایک جرم ہے کہ آپ عدالتی سماعت میں پیش نہیں ہوتے،عدالت نیا کیس شروع کر سکتی ہے اور سزا3 سال تک سزا سنا سکتی ہے،نواز شریف کو پہلے کورٹ میں پیش ہونا ہے اس کے بعد اپیلوں پر سماعت آگے بڑھے گی، خواجہ حارث نے کہا کہ پنجاب حکومت کا فیصلہ ہم نے چیلنج نہیں کیا، نواز شریف کو بتانا پڑے گا کہ وہ کہیں کہ وہ واپس آرہے ہیں کیونکہ وہ اسپتال میں بھی زیر علاج نہیں، خواجہ حارث نے کہا کہ ایون فیلڈ ریفرنس میں نواز شریف ضمانت پر ہیں، نواز شریف کی صحت سے۔متعلق لاہور ہائیکورٹ میں درخواست زیر التواء ہے، پنجاب حکومت نے نواز شریف کی ضمانت میں توسیع کی درخواست مسترد کردی تھی، نواز شریف اس وقت العریزیہ ریفرنس میں ضمانت پر نہیں ہیں۔ جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ نواز شریف ضمانت پر نہیں تو کیا آپ کو نہیں لگتا انہیں سرنڈر کرنا چاہیے تھا،جس پر خواجہ حارث نے کہا کہ نواز شریف علاج کے لیے لندن گئے ہیں،

نواز شریف کے طبی معائنے کے بعد حکومتی میڈیکل بورڈ نے کہا تھا ان کا بیرون ملک علاج ممکن ہے،میڈیکل بورڈ نے تجویز کی نواز شریف کا ملک میں علاج ممکن نہیں، نواز شریف کے بھائی شہباز شریف نے لاہور ہائیکورٹ سے رجوع کیا تھا۔ خواجہ حارث نے عدالت میں کہا کہ نواز شریف تاحال سفر کرنے کے قابل نہیں ہیں،نواز شریف خراب صحت کے باعث ابھی سفر نہیں کرسکتے، میں تسلیم کررہا ہوں اس وقت نوازشریف بغیر ضمانت کے لندن ہیں، شہباز شریف کی درخواست پر اس عدالت نے نواز شریف کی ضمانت منظور کی تھی، لاہور ہائی کورٹ نے شورٹی بانڈز کا کابینہ کا فیصلہ مسترد کرکے بیان حلفی لی تھی، جسٹس عامر فاروق نےا ستفسار کیا کہ عدالت کو بتائیں کہ کیا سزا ختم ہوچکی یا نہیں؟ جس پر خواجہ حارث نے کہا کہ سزا اپنی جگہ موجود ہے،نواز شریف کی میڈیکل رپورٹس لاہور ہائیکورٹس کو فراہم کی ہیں، نواز شریف کی صحت سے متعلق جاننے کے لیے پاکستانی ہائی کمیشن کا کبھی کوئی نمائندہ نہیں گیا، آج تک برطانیہ میں پاکستانی ہائی کمیشن کا کوئی بھی نمائندہ میاں نواز شریف کی طبی صورتحال چیک کرنے نہیں گیا۔ جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ وفاقی حکومت کو ہمیں اپنا موقف دینا چاہیے تھا کہ نواز شریف کی صحت اب کیسی ہے۔ جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا کہ بتائیں کیا نواز شریف اسپتال میں زیر علاج ہیں ؟

اگر اسپتال نہیں ہیں تو پھر اور بات ہوگی۔ جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ لاہور ہائیکورٹ کا اس کیس میں ضمانت اور سزا معطلی سے کوئے تعلق نہیں۔ لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے سے ہمیں کچھ نہیں لینا دینا،ہمیں سزا معطلی سے متعلق بتائیں۔ خواجہ حارث نے کہا کہ نواز شریف لندن میں پھنس چکے ہیں کیوں کہ انکی صحت ٹھیک نہیں، جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا کہ ایسا کچھ ریکارڈ پر نہیں کہ وہ مکمل طور پر ٹھیک نہیں، آپ نے جو رپورٹس جمع کرائیں وہ جون کی ہیں۔ عدالت میں سماعت ابھی جاری ہے،مریم نواز اسلام آباد ہائیکورٹ پہنچ چکی ہیں، کمرہ عدالت میں لوگوں کا رش لگ چکا ہے، ن لیگی رہنما بھی کمرہ عدالت میں پہنچ چکے ہیں. مریم نواز کے شوہر کیپٹن ر صفدر، شاہد خاقان عباسی و دیگر مریم نواز کے ہمراہ تھے۔ مریم نواز کی عدالت کی پیشی کے موقع پر سیکورٹی سخت کی گئی ہے، پولیس کی بھاری نفری تعینات کی گئی ہے،وکلاء کو بھی عدالت جانے سے روکا گیا،جس پر عدالت نے ڈی سی کو حکم جاری کیا، ایف سی اور رینجرز اہلکار بھی سیکورٹی کے لئے تعینات کئے گئے ہیں، ن لیگی کارکنان بھی عدالت کے باہر پہنچ چکے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں