بریکنگ نیوز:آبی ذخائر بھرنے کا سلسلہ جاری۔۔۔!!!ملک کا ایک اور بڑا ڈیم مکمل طور پر بھر گیا

اسلام آباد(ویب ڈیسک) وفاقی دارالحکومت اسلام آباد او ر جڑواں شہر راولپنڈی میں بارشوں کا سلسلہ پیر کو بھی جاری رہا جس کے بعد دریائوں میں سیلابی صورتحال پیدا ہوگئی ۔تفصیلات کے مطابق سندھ کے بیشتر علاقے مون سون بارشوں کے ساتویں اسپیل کے زیر اثر ہیں، میر پور خاص، تھر اور عمر کوٹ میں گزشتہ رات

سے بارش کا سلسلہ جاری رہا، سکھر، گھوٹکی، میرپور ماتھیلو، اوباڑو، شکارپور، کندھکوٹ اور پنوعاقل میں پیر کی علی الصبح بارش کا سلسلہ شروع ہوا۔بارشوں کے باعث نشیبی علاقے زیر آب آگئے ہیں، شہری علاقوں میں سیوریج کا نظام بیٹھ گیا ہے جس کی وجہ سے گندا پانی بھی بارش کے پانی کے ساتھ مل گیا ہے جس کی وجہ سے شہریوں کو آمدورفت میں مشکلات کا سامنا کر نا پڑا۔جوہی میں کھیر تھر کے پہاڑی سلسلے سے آنے والے پانی کے باعث نئی گاج ندی میں پانی کے بہائو میں اضافہ ہوگیا ہے۔ بارش اور سیلاب کے باعث 300 دیہات کا زمینی رابطہ منقطع ہوگیا ہے۔محکمہ موسمیات کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران چھور میں 82، مٹھی میں 73، موہن جو دڑو میں 34، بدین میں 29، ٹھٹہ میں 15، جیکب آباد میں 8، پڈعیدن میں 7، لاڑکانہ اور حیدر آباد میں 6، روہڑی 5 اور سکھر میں 4 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی جاچکی ہے۔ بارش کا سلسلہ آج رات تک جاری رہنے کا امکان ہے۔وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ نے تھر، میر پور خاص ، عمر کوٹ ، بدین اور سجاول کے ڈپٹی کمشنرز کو فون کیا اور انہیں عوام کی ہر طرح سے مدد و تعاون کی ہدایت کی۔وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ نے کہا کہ متاثرہ لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جائے، انہیں خوراک اور پینے کا پانی مہیا کیا جائے۔ وزیراعلی سندھ نے محکمہ آبپاشی کے عملے کو متحرک رہنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ آبپاشی کی نہروں کی شاخوں اور ایل بی او ڈی کے پشتوں کا خیال رکھاجائے، کسی بھی مقام پر اگر کوئی شگاف ہو تو فوری طور پر اسے بھر دیں۔راولپنڈی اور اس کے جڑواں شہر اسلام آباد میں وقفے وقفے سے بارش جاری رہا۔ پیر کی علی الصبح سے لے کر اب تک مجموعی طور پر سب سے زیادہ بارش سید پور اسلام آباد کے مقام پر 50 ملی میٹر ریکارڈ کی گئی، محکمہ موسمیات کی جانب سے بارش کے نئے سپیل کے پیشنگوئی کے پیش نظر نالہ لائی کی مانیٹرنگ بھی جاری ہے۔جڑواں شہروں میں حالیہ بارشوں سے راول ڈیم مکمل طور پر بھر گیا ہے جس کی وجہ سے ڈیم کے اسپل وے ڈیڑھ فٹ تک کھول دیئے گئے ہیں۔جس کے بعد ڈیم سے 6 ہزار کیوسک پانی چھوڑا گیا ہے۔

ڈیم سے چھوڑے گئے پانی کی وجہ سے دریائے سواں میں طغیانی کا خدشہ ہے۔دوسری جانب ملتان، مظفر گڑھ اور راجن پور میں بھی کئی گھنٹے مسلسل بارش ہوئی ہے، راجن پور میں کوہ سلیمان کے پہاڑی سلسلے سے آنے والا پانی برساتی ندی نالوں میں سیلابی صورت حال پیدا ہوگئی ،دریائے چناب اور جہلم میں طغیانی کے باعث دریا کے کنارے آباد 50 سے زائد دیہات اور بستیاں زیر آب آگئی ہیں اور لوگ اپنی مدد آپ کے تحت مال مویشیوں کو لیکر محفوظ مقامات پر منتقل ہوئے۔ تریموں کیمقام پر پانی کی آمد 183578 کیوسک جبکہ پانی کا اخراج 171078 کیوسک ریکارڈ کیا گیا ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں