2014ءدھرنے کے دوران راحیل شریف کو کیا آفر کی گئی تھی جس کا انہوں نے صاف انکار کردیا تھا؟برسوں بعد ایسا انکشاف جسے جان کر ہر کوئی دنگ رہ گیا

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)عاصم سلیم باجوہ کا انتخاب کیوں کیا گیا ہے کہ وہ کس کس گروپ اور پارٹی اور کارٹیل کو کھٹکتے ہیں وہ ایسا کیا کام کر رہے ہیں کہ ایک کمپیئن شروع ہو گئی ۔ تفصیلات کے مطابق سینئر تجزیہ کار صابر شاکر نے کہا ہے کہ جنرل عاصم سلیم باجوہ کو لے کر سوشل

میڈیا پر کافی بحث چل رہی ہے ، وزیراعظم کے معاون خصوصی بہت ہیں لیکن عاصم سلیم باجوہ کا ہی انتخاب کیوں کیا گیا ہے ، اس کے پیچھے کیا مقاصد ہیں ۔ ان کا کہنا تھا کہ جنرل (ر) راحیل شریف کو دھرنے کے دوران پیش کش کی گئی تھی کہ آپ آئیں اور اقتدار سنبھالیںجس کا انہوں نے صاف انکار کر دیا تھا ، اس وقت ڈی آئی ایس پی آر عاصم سلیم باجوہ تھے ، اور اس دوران جتنے مذاکرات اورپیغام رسانی ہوئی، جنرل (ر)عاصم سلیم باجوہ ان رازوں کے امین ہیں ۔ اس وقت مذاکرات میں نواز شریف اس وقت کے وزیراعظم تھے انہوں نے راحیل شریف سے درخواست کی تھی کہ آپ ہمارے بے آف اپوزیشن سے بات چیت کریں ، اس وقت جب جنرل راحیل شریف نے طاہر القادری اور عمران خان سے ملاقات کی جس پر اپوزیشن نے شور مچانا شروع کر دیا ، اس وقت نواز شریف نے کہا کہ میں نے تو بات چیت کرنے کا کہا ہی نہیں ہے۔ جس کے بعد عاصم سلیم باجوہ نے ایک ٹویٹ پیغام جاری کیا تھا جو آج بھی ریکارد پر موجود ہے ، نواز شریف جو کہہ رہے ہیں وہ سچ نہیں ہے بلکہ راحیل شریف نے وزیراعظم کے کہنے پر ہی عمران خان اور طاہر القادری سے ملاقات کی تھی ۔راحیل شریف کے بعد جنرل قمر جاوید باجوہ آئے ۔ صابر شاکر کا کہنا تھا کہ ہوتا یہ ہے کہ جب نیا آرمی چیف آتا ہے تو پوسٹنگ ، ٹرانسفر بھی ہوتی ہیں، جنرل سلیم باجوہ کی ڈیوٹی بھی تبدیل ہونی تھی ، ان کی بھی ٹرانسفر ہوگئی تھی ۔سینئر تجزیہ کار کا کہنا تھا کہ ہماری ن لیگ کے ایک گورنر سے ملاقات ہوئی ان کا یہ کہنا تھا کہ دیکھا ہم نے جنرل سلیم باجوہ سے کیسا انتقام لیا ہے، انتقام بھی ایسا لیا کہ وہ اب ساری عمر بندوقیں ہی صاف کرتے رہیں گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں