چیئرمین سی پیک اتھارٹی عاصم سلیم باجوہ کے مبینہ اثاثے، عاصم سلیم باجوہ کو مشورہ ہے کہ وہ اس کی وضاحت کریں، حکومت کا پہلا باضابطہ ردعمل

اسلام آباد(آن لائن) وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات سینیٹر شبلی فراز نے کہا ہے کہ اپوزیشن رہنما فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) قوانین کی آڑ میں این آر او لینا چاہتے ہیں،حکومت ایف اے ٹی ایف قوانین ملکی مفاد کے لیے لارہی ہے، یہ لوگ چاہتے ہیں 5 سال کی چوری کا حساب نہ لیا جائے۔ایک سوال کے جواب میں شبلی فراز نے کہا ہے کہ عاصم سلیم باجوہ کے بارے میں جو باتیں ہورہی ہیں

وہ درست نہیں ہیں، عاصم سلیم باجوہ کو مشورہ ہے کہ وہ اس کی وضاحت کریں، سوشل میڈیا کی خبروں پرنہ کوئی استعفیٰ دے گا نہ کسی کو استعفیٰ دینا چاہیے۔ عمران خان اس پاکستان کے ساتھ نہیں چل سکتے جہاں سیاست کاروبارہو، وزیراعظم نے اپنی ہر پالیسی میں غریب اور متوسط طبقے کی فلاح کو مدنظر رکھا، سندھ کے صوبائی وزیر نے حالات ٹھیک کرنے کے لئے 10ارب ڈالر کا مطالبہ کیا ہمارے پاس اتنی بڑی رقم ہوتی تو بھی سندھ حکومت کو نہ دیتے کیونکہ وہ سیدھی اومنی گروپ اور جعلی اکاؤنٹ میں چلی جاتی۔ وزیراعظم عمران خان رواں ہفتے کراچی کا دورہ کریں گے، وفاقی حکومت کراچی کی عوام کی تکالیف کے ازالے کے لئے کوشاں ہے۔ پیر کے روز پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سینیٹر شبلی فراز نے کہا کہ کراچی کے عوام جس تکلیف اور کرب سے گزر رہے ہیں اس سے بخوبی آگاہ ہیں۔ کراچی کے عوام کے ساتھ پوری ہمدردیاں ہیں۔ وزیراعظم عمران خان کراچی کی صورتحال ک بارے میں مسلسل متعلقہ حکام سے رابطے میں ہیں جبکہ وزیراعظم عمران خان کی وزیراعلیٰ سندھ سے بھی بات ہوئی ہے جس میں سندھ کی صوبائی حکومت کو مکمل تعاون کی یقین دہانی کروائی ہے۔ وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات نے کہا کہ پیپلزپارٹی کی جانب سے کراچی کی صورتحال پر بھی سیاست کرنا قابل افسوس ہے۔ قمر زمان کائرہ نے کراچی کی صورتحال کے تناظر میں وفاقی حکومت پر تنقید کی ہے۔

شبلی فراز نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان ان عناصر کے ساتھ نہیں چل سکتے جنہوں نے ذاتی فائدے کے لئے قومی مفاد داؤ پر لگایا۔ وزیراعظم عمران خان نے اپنی ہر پالیسی میں غریب اور متوسط طبقے کی فلاح کو مدنظر رکھا ہے۔ قمر زمان کائرہ ایسی پارٹی کی نمائندگی کر رہے ہیں جس نے سندھ کے عوام کا برا حال کر دیا ہے۔ سندھ کے ہسپتال، سکول او سڑکوں کا برا حال ہے۔ انہوں نے کہا کہ سندھ کے صوبائی وزیر کہتے ہیں کہ ہمیں 10ارب ڈالر مل جائیں تو حالات ٹھیک کر سکتے ہیں َ جب بھی کوئی مسئلہ کھڑا ہوتا ہے تو پیپلزپارٹی کی قیادت منظر سے غائب ہو جاتی ہے۔ اپوزیشن ایف اے ٹی ایف کی آڑ میں این آر او لینا چاہتی ہے۔ یہ چاہتے ہیں کہ ان سے چوریوں کا حساب نہ لیا جائے۔ ہم ن عوام کے سامنے اپوزیشن کی بلیک میلنگ عیاں کر دی ہے۔ اپوزیشن جماعتیں آپس میں ہی مخلص نہیں ہیں۔شبلی فراز نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان ثابت قدمی سے ملککو مسائل کی دلدل سے نکال رہے ہیں

جبکہ اپوزیشن کا صرف ایک ہی ایجنڈا ہے کہ حکومت کسی نہ کسی طرح ناکام ہوجائے۔ اپوزیشن جماعتیں اپنی قیادت کی کرپشن چھپانے کیلئے کوشاں ہیں جبکہ تحریک انصاف حکومت کا محور ہمیشہ عوام کا مفاد ہے اور رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ گندم کی ضروریات پوری کرنے کے لئے درآمدی گندم پہنچ چکی ہے۔ درآمدی گندم اور چینی پہنچنے سے قیمتوں میں کمی آئے گی۔ وفاقی وزیراطلاعات و نشریات نےکہا کہ ایف اے ٹی ایف کے لئے قانون سازی کسی کے ذاتی نہیں بلکہ ملکی مفاد میں کی جارہی ہے۔ اپوزیشن نے ملک کو ایف اے ٹی ایف کی بلیک لسٹ میں دھکیلنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ اپوزیشن ارکان پارلیمنٹ سے بھی کہوں گا کہ وہ ملکی مفاد کو مقدم رکھیں۔اپوزیشن ارکان ایک خاص طبقے کو بچانے کے لئے بلز کی مخالفت کر رہے ہیں۔ وزیراعظم رواں ہفتے کراچی کا دورہ کریں گے۔ کراچی کے عوام تکلیف میں ہیں ان کی مدد کے لئے بھرپور پروگرام لا رہے ہیں َ وفاقی حکومت کراچی کے عوام کی مشکلات کے ازالے کیلئے کوشاں ہے۔