پاکستانی نوجوان نے سنت رسولﷺ پر عمل کرتے ہوئے کس سے شادی کر لی ؟ ناقابل یقین تفصیلات جان کر آپ بھی سبحان اللہ کہہ اٹھیں گے

ایک ایسے معاشرے میں جہاں شادی کے لیے کم عمر لڑکی کا انتخاب کیا جاتا ہے اور طلاق یافتہ خاتون کے لیے بڑی عمر یا پہلے سے شادی شدہ مرد کو ہی واحد ‘آپشن’ سمجھا جاتا ہے، ایسے میں کراچی کے 27 سالہ نوجوان شہباز خان نے خود سے عمر میں 12 سال بڑی، طلاق یافتہ اور تین بچوں کی ماں سے شادی کرکے سب کو حیران کر دیا ہے

اس وقت سوشل میڈیا پر شہباز خان کی شادی کی پوسٹ کافی وائرل ہو رہی ہے۔ فیس بک کے مختلف پیجز پر اس حوالے سے پوسٹس شیئر کی جا رہی ہیں اور صارفین ان کے اس ‘نیک کام’ کو قابل ستائش قرار دے رہے ہیں۔ شہباز خان سے جب ہم نے پوری کہانی جاننے کے لیے رابطہ کیا تو انہوں نے مارخو ٹی وی کو بتایا کہ ‘ یہ شادی لو میرج تو نہیں ہے، میری اہلیہ دراصل میری تایا زاد ہیں اور پانچ سال قبل انہیں طلاق ہو گئی تھی، ان کے تین بچے ہیں جو اپنے والد کے ساتھ رہتے ہیں۔’ میں نے ان پانچ برسوں میں انہیں کبھی دل سے مسکراتے نہیں دیکھا، جب بھی کسی فیملی کی تقریب میں ملاقات ہوتی تو میں نے ان کے چہرے پر اداسی ہی دیکھی ظاہر ہے جن مشکل حالات سے وہ گزری ہیں اس کے بعد مضبوط سے مضبوط انسان کے لیے بھی زندگی پہلے کی طرح نہیں رہتی۔’ شہباز سے جب ہم نے پوچھا کہ گھر والوں نے ایک طلاق یافتہ، عمر میں 12 سال بڑی اور تین بچوں کی ماں سے شادی کے فیصلے کا سنا تو ان کا کیا ردعمل تھا تو انہوں نے بتایا کہ ‘پہلے تو سب حیران ہوئے لیکن کسی نے اعتراض نہیں کیا کیونکہ ایک تو یہ کہ سب انہیں بہت اچھی طرح جانتے تھے اور دوسرا یہ کہ میری نیت اچھی تھی میں نے گھر والوں کو یہی کہا کہ جب لڑکی اچھی ہے، طلاق یافتہ ہونا کوئی عیب نہیں تو پھر کیا حرج ہے یہ تو سنت ہے۔’

انہوں نے بتایا کہ ”میں نے بھی شادی تو کرنا ہی تھی اور جس طرح ہر انسان کے لیے کوئی نہ کوئی آئیڈیل ہوتا ہے تو میں نے بھی سوچ رکھا تھا کہ میں ایک سلجھی ہوئی، خوب سیرت اور ایسی لڑکی سے شادی کرنا چاہتا تھا جو زندگی کے نشیب و فراز کو سمجھتی ہو اور ہر حال میں ساتھ نبھانا جانتی ہو اور یہ تمام خوبیاں ان میں موجود تھیں اس لیے میں نے فیصلہ کیا کہ مجھے یہیں شادی کرنی ہے۔’
شہباز خان کا کہنا تھا کہ ‘ہمارے یہاں طلاق یافتہ لڑکی کی شادی بڑی عمر اور پہلے سے شادی شدہ مرد کے ساتھ ہی کی جاتی ہے لیکن میں یہ سمجھتا ہوں کہ میں ان دقیانوسی روایات کے خلاف گیا اور میرے ذہن میں اس وقت یہی بات تھی کہ مجھے اس معاشرے کے لیے ایک مثال قائم کرنی ہے۔

ان کے بقول ‘لڑکی کی رضامندی تو سب سے پہلے ضروری ہے تو شروع میں ایک دم سے وہ راضی نہیں ہوئیں بلکہ انہوں نے یہی کہا کہ کیا تم واقعی سنجیدہ ہو؟ لوگ کیا کہیں گے۔ اس پر میں نے انہیں یہ سمجھایا کہ لوگوں کے کچھ کہنے نہ کہنے سے ہماری زندگیوں پر کیا فرق پڑتا ہے، اہم بات تو ہماری خوشی ہے۔ تو بس یہ بات انہیں سمجھ آگئی اور وہ راضی ہوگئیں۔’