بریکنگ نیوز: اسرائیلی وزیراعظم نتن یاہو نے گیم ڈال دی ، کونسے عرب و خلیجی ممالک اسرائیل کے گھیرے میں آگئے؟ تازہ ترین خبر

یروشلم (ویب ڈیسک) اسرائيلی وزير اعظم کے بقول سفارتی تعلقات کے قيام کے ليے مزید کئی عرب رياستوں کے ساتھ خفيہ مذاکرات جاری ہيں۔ متحدہ عرب امارات اور اسرائيل کے مابين حاليہ معاہدے پر مسلم ملکوں کا مجموعی رد عمل بظاہر منفی رہا تھا۔ اسرائيلی وزير اعظم بينجمن نيتن ياہو نے کہا ہے کہ

سفارتی تعلقات کے قيام کے ليے متعدد عرب رياستوں کے ساتھ بات چيت کا عمل جاری ہے۔ نيتن ياہو نے اتوار کے روز اپنے ايک بيان ميں کہا کہ عرب اور مسلم ممالک کے رہنماؤں کے ساتھ کئی ايسی ملاقاتيں يا تو ہو رہی ہيں يا ہونے والی ہيں، جن کی تفصيلات عام نہيں کی گئيں۔يہ امر اہم ہے کہ امريکا کی ثالثی ميں تيرہ اگست کو اعلان کردہ تاريخی معاہدے کے تحت متحدہ عرب امارات اور اسرائيل نے آپس میں سفارتی تعلقات قائم کر لينے کا فیصلہ کیا تھا۔ ہفتہ انتیس اگست کو متحدہ عرب امارات کے صدر خليفہ بن زید النہيان نے ايک صدارتی حکم نامے پر دستخط کرتے ہوئے اسرائيل کے ساتھ تعلقات پر پابندی کو باضابطہ طور پر منسوخ بھی کر ديا تھا۔ يوں دونوں ملکوں کے درميان تجارت سميت کئی شعبوں ميں باہمی معاہدوں کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔ مصر اور اردن کے بعد متحدہ عرب امارات تيسرا ايسا عرب ملک ہے، جس نے اسرائيل کے ساتھ تعلقات قائم کيے ہيں۔اسرائيلی وزير اعظم کا ديگر عرب رياستوں کے ساتھ خفيہ مذاکرات سے متعلق بيان ايک ايسے وقت پر سامنے آيا ہے جب اکتيس اگست کو تل ابيب سے ابو ظہبی کے ليے اولين پرواز بھی اڑے گی، جس میں امريکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے داماد اور سينئر مشير جیئرڈ کشنر بھی سوار ہوں گے۔ کشنر کا ان سفارتی تعلقات کے قیام کی ڈيل ميں کليدی کردار رہا ہے۔ اسرائيل اور متحدہ عرب امارات جلد ہی آپس میں سفارت خانوں کے قيام اور کئی ديگر معاملات کو بھی حتمی شکل دے ديں گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں