نواز شریف کے پنج پیاروں میں شامل شیخ رشید کے سیاسی کیرئیر کے حوالے سے چند پول کھول دینے والے حقائق

لاہور (ویب ڈیسک) اس حمام میں شیخ رشید بھی موجود ہیں کیا زمانہ تھا کہ نوازشریف کے پنج پیاروں میں شامل ہوتے تھے۔ اس قدر پیار تھا کہ ان کی خوشنودی کے لئے بے نظیر بھٹو پر بھی شخصی اٹیک کرتے تھے۔ جی بھر کے وزارتوں کے مزے لوٹے، اثاثے بنائے، جب برا وقت

نامور کالم نگار نسیم شاہد اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔آیا تو آنکھیں پھیر کے دوسری طرف دیکھنے لگے۔ آج ان کی صبح و شام گفگتو یہی ہوتی ہے کہ نوازشریف اور زرداری نے ملک کو لوٹ کر کنگال کر دیا ہے جن تیس برسوں کی وہ بات کرتے ہیں ان میں تو ان کا پاؤں بھی اقتدار کی مسند پر رہا ہے کیا وہ خود کو بھی اس صف میں شامل کرتے ہیں جنہوں نے ملک کو برباد کیا۔ آخر وقت پر کنی کترا کے نکل جانا، بزدل کہلاتا ہے لیکن ہماری سیاست میں اسے ذہانت سمجھا جاتا ہے۔ آپ کس کس کا نام لیں گے، یہ فواد چودھری جو پیپلزپارٹی کے گن گاتے تھے۔ اس کے ساتھ باہم شیر و شکر تھے۔ آمریت کے دور میں بھی پنج پیارے بنے رہے، آج کل سارا نزلہ ماضی پر گرا کے حکومت کی معاشی محاذ پر ناقص کارکردگی کا دفاع کرتے ہیں کیا انہیں صرف اس لئے معاف کر دیا جائے کہ وہ انتخابات سے پہلے تحریک انصاف میں شامل ہو گئے کیا یہ فارمولا درست ہے کہ جیسے چاہو مزے اڑاؤ لیکن برا وقت آنے سے پہلے اپنی پارٹی چھوڑ کر اقتدار میں آنے والی جماعت میں شامل ہو جاؤ۔ کسی دوسرے جمہوری ملک میں بھی کیا ایسا ہوتا ہے۔ کیا یہ قبائلی معاشرہ ہے کہ آپ معتوب قبیلے کو چھوڑ کر جب مقتدر قبیلے میں آ جائیں گے تو محفوظ قرار پائیں گے۔ پھر نیب آپ کی طرف دیکھے گا اور نہ ایف آئی اے کو جرأت ہو گی کہ آپ بتائیں پچھلی حکومت میں رہ کر کیا مفادات حاصل کئے۔

انتخابات سے پہلے جہانگیر ترین کے جہاز کا بڑا شہرہ تھا جس کے بارے میں یہ مشہور تھا کہ وہ جہاں جاتا ہے دوسری جماعتوں کے رہنماؤں کو تحریک انصاف میں شامل کرنے کی پرواز کا حصہ بنا دیتا ہے۔ خود جنوبی پنجاب صوبہ محاذ نامی ایک فرضی تنظیم بنا کر جس طرح جنوبی پنجاب کے مسلم لیگ (ن) اور پیپلزپارٹی سے تعلق رکھنے والے ارکان کو توڑا گیا وہ سب کے سامنے ہے۔ بعد ازاں یہ عقدہ بھی کھل گیا کہ ان میں کئی ایک تو اپنی کرپشن کی وجہ سے نیب کا شکار بننے والے تھے۔ آج کے وفاقی وزیر خسرو بختیار بھی ان میں شامل تھے۔ اب نیب کے پاس ان کی کرپشن کے ثبوت تو موجود ہیں لیکن آگے بڑھنے کی طاقت نہیں۔ نیب ملتان نے ان کے خلاف کارروائی شروع کی تو اس کیس کو ہی اسلام آباد منتقل کر دیا گیا۔ چینی سکینڈل آیا تو بڑے ناموں میں خسرو بختیار کا نام بھی شامل تھا۔ انہیں صرف اتنی ”سزا“ دی گئی کہ ایک وزارت لے کر دوسری وزارت کا قلمدان سونپ دیا گیا اب وہ بھی یہی دعویٰ کرتے ہیں کہ ماضی کی حکومتوں نے ملک کا دیوالیہ نکال دیا۔ یہ دعویٰ کرنے سے پہلے انہیں اس بات کا تو جواب ضرور دینا چاہئے کہ ان کے اثاثوں میں جو اربوں روپے کا اضافہ ہوا، وہ کس طرح اور کس دور میں ہوا۔وزیر اعظم عمران خان ہمیشہ یہ کہتے ہیں مرجاؤں گا کسی کرپٹ کو نہیں چھوڑوں گا، کسی کو این آر او نہیں دوں گا، کسی ستم ظریف نے اس پر یہ گرہ لگائی ہے سوائے انہیں جو تحریک انصاف میں شامل ہو جائیں گے۔

نواز شریف کے پنج پیاروں میں شامل شیخ رشید کے سیاسی کیرئیر کے حوالے سے چند پول کھول دینے والے حقائق” ایک تبصرہ

  1. بات تو سچ ہے مگر بات ہے رسوائی کی آپ کے لکھے ہوئے الفاظ صداقت لگتے ہے مگر پانچ پیاروں کی بات میں آپ چار پیاروں کو بھول گے یا ایک ہی پیارے کے ذکر تک خود کو محدود کرکہ چار پیاروں کو بچانا چاہتے ہیں پاکستان کے سیاستدان اتنے کنہ مشق ہے کہ وفا کا بوجھ وہ اٹھا نہیں سکتے بے وفائی وہ اپنے مفادات کی حفاظت کے لیے کرتے ہیں اور کرتے رہیں گے باہمی ضرورت ہوتی ہے تو دوست نہیں تو راستے جدا کیا کوئی ایک سیاستدان بتا دیں جو مخلص گزرا ہو ہماری تو تاریخ بھری پڑی ہوئی ہے محمد شاہ رنگیلا جیسے کرداروں سے کچھ تاریخی حقائق اس قدر بیانق ہیں کہلوگ فراموش کیئے گئے ہیں ورنہ تاریخ کے اوراق میں سب کا حساب کتاب کرنا ہے خواہ نواز شریف ہوں کہ کہ زرداری عمران خان ہوں کہ کوئی اور یہ کردار امر ہو کر رہیں گے ہیرو ہوں کہ ولن وقت کی سوئیاں چلتی رہتی ہیں

اپنا تبصرہ بھیجیں