اپنے شوہروں کی تابعدار رہنا چاہتی ہو یا آزاد زندگی گزارنا چاہتی ہو ۔۔۔؟ ایک بین الاقوامی ادارے نے عراق، مراکش، انڈونیشیا، افغانستان، ملائشیاء اور پاکستان کی خواتین سے سوال کیا تو کیا حیران کن جواب سننے کو ملے ؟ اوریا مقبول جان کی ایک ناقابل یقین تحریر

لاہور (ویب ڈیسک) سابقہ تمام رپورٹوں سے مختلف اور بدامنی کے خلاف لڑائی کے تناظر سے بالکل علیحدہ ایک اور رپورٹ دسمبر 2004ء میں سامنے آئی۔ یہ ’’نیشنل انٹیلجنس کونسل‘‘ (National Intelligence Council)کا پراجیکٹ تھا، جسے ’’پراجیکٹ 2020‘‘کہا جاتا ہے۔ اس رپورٹ کا نام ہے، ’’دنیا کے مستقبل کا خاکہ‘‘ (Mapping The Global Future)۔ نامور کالم نگار اوریا مقبول جان اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔

یہ رپورٹ جو 2004ء میں شائع ہوئی، ایک نقشہ کھینچتی ہے کہ سولہ سال بعد یعنی 2020ء میں دنیا کیسی ہوگی۔ رپورٹ کے مطابق 2020ء میں چین اور بھارت کی معیشتیں امریکہ کے لئے بہت بڑا خطرہ بن چکی ہوں گی اور ان کے ساتھ ہی برازیل کی معیشت بھی یورپ کے کسی بھی ملک سے بڑی ہو چکی ہوگی۔ دنیا بھر میں گلوبلائزیشن اس طرح چھا جائے گی کہ لاتعداد ملٹی نیشنل کمپنیاں پوری دنیا کے ممالک میں اپنا جال بچھا چکی ہوں گی۔ لیکن اس سب کچھ کے باوجود، دنیا کو اب کسی ایک طاقت کے قابو میں رکھنا مزید مشکل بلکہ نا ممکن ہو جائے گا۔ رپورٹ کے مطابق چار مختلف گروہوں اور علاقوں میں دنیا منقسم ہو جائے گی۔ پہلا اہم گروہ جسے وہ ’’ڈیوس دنیا‘‘ (Davos World)کہتی ہے، وہ چین اور بھارت کی معاشی قوت کے سامنے سرنگوں یورپ، افریقہ اور ایشیاہوگا۔ دوسرا گروہ امریکہ کے زیراثر ممالک کا ہوگا، وہ بہت کم ہوں گے، لیکن اپنی اہمیت کی وجہ سے سیاسی اور عسکری طاقت کو کنٹرول کریں گے۔ تیسری قوت ایک نئی ابھرنے والی’’ خلافت‘‘ ہوگی، جس کا قیام رپورٹ کے مطابق 2024ء میں ہو جائے گا اور یہ مغربی اقدار، روایات اور طرزِ زندگی کے لئیے بہت بڑا خطرہ ہو گی۔ رپورٹ مزید کہتی ہے کہ ان تینوں قوتوں کے علی الرغم دنیا میں خوف کا راج بھی شروع ہوچکا ہوگا۔ بہت سارے آزاد عسکری گروہ اور ملک ایک دوسرے کی تباہی پر آمادہ ہوں گے۔ ایٹمی ہتھیار سمگل، چوری یا اندرون ِخانہ بے شمار ہاتھوں میں چلے جائیں گے اور پوری دنیا ان کے خوف سے کانپ رہی ہوگی۔ ان حالات کی بنیادی وجہ تمام مذاہب میں شدت پسندوں اور مذہب سے مضبوط وابستگی رکھنے والے افراد میں اضافہ ہوگی۔ رپورٹ کے مطابق دنیا بھر کے مذاہب کے ماننے والوں میں شدت پسندانہ وابستگی رکھنے کے اعتبار سے مسلمان تعداد میں زیادہ سے زیادہ ہوتے چلے جائیں گے۔ رپورٹ بتاتی ہے کہ مذہب پر زیادہ سختی سے کاربند مسلمان ہوں گے، پھر سکھ، پھر ہندو اور پھر عیسائی ہو جائیں گے۔ یہ وہ گروہ ہوں گے جو معاشروں کو اپنی مرضی سے ترتیب دیں گے، ان پر غلبہ حاصل کریں گے اور ان کے خوف سے باقی سادہ لوح مسلمان، سکھ، ہندو اور عیسائی سہمے ہوئے ہوں گے۔ چونکہ مسلمانوں میں ایسے افراد کی تعداد بہت زیادہ ہوگی، اس لیئے وہ 2020ء کے آس پاس لڑتے جھگڑتے طاقت اور قوت پکڑ لیں گے اور ’’خلافت‘‘ قائم کردیں گے۔ اگر وہ ایسا نہ کر سکے، پھر بھی دنیا کے لیئے بہت بڑا خطرہ بن جائیں گے۔ اس رپورٹ کی اشاعت کے بعد امریکہ کے سب سے بڑے تحقیقی ادارے ’’PEW‘‘ کو بار بار مسلمان ملکوں میں سروے کرانے اور حالات کا جائزہ لینے کیلئے کہا گیا ۔

اس ادارے کے سروے کے مطابق مسلمان ممالک میں بسنے والے مسلمانوں کی اکثریت صرف اور صرف شرعی قوانین کا نفاذ چاہتی ہے۔ یہ تعداد افغانستان میں 99%، پاکستان میں 84%، انڈونیشیا میں 74%، نائیجریا میں 72%اور مشرقِ وسطیٰ اور افریقہ کے باقی تمام مسلمان ملکوں میں 71 فیصد ہے۔ رپورٹ میں ایک حیرت انگیز سوال صرف عورتوں سے پوچھا گیا کہ کیا وہ اپنے خاوند کی فرمانبرداری کرنا پسند کرتی ہیں؟ اس کے جواب میں عراق، مراکش، انڈونیشیا، افغانستان، ملائشیاء اور پاکستان سمیت تمام اسلامی ممالک کی 95فیصد خواتین نے کہا کہ وہ اپنے خاوند کی مطیع رہنا چاہتی ہیں۔ جس سے یہ نتیجہ نکالا گیا کہ ایسی صورتِ حال میں شریعت کا نفاذ بہت آسان ہوگا۔ آج جائزہ لیں تو اس رپورٹ کے مطابق دنیا کے حالات تو بالکل ویسے ہی ہو چکے ہیں۔ رپورٹ نے 2020ء کو ایک بہت بڑی کشمکش کے آغاز کا سال کہا ہے۔ حیرت ہے کہ دنیا بھر کے تبصرہ نگار، تجزیہ نگار، سیاسی پنڈت، معاشی بزرجمہر، ستارہ شناس، یہاں تک کہ روحانی رجال الغیب بھی ایسا ہی کہہ رہے ہیں۔ رپورٹ بتاتی ہے کہ 2021ء میں سب کچھ بدل جائے گا اور باقی تمام ماہرین بھی اسی بات کی طرف اشارہ کررہے ہیں۔ آج دنیا جس کشمکش میں گھری جا چکی ہے، اس کا قریبی مستقبل میں صرف آگ اور دھواں نظر آرہا ہے۔ شاید اس سب کے بعد راوی چین لکھ دے۔

اپنے شوہروں کی تابعدار رہنا چاہتی ہو یا آزاد زندگی گزارنا چاہتی ہو ۔۔۔؟ ایک بین الاقوامی ادارے نے عراق، مراکش، انڈونیشیا، افغانستان، ملائشیاء اور پاکستان کی خواتین سے سوال کیا تو کیا حیران کن جواب سننے کو ملے ؟ اوریا مقبول جان کی ایک ناقابل یقین تحریر” ایک تبصرہ

اپنا تبصرہ بھیجیں