پاکستانی روپیہ تو آئی سی یو میں پہنچ گیا ، مگر بیرون ملک مقیم پاکستانیوں پر کیا گزر رہی ہے اور جلد عمران اینڈ کمپنی کو کیا سرپرائز ملنے والا ہے ؟ لندن مقیم پاکستانی صحافی نے احوال بتا دیا

لندن (ویب ڈیسک) پاکستانی روپے کی ڈالر ودیگر غیر ملکی کرنسیوں کے مقابلے میں کمی کا سلسلہ تیزی کے ساتھ جاری ہے جو پاکستانی معیشت کی تباہ کن صورتحال کی غمازی کرتا ہے ۔بنگلہ دیش اور افغانستان کی کرنسی کے مقابلے میں بھی پاکستانی روپے کی قیمت کم ہے، موجودہ حکومت نے

لندن میں مقیم نامور پاکستانی صحافی ہارون مرزا اپنی ایک رپورٹ میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔اقتدار سنبھالتے ہی کروڑوں پڑھے لکھے نوجوانوں کو نوکریاں دینے کا اعلان کیا مگر ایسا نہ ہو سکا، اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوانوں پر سرکاری عمارت کے دروازے بند ہیں ‘ رہی سہی کسر کورونا وائرس کی وجہ سے لاک ڈائون نے پوری کر دی ،ویسے تو کورونا نے ترقی یافتہ ممالک کی معیشت کو بھی جھنجوڑ کر رکھ دیا ہے لیکن مضبوط معیشت اور ترقی یافتہ ممالک ہونے کی وجہ سے انہوں نے اس کا اثر عوام پر نہیں ہونے دیا البتہ بعض ترقی پذیر ممالک ایسا کرنے سے قاصر رہے ‘ پاکستان میں احساس پروگرام کے تحت 12ہزار روپے مستحق افراد میں تقسیم کیے گئے مگر اجتماعی طور پر معیشت کا بیڑہ غرق ہو گیا، مہنگائی آسمان سے باتیں کر رہی ہے، بنیادی ضروریات کی اشیا کی قیمتیں مستقل بڑھ رہی ہیں، چینی ‘ آٹا ‘ پیٹرو ل‘ دالیں ‘ سبزیاں اور دیگر ضرویات زندگی کے حصول کیلئے متوسط طبقہ پس کر رہ گیا ہے، غریب طبقہ توفاقہ کشی پر مجبورہو گیا ہے حکومت نے آئی ایم ایف سے قرضہ حاصل کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی تو متوسط اور غریب طبقہ بھی اپنے عزیز واقارب سے قرضہ حاصل کرنے پر مجبور ہو گئے ہیں ، ایسی صورتحال قیام پاکستان سے لے کر اب تک دیکھنے میں نہیں آئی ‘ معاشی طو رپر پاکستان کمزورملک ہے ، عرب ممالک کی معیشت پر ہندوستان اپنے پنجے بری طرح گاڑ چکا ہے ، پاکستان کی یہ بدقسمتی رہی ہے کہ جو بھی پارٹی برسر اقتدار رہی اس نے ڈنگ ٹپائو پالیسی اختیار کیے رکھی ہاں

البتہ بعض ایسے لیڈر بھی پاکستان کا مقدر بنے جنہوں نے عربوں کو پاکستان آنے پر مجبور کر دیا نوجوانوں پر ان ممالک کے روزگار کیلئے دروازے کھل گئے پاکستان کی معیشت میں واضح بہتری محسوس ہونے لگی ‘ اب صورتحال اس کے برعکس ہے ‘ عرب ممالک کے قیدکانے پاکستانیوں سے بھرے پڑے ہیں یا پھر لاکھوں کی تعداد میں انہیں واپس پاکستان بجھوا دیا گیا ہے ۔ اس صورتحال میں پاکستانی وزیر ہوابازی نے پی آئی اے کے مبینہ جعلی پائلٹوں کا واویلا کر کے اس پر پابندی لگوا دی،اس صورتحال کا عرب ممالک کی ائر لائنز نے بھر پور فائدہ اٹھایا اور ٹکٹوں کی قیمتوں میں بے حد اضافہ کر دیا نہ چاہتے ہوئے بھی تارکین وطن مہنگی ٹکٹیں خریدنے پرمجبور ہو گئے ہیں، سول ایوی ایشن اتھارٹی نے اب ایک سیٹ خالی رکھنے کی پابندی کا بھی خاتمہ کر دیا ہے خالی سیٹ کا کرایہ دو مسافروں پر تقسیم کر کے ٹکٹ جاری کیا جاتا تھا مگر خالی سیٹ ختم کرنے کے اعلان کے بعد ضرورت اس امر کی تھی کہ پاکستان عرب ممالک کی ائر لائنز کو اس امر کا پابند کرتا کہ اب پاکستان آنے اور جانے کے کرایوں میں کمی کر دی جائے مگر پاکستان بے زبان ملک ہے، عرب ممالک جو تیل کی دولت سے مالا مال ہیں ہندوستان کی زبان بول رہے ہیں ،پاکستان کے مقابلے میں ہندوستان کیلئے ان عرب ممالک کی ائر لائنز کی ٹکٹوں کی قیمتیں کم ہیں ،ہمارا روپیہ آئی سی یو میں ہے، پاکستان کی تمام سیاسی جماعتوں اور تھنک ٹینک کو یہ سوچنا پڑے گا کہ مرض کابر وقت علاج کرانے کی بجائے ترقی یافتہ ممالک کی طرح سو سالہ منصوبہ جات کو عملی شکل دی جائے کہیں ایسا نہ ہو کہ انسان ۔انسان کو ہی کھانے پر مجبور ہو جائے۔ صوبائی حکومتوں کا قیمتوں پر کوئی کنٹرول نہیں، اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں روزانہ کی بنیاد پر اضافہ ہو رہا ہے ،صوبائی حکومتوں کی مشینری مکمل طور پرمہنگائی کنٹرول کرنے میں ناکام ہوگئیں ہیں، کرپشن پہلے سے زیادہ معاشرے پر پنجے گاڑ چکی ہے کوئی کام رشوت کے بغیر نہیں ہوتا ہاں البتہ بااثر افراد ہائوسنگ کالونیاں بنانے میں مصروف ہیں اور حکومت بھی ان کی مکمل سرپرستی کر رہی ہے ‘ غریب عوام کو خدا کے رحم و کرم پر چھوڑدیا گیا ہے مگر حکمراں شاید یہ فراموش کر گئے ہیں کہ غریب کی بدعا بھی ساتویں آسمان تک جاتی ہے۔

پاکستانی روپیہ تو آئی سی یو میں پہنچ گیا ، مگر بیرون ملک مقیم پاکستانیوں پر کیا گزر رہی ہے اور جلد عمران اینڈ کمپنی کو کیا سرپرائز ملنے والا ہے ؟ لندن مقیم پاکستانی صحافی نے احوال بتا دیا” ایک تبصرہ

اپنا تبصرہ بھیجیں