اہرام مصر جیسے مقبروں‌کی دریافت …..!! پوری دنیا کے سائنسدان ورطہ حیرت میں گم ہو گئے

سائنس دان ہمیشہ سے مریخ پر زندگی کی تلاش میں رہے ہیں اور انہیں کچھ نہ کچھ ایسے شواہد ملتے رہتے ہیں جسے دیکھ کر ان کی امید زندہ رہتی ہے لیکن اس بار ناسا کے خلائی روبوٹ نے مریخ سے کچھ ایسی تصاویر بھیجی ہیں جن میں مریخ پر اہرام مصرکی طرز کے تکون نما پہاڑ کو دیکھ کر سائنسدان خود بھی حیران ہیں۔ ناسا کے خلائی روبوٹ کی جانب سے بھیجی گئی

تصاویر میں اہرام مصر طرز کے تکون نما پہاڑ واضح طور پر دیکھے جا سکتے ہیں جس کی وضاحت کرتے ہوئے کچھ سائنس دانوں کا کہناہے کہ اس طرح کی شکل کا وجود میں آجانا اتفاقیہ لگتا ہے جو کہ ریت کے طوفانوں کے دوران خود بخود وجود میں آگئے لیکن دوسری جانب کچھ سائنس دانوں اور ماہرین کے مطابق اہرام مصر سے اس قدرملتی جلتی شکل والے ان تکون پہاڑوں کا نظر آنا اتفاقیہ نہیں بلکہ یہ کسی انتہائی ذہین مخلوق کے بنائے ہوئے لگتے ہیں جو ان کی تہذیب کی عکاسی کرتے ہیں۔ ماہرین فلکیات کے مطابق زمین پر اس طرح کے بنائے گئے اہرام مصر کا تصور مریخ کی تہذیب سے ہی لیا گیا ہو گا اور اگر یہ مان لیا جائے کہ ماضی میں مریخ پر زندگی کا وجود تھا تو وہاں کے باشندے بہت ہی منظم تھے کیونکہ اس طرح کے پہاڑ بنانا ان کی ذہانت کا ثبوت ہیں۔مزید پڑھئیے ::ایک برطانوی جائزہ رپورٹ سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسکولوں میں اساتذہ ٹیکنالوجی کی رفتار کے ساتھ قدم ملا کر چلنے میں دقت کا سامنا کر رہے ہیں، جبکہ ٹیک کی مہارتیں سیکھنے میں بھی اساتذہ کی جانب سے دلچسپی ظاہر نہیں کی گئی۔آئی سی ٹی کاروبار ‘ڈیزی گروپ’ کی قیادت میں کیے جانے والے اس سروے سے پتہ چلا کہ اسکولوں میں ٹیکنالوجی سے متعلقہ مسائل کےحوالے سے ہیڈ ٹیچروں کے لیے بڑا مسئلہ سائبر بلئنگ یا انٹرنیٹ گرومنگ نہیں تھی بلکہ اساتذہ کی بڑی تعداد کی طرف سے ٹیکنالوجی کے استعمال کے مسائل تھے۔اسکولوں میں ٹیک سے متعل مسائل کے بارے میں ادارے نے برطانیہ بھر سے تعلیمی رہنماو¿ں کا انٹرویو کیا۔ جن میں سے دو تہائی ہیڈ ٹیچرز نے اعتراف کیا کہ ان کے اسکولوں میں بڑی تعداد میں اساتذہ ڈیجیٹل سے متعلق مطالبات کو پورا کرنے کی ذمہ داریوں کےحوالے سے جدوجہد کر رہے ہیں۔رپورٹ کے مطابق 30 فیصد اساتذہ جن سے سوالات پوچھے گئے، بتایا کہ وہ ٹیکنالوجی کے بارے میں اتنی معلومات نہیں رکھتے تھے، جتنی ان کے پاس ہونی ضروری تھی۔36 فیصد نے بتایا کہ وہ آئی سی ٹی کے کچھ حصوں میں مہارت رکھتے ہیں، اور کچھ میں وہ کمزور ہیں۔ایک تہائی اساتذہ کا کہنا تھا کہ وہ ماڈرن ٹیکنالوجی کے بارے میں کافی زیادہ معلومات رکھتے ہیں اور اپنے کام کو اچھے طریقے سے انجام دینے کے قابل ہیں۔تاہم اسکولوں کو متاثر کرنے والے ٹیکنالوجی کے مسائل کے حوالے سے 44 فیصد شرکاء نے بتایا کہ ان کے اسکولوں میں نئے ٹیکنالوجی کے آلات موجود ہیں لیکن اساتذہ غیر تربیت یافتہ ہونے کی وجہ سے ان کے استعمال میں جدوجہد کر رہے ہیں۔ایک تہائی سے زائد شرکائ کا کہنا تھا کہ اسکولوں میں بنیادی ڈھانچے کے مسائل ہیں اور اکثر اسکولوں میں انٹرنیٹ سست رفتار یا تغیر پذیر ہے۔اس رپورٹ پر تبصرہ کرتے ہوئے کرسٹوفر ہائی اسکول ایکرنگٹن کے ہیڈ ٹیچر رچرڈ جونز نے کہا کہ ‘اساتذہ کے لیے بچوں کو تعلیم فراہم کرنے میں مہارت رکھنی چاہیئے، اس کے لیے ان کا آئی ٹی میں ماہر ہونا ضروری نہیں ہے۔’ہیڈ ٹیچر جونز نے کہا کہ ہو سکتا ہے کہ ‘میں قدامت پسند خیالات رکھتا ہوں لیکن کسی بھی کلاس روم میں سب سے طاقتور اور با اثر وسائل ایک استاد ہوتا ہے’۔انھوں نے کہا کہ اساتذہ آئی ٹی کی سہولیات کے تکنیکی ماہرین نہیں ہیں انھیں ایک متاثر کن رول ماڈل کی حیثیت سے کام کرنا چاہیئے۔ایک تعلیم بالغان کے فلاحی ادارے’ نائیس’ کی تازہ ترین سالانہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ برطانیہ میں ادھیڑ عمر سے لے کر عمر رسیدہ افراد تعلیم و تربیت میں کم حصہ لیتے ہیں خاص طور پر ڈیجٹل مہارت سیکھنے میں دلچسپی نہیں رکھتے ہیں۔ادارے کا کہنا ہے کہ ملک میں ایک تہائی سے کم 55 سے 64 برس کے افراد سیکھنے میں ملوث ہیں، لیکن اس عمر کے زیادہ تر لوگ ڈیجٹل مہارت نہیں رکھتے ہیں۔ادارے کی جانب سے دلیل پیش کی گئی ہے، ایک ایسے وقت میں جب لوگوں کو بڑی عمر تک روزگار میں رہنے کی ضرورت ہے، وہ ملازمت پر برقرار رہنے کے لیے ضروری ڈیجٹل قابلیت سے محروم ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں