(ن) لیگ اصل میں پاکستانی اداروں کے خلاف کیا پلان رکھتی ہے؟ ابنِ صحرا نے سارا کچا چٹھا کھول دیا

لاہور( نیوز ڈیسک) معروف کالم نگار ابن صحرا کا کہنا ہے کہ مریم نواز کی پیشی کے دوران جو کچھ ہوا اس سے بھی بڑھ کر ہوسکتا تھا اگر (ن) لیگیوں کو نیب دفتر کے اندر گھس جانے کا موقع مل جاتا۔ اپنے تازہ ترین کالم میں اب صحرا تحریر کرتے ہیں کہ “برادرِمکرم آصف عفان گذشتہ سے پیوستہ کالم میں

یوں رقمطراز ہوئے کہ ”حکمران ماضی کے ہوں یا موجودہ ان سبھی کے لیے نیب آنا جانا کوئی اچنبھے کی بات نہیں، انہیں نہ سُبکی محسوس ہوتی ہے نہ ندامت، کلف لگی پوشاک پر واسکٹ زیب تن کیے ہوئے ، چم چم کرتے جوتے، سیلقے سے بنائے گئے بال اور خوب کھینچ کر کی گئی شیو دیکھ کر یوں لگتا ہے یہ پیشی بھگتنے نہیں بلکہ فیتہ کاٹنے آئے ہیں۔ پیشی بھگت کر باہر نکلتے ہی وکٹری کا نشان ایسے بناتے ہیں گویا کوئی معرکہ سر کر آئے ہوں اور اپنے کارناموں کی ایسی ایسی توجیہہ اور وضاحت پیش کرتے ہیں کہ الفاظ خود شرما جائیں۔ سُبکی، ندامت اور شرمندگی کے ساتھ ساتھ جلنا، کُڑھنا تو بس عوام ہی کا نصیب ہے کہ انہوں نے جنہیں نجاب دہندہ اور اپنے دکھوں کا مداواسمجھا وہی خائن نکلے“۔محترمہ مریم نواز کی نیب کے دفتر میں ڈرامائی پیشی اور اس میں روا رکھے جانے والے تھرلر اور ایکشن سے بھرپور مناظر دیکھ کرمیرا دھیان آصف عفان صاحب کی متذکرہ بالا تصویر کشی کی جانب مبذول ہو گیا۔11 اگست کو نیب آفس پر جتھا بند افرادکا پتھروں سے حملے کی کسر رہ گئی تھی جو مریم کے متوالوں نے پوری کر دی۔ نیب پیشی سے پہلے مسلم لیگ ن کے ایم این ایز ، ایم پی ایز، پارٹی تنظیمی عہدیداران اور کارکنان کو جس طرح سے چارج کی گیا اُس ریہرسل کی بدولت احتساب کے قومی ادارے پر دھاوا یا حملے کے سین میں جان پڑی وہاں موجود رپورٹرز نے بحشمِ خود ملاحظہ کیا کہ ن لیگیوں کے ارادے ، ادارے کے اندر گھس

کراملاک سے لیکر نیب اہلکاروں تک ہر شے کو تہس نہس کر دینے کے تھے۔ نیب کا قصور صرف اتنا تھا کہ اُس نے سینکڑوں کنال اُس زمین کا حساب مانگا تھا جو محترمہ مریم نواز کے نام ہے اور جس کی ”آمدورفت “کا موصوفہ کے پاس کوئی حساب ہے اور نہ ہی کسی کتاب میں کچھ درج ہے۔ یاد رہے محترمہ مریم نواز نے دنیا جہاں کے سامنے(بذریعہ الیکٹرانک میڈیا) اقرار کیا تھا کہ ” میری لندن تو کیا پاکستان میں بھی کوئی جائیداد نہیں۔“یہ اور بات ہے کہ انہوں نے کچھ عرصہ بعد ٹی وی چینلوں کے ذریعے عوام کو ”خوشخبری“ دی کہ تقریباً95 کروڑ کے اثاثے میرے نام ہیں۔ ویسے جس تزک و احتشام سے مریم نواز نیب دفاتر پر حملہ آور ہوئیں انہوں نے اپنے والد بزرگوار کی یادیں تازہ کردیں کسے یاد نہیں 1997 ءمیں جب میاں نوا ز شریف وزیر اعظم تھے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس عزت مآب جسٹس سجاد علی شاہ (مرحوم) نے انہیں عدالت طلب کیا تو انصاف کے ایوانوں میں بیٹھے ججز حضرات کو چھَٹی کا دودھ یاد دلانے کی غرض سے پنجاب ہاﺅس اسلام آباد میں پہلے تون لیگیوں کی تواضح قیمے والے نان، بریانی او رائتے سے کی گئی بعد ازاں چشمِ فلک نے دیکھا کہ لیگی کارکن سپریم کورٹ پر ایسے حملہ آور ہوئے کہ چیف جسٹس سمیت دیگر ججوں کو جان بچانے کی غرض سے انصاف کی کرسیاں چھوڑ کر واش رومز سمیت مختلف جگہوں پر پناہ لینا پڑی۔ آنجہانی مکیش جی کاکیا شاندار گیت ہے کہ/ذکر جب چھڑ گیا قیامت کا/بات پہنچی تیری جوانی تک۔میاں نواز شریف نے انصاف کے ایوان پر 1997 میں ایک قیامت ڈھائی تو 2020 میں دوسری آفت احتساب کے ادارے پر صاحبزادی کی صورت میں ٹوٹ پڑی۔ قارئین کرام! ذرا دیر ٹھہر کر سوچنے سے آپ یقیناً اس نتیجے پر پہنچ جائیں گے کہ متذکرہ جماعت کے عزائم ریاست کے انتہائی اہم ستون قرار دئیے جانے والے اداروں کے بارے میں کیا ہیں

اور انہیں تباہی سے دو چار کرنے کے لیے وہ ہرحد تک جا سکتے ہیں۔ یہ تو ہو گئیں نواز لیگ کی ماضی اور حالیہ وارداتوں کا ذکر اب ذرا حکومتی بذر جمہروں کی بھی خبر لے لیں جو اپنی سیاست چمکانے او ر عوام کی توجہ غربت، مہنگائی ، بیماری ، بیروزگاری ، جہالت اور بدامنی سے ہٹانے کی خاطر ہر دو چار دس دن بعد نواز شریف کا راگ اونچے سُروں میں الاپنا شروع کر دیتے ہیں۔الیکشن سے پہلے کہتے تھے کہ اقتدار میں آ کر نواز، زرداری سے لوٹی ہوئی دولت نکلوائیں گے زرداری کی بات چھوڑیں کہ اُسے پکڑنا مشکل ہی نہیں ناممکن ہے ۔ خیر عدالت ِ عظمیٰ نے نواز شریف کو اقتدارسے بے دخل کر کے قید کی سزا بھی سنا دی ۔صوبائی وزیر صحت سے لیکر سابق چیف ایگزیکٹو شوکت خانم ڈاکٹر فیصل سلطان تک کی جھوٹی سچی گواہیوں اور رپورٹوں کے بعد حکومت نے خود قیدی کو بیرون ملک جانے کی اجازت دی نواز شریف صاحب لندن پہنچ کر کافی سے لیکر واک کے مزے بھی کر رہے ہیں اور لوٹی ہوئی مبینہ دولت میں سے ایک پینی بھی پاکستان کو نہیں ملی اس صورتحال میں حکومت پر تنقید شروع ہوئی تو پھر وہی شہزاد اکبر پھر وہی پریس کانفرنس پر پریس کانفرنس۔ جس کا حاصل حصول کچھ نہیں منجھے ہوئے سیاستدان شیخ رشید کا یہ کہنا ہے کہ نواز شریف کے باہر جانے پر وزیر اعظم عمران خان بہت پچھتا رہے ہیں ، کسی سیانے کے مطابق جو مکا لڑائی کے بعد یاد آئے اُسے اپنے منہ پر مار لینا چاہیے۔ اگر حکومت نواز شریف کو واپس لانے میں اتنی ہی سیریس ہوتی تو سابق وزیر اعظم کے ضمانتی شہباز شریف جونہی بڑے بھائی کے بغیر واپس آئے تھے حکومت کا وکیل فوراً عدالت سے رجوع کرتااور سابق وزیر اعلیٰ کو کٹہرے میں کھڑا کرنے کی کوشش کرتا، ایسا کچھ بھی نہیں ہوا اس کا صاف اور سیدھا مطلب یہ ہے کہ حکومت احتساب، لوٹی ہوئی دولت اور مفرور افراد کو وطن واپس لانے میں قطعی سنجیدہ نہیں بیان بازیاں، ڈرامے بازیاں ان سیاستدانوں سے جتنا مرضی کروا لو۔ ملک و قوم کا بھلا اس سے ہونے والا نہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں