لڑکا بن کر یونیورسٹی تک تعلیم حاصل حاصل کرنیوالے باہمت خواجہ سرا کی کہانی، جانتے ہیں اس کا تعلق پاکستان کے کس شہر سے ہے

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک ) باہمت اور لگن کی زندہ مثال ہے ثنیہ عباسی نامی ٹرانس جینڈر میک اپ آرٹسٹ جو کہ لاہور میں رہتی ہیں اور اپنے پیشے میں مہارت بھی رکھتی ہیں انہوں نے بتایا کہ جب وہ پیدا ہوئیں تو ان کے والدین اسے بیٹا سمجھتے تھے، یونیورسٹی تک تعلیم لڑکا بن کرحاصل کی لیکن وہ اندر سے خود کولڑکی محسوس کرتی تھیں۔ ثنیہ عباسی کا کہنا تھا کہ پاکستان

میں بسنے والی ٹرانس جینڈرکمیونٹی عبادت کے لئے مسجد میں جاتے ہوئے ڈرتی ہے۔ بہت سے ٹرانس جینڈر مسجد میں جاکر نماز پڑھتے ہیں ، وہ خود بھی مسجد میں جاکرنماز پڑھتی تھیں لیکن کچھ مولویوں اورمسجد انتظامیہ نے کہا کہ تمھارے کپڑے کیسے ہوتے ہیں، تمھاری وجہ سے دوسرے لوگوں کی نماز خراب ہوتی ہے، اس وجہ سے اب میں مسجد نہیں جاتی کہ کسی دوسرے کا ایمان خراب نہ ہو، میں اب گھرمیں ہی نماز پڑھ لیتی ہوں کیونکہ سجدہ تواللہ تعالی نے قبول کرنا ہوتا ہے۔ ثنیہ نے کہا جب وہ پیدا ہوئیں توان کے والدین انہیں بیٹا ہی سمجھتے تھے اورایک بیٹے کی طرح کا ہی سلوک کیا جاتا تھا، اگرپیدائش کے وقت ہی معلوم ہوجائے کہ بچہ ٹرانس جینڈر ہے تو پھر تو شاید آج کوئی بھی ٹرانس جینڈر زندہ نہ ہوتا سب کو پیداہوتے ہی قتل کردیا جاتا ، یہ توجیسے جیسے بچہ بڑا ہوتا ہے تواحساس ہوتا ہے کہ وہ ٹرانس مین ہے یا ٹرانس ویمن۔ ثنیہ کا کہنا تھا انہوں نے یونیورسٹی تک کوایجوکیشن میں تعلیم حاصل کی ہے، سکول میں لڑکے مذاق کرتے تھے، مختلف ناموں سے پکارتے اورسیٹیاں بجاتے تھے۔ کالج میں بھی یہ سب برداشت کرنا پڑا۔ انہوں نے بتایا کہ یونیورسٹی میں امتحانات کے دوران ہمارے ایچ او ڈی نے مجھے بہت دکھ دیا، میں نے اسکارف لے رکھا تھا جس پرہیڈ آف ڈیپارٹمنٹ کوغصہ آگیا اوراس نے سب کے سامنے مجھے وہ باتیں سنائیں کہ تم ہوکون، یہ کس طرح کے کپڑے پہنے ہیں، تم تعلیم حاصل نہیں کرسکتے اپنے ماں باپ کا پیسہ ضائع کر رہے ہو، اس واقعہ سے میں چھ ماہ تک بہت زیادہ ڈسٹرب رہی تھی۔ 25 سالہ ٹرانس جینڈر ثنیہ عباسی نے بتایا کہ صدیوں سے یہ مفروضہ ہے کہ خواجہ سرا کا جنازہ نہیں پڑھایا جاتا،یا پھراس کا جنازہ رات کے اندھیرے میں اٹھایا جاتا ہے لیکن انہوں نے ابتک ایسا کوئی واقعہ نہیں دیکھا حالانکہ گزشتہ چندبرسوں میں کئی ٹرانس جینڈرز کی وفات ہوئی اوران کے جنازے بھی ہوئے ہیں۔ خواجہ سرا ثنیہ عباسی نے کہا جب تک معاشی حوالے سے والدین کی محتاج تھیں وہ لڑکا بن کرہی رہیں تاہم جب اپنے پاؤں پرکھڑی ہوگئیں تو پھر اپنے اندر کی لڑکی کو باہر آنے کا موقع دیا اورآج میں آپ کے سامنے ہوں ۔