زیر سمندر پہاڑی سلسلہ جسے تین ملک فتح کرنا چاہتے ہیں۔۔۔ یہ جگہ کون سی ہے اور اس میں کیا خزانے چھپے ہیں ؟ ناقابل یقین انکشاف

اسلام آباد(ویب ڈیسک) دنیا کا سب سے پُراسرار پہاڑی سلسلہ کسی نقشے پر نظر نہیں آتا۔ زمین کے مختلف علاقوں کو سمجھنے کے لیے کئی مقبول نقشے استعمال ہوتے ہیں جس میں دنیا بظاہر ہموار دکھائی دیتی ہے۔ ان میں سے ایک ’میرکیٹر پروجیکشن‘ ہے مگر آپ اس پہاڑی سلسلے کو یہاں نہیں دیکھ سکتے۔اسی طرح پیٹرز پروجیکشن

اس سے بھی زیادہ مقبول اور درست متبادل نقشہ ہے لیکن یہاں بھی آپ کو یہ پہاڑی سلسلہ نہیں ملے گا۔گھومتے نقشے میں قطب شمالی پر پلاسٹک کا ایکسل اسے چھپائے رکھتا ہے اور ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یہاں دیکھنے لائق کچھ نہیں۔لیکن یہی وہ مقام ہے جہاں آپ کو لمانوسوو رِج کا پہاڑی سلسلہ ملے گا۔ یہ سائبیریا سے شروع ہوتے ہوئے پہلے گرین لینڈ سے گزرتا ہے اور کینیڈا تک پھیلا ہوا ہے۔یہ 1700 کلومیٹر سے زیادہ پھیلا ہوا ہے۔ اس کا بلند ترین مقام سطح سمندر سے تین اعشاریہ چار کلومیٹر کی اونچائی پر موجود ہے۔یہ پہاڑی سلسلہ زیادہ مقبول نہیں لیکن یہ تین ممالک کے اس تنازعے کا مرکز بنا ہوا ہے جو قطب شمالی کے گرد سمندری علاقے پر اپنے حق کا مطالبہ کرتے ہیں۔ڈنمارک کے مطابق یہ پہاڑی سلسلہ اس کے خود مختار علاقے گرین لینڈ کا حصہ ہے۔ روس کے مطابق یہ علاقہ ایک سائبرین جزیرے کا حصہ ہے۔ اور کینیڈا کے مطابق یہ اس کے ایلزمیئر جزیرے کا حصہ ہے۔تو کس کی بات حقیقت کے زیادہ قریب ہے؟یہ پہلاڑی علاقہ 1948 میں سوویت یونین کی جانب سے آرکٹک کے مرکز پر ابتدائی کھوج کے دوران دریافت کیا گیا تھا۔ سمندری برف پر اپنے خیمے سے سوویت سائنسدانوں کو معلوم ہوا کہ شمال کی جانب نئے سائبرین جزیروں پر پانی کی گہرائی کم ہے۔یہاں سے پتا چلا کہ سمندر دو حصوں میں ایک پہاڑ کے ذریعے بٹا ہوا ہے۔ سائنسدان پہلے سمجھتے تھے کہ سمندر میں مسلسل ایک طاس ہے۔سنہ 1954 میں سائنسدانوں نے ایک نقشہ شائع کیا جس میں زیر سمندر پہاڑی سلسلے کو دیکھا جا سکتا تھا۔ انھوں نے اسے 18ویں صدی کے روسی شاعر میخائل لمانوسوو کا نام دیا جس نے قریب 200 سال قبل آرکٹک بیسن میں ایسی خصوصیات کی پیشگوئی کی تھی۔آج یہ اس کی نمایاں خصوصیت ہے۔ اس پہاڑ کی دریافت کے 70 سے زیادہ سال بعد بھی یہ دنیا بھر میں نقشوں پر ظاہر کی گئی سب سے بُری سطح سمندر میں سے ایک ہے۔یہاں تک کہ آج کے جدید بحری جہاز آرکٹک کے پانیوں میں طاقتور سنگل پھینکتے ہیں لیکن اس پہاڑ کے کچھ سو میٹر تک کا ہی پتا چل سکا ہے۔ یہ ایسا ہے جیسے ایتھلیٹس کے ٹریک پر ایک کنارے سے دوسرا کنارا نظر آئے۔اس علاقے کے بارے میں چارٹس پر زیادہ معلومات نہ ہونے کی وجہ یہاں نقشے

کے سلسلے میں ہونے والے نئے دوروں میں ہمیشہ نئی باتیں سامنے آتی ہیں۔کینیڈا سے آرکٹک کے نقشے کے سلسلے میں آنے والی ٹیم کی سربراہ پولا ٹریوگلینی کا کہنا ہے کہ ’یہ ہر مرتبہ ایک نئی عینکس پہننے جیسا ہے۔ آپ کو علم نہیں ہوتا کہ اپ کیا ڈھونڈنے والے ہیں۔‘لیکن یہ پہاڑی سلسلہ کیسے بنا، یہ سمجھنے کے لیے چوٹی اور پہاڑی سلسلے کی وادی کا نقشہ بنانا ناکافی ہے۔ تین ملک اس بڑے علاقے کے دعویدار ہیں۔یہ سمجھنے کے لیے سائسندانوں کو پہاڑ کا ایک چھوٹا ٹکرا حاصل کرنا ہوگا۔ اس پتھر سے پہاڑ کی ارضیاتی بنیاد کے بارے میں پتا چل سکے گا۔مشکل شواہدکرسٹین نڈسن ڈنماک اور گرین لینڈ میں ارضیات کے سروے کے لیے ایک جیو فزیسسٹ ہیں۔ وہ پہلے شخص تھے جس نے اس پہاڑ کا ایک بڑا پتھر حاصل کیاکینیڈا اور روس کے سائسدانوں نے بھی اس پہاڑی سلسلے کے پتھروں کا جائزہ لیا ہے۔ لیکن یہ جاننا مشکل ہے کہ آیا انھوں نے واقعی اس پہاڑ کا پتھر حاصل کیا ہے۔ کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ اس پہاڑ کے بجائے اردگرد پڑے پتھروں کا جائزہ لے رہے ہوں جو وہاں کہیں سے بھی آئے ہوں۔آرکٹک کے ساحلوں پر موجود برف کی تہوں کی وجہ سے آرکٹک کی سطح سمندر پر کئی طرح کے پتھر پڑے ہوتے ہیں۔ ہو سکتا ہے کہ یہ ’گرا ہوا پتھر‘ وہاں سائبیریا کے برف کے پہاڑ سے آیا ہو۔ یا ہو سکتا ہے کہ یہ پتھر شمالی کینیڈا سے سفر کرتا ہوا غلطی سے اس پہاڑ پر گِر گیا ہو۔ اس طرح نتائج غلط ہو سکتے ہیں۔پانی میں سینکڑوں میٹر سے لے کر ہزاروں کلو میٹر تک موجود پہاڑی سلسلے کا پتھر حاصل کرنا مشکل ہوسکتا ہے اور وہ بھی تب جب سمندر کے اوپر برف کی تہہ جمی ہوئی ہو۔ وہاں تک پہنچنا ہی مشکل کام ہے۔نڈسن اور ان کے ساتھیوں نے ایک روسی برف توڑنے والی مشین استعمال کی تھی جو جوہری توانائی سے چلتی ہے۔ اسے انھوں نے آرکٹک کی برف توڑنے کے لیے استعمال کیا۔ اس کے ساتھ سویڈن کی اسی نوعیت کی مشین اوڈن استعمال کی گئی۔ عملے میں ڈینش محققین بھی موجود تھے۔نڈسن کی ٹیم اس پہاڑ کو تین کلومیٹر تک کاٹنے میں کامیاب ہوگئے تھے۔ وہ ایک ایسا پتھر بھی اپنے ساتھ لے گئے جو نارنجی رنگ کا تھا اور رگبی کی گیند جتنا بڑا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ ’ابتدا میں کسی نے اس نارجنی اور خاکی پتھر پر دھیان نہیں دیا۔ لیکن میں جاننا چاہتا تھا کہ یہ کیا ہے۔ تو ہم نے اسے کاٹنا شروع کردیا۔‘اندر جو ملا اس کی توقع نہ تھی۔ ہر تہہ پر لکیریں بنی ہوئی تھیں جیسے کسی درخت کی ہوں۔ ان تہوں میں مینگنیز آکسائیڈ کی بڑی مقداد تھی جو سطح سمندر پر ملتی ہے جہاں ایسے کئی مادے موجود ہوتے ہیں۔اسے بننے میں ہزاروں سال لگتے ہیں۔ اس سے اشارہ ملا کہ یہ چٹان کا پتھر ہے، نہ کہ کوئی گِرا ہوا پتھر۔نڈسن نے بریلیئم 9 اور 10 (تابکار آئسوٹوپ) کا استعمال کرتے ہوئے اس پتھر کی عمر نامی۔ بریلیئم 10 سٹریٹو سفیئر پر بنتی ہے یعنی سطح زمین سے 50 کلومیٹر اوپر۔ یہ تابکاری کے بعد بریلیئم 9 میں تبدیل ہوجاتی ہے۔ دونوں کے تناسب سے نڈسن اس پتھر کی عمر معلوم کرسکتے تھے۔اس پتھر کی کئی تہوں سے انھیں معلوم ہوا کہ اس کی تاریخ 80 لاکھ سال پرانی ہے۔ سب سے اندرونی تہہ سب سے پرانی جبکہ باہر کی تہہ نئی تھی۔نڈسن کے مطابق اس سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ چٹان پولر بیسن میں قطبی بیسن میں 80 لاکھ سال سے اسی طرح موجود رہا ہے۔ یہ برفانی دور سے بھی پرانی ہے۔ایسا لگا جیسے میں شرلاک ہومز ہوں جو کھڑکی کے باہر ملے سراغ کا پتا لگا رہا ہوں۔ میں ثابت کر سکتا تھا کہ یہ پتھر لمانوسوو رِج کا حصہ ہے۔‘لیکن نارنجی اور خاکی سطح کے نیچے ریت کا پتھر اس پہاڑی سلسلے کے بارے میں سب سے دلچسپ معلومات رکھتا تھا۔ اس پر موجود لکیریں اس وقت بنی تھیں جب پہاڑ بننے کا واقعہ پیش آرہا تھا۔ جب پہاڑ بنا تو مٹی معدنیات میں تبدیل ہوگئی۔اپنے اسی طریقے سے ہڈّسن نے اس کی تاریخ کا پتا لگانا چاہا لیکن اس مرتبہ انھوں نے پوٹاشیئم کا آئسوٹوپ استعمال کیا۔ انھوں نے معدنیات کی عمر معلوم کی جس کا مطلب یہی تھا کہ وہ اس پہاڑ کی عمر معلوم کر رہے ہیں۔اس سے معلوم ہوا کہ پہاڑ بننے کا واقعہ 40 کروڑ 70 لاکھ سال قبل پیش آیا تھا۔ مٹی کے ذروں نے پہاڑ تخلیق کیا اور یہ اس سے بھی پرانے تھے۔ ان کی عمر 1.6 ارب سال تھی۔پہاڑوں کی اہمیت کیا ہے؟روس، ڈنمارک اور کینیڈا

پہلے سے سمندر کے ان حصوں پر اپنا حق رکھتے ہیں اور اپنے ساحلوں کے پاس ان تک رسائی رکھتے ہیں۔ ساحلی ملک ایک خاص معاشی زون قائم کرسکتے ہیں جو ایک کنارے سے 370 کلومیٹر طویل ہو گا۔اقوام متحدہ کے سمندر کے قانون کے مطابق اس سے انھیں مچھلیاں پکڑنے، عمارتیں تعمیر کرنے یا قدرتی وسائل حاصل کرنے کا حق مل جاتا ہے۔ قانون کے مطابق ملک اس سے بھی تجاوز کر سکتے ہیں اگر وہ ثابت کر سکیں کہ سطح سمندر ان کے براعظم کا حصہ ہے۔اس کے لیے ملکوں کو شواہد حاصل کرنے ہوں گے کہ یہ ان کے ملک کا وہ حصہ ہے جو پانی میں ہے۔ اس سے مراد ہے کہ انھیں ثابت کرنا ہوگا کہ یہ سطح سمندر کوئی پہاڑی چٹان نہیں جو زیر آب ہے، ورنہ اس کا ان کے ملک کے زمینی رقبے سے کوئی تعلق نہیں۔نڈسن کی معلومات کے مطابق یہ ثبوت ہے کہ لمانوسوو کی چٹان زیر آپ زمینی حصہ ہے اور یہ کوئی سطح سمندر سے بنی ہوئی چیز نہیں۔ یہ ایسا ہے جیسے اٹلانٹک کے وسط میں چٹان موجود ہے جو آئس لینڈ سے ہوتی ہوئی انٹارٹیکا تک پھیلی ہوئی ہے۔اسی معلومات کی تصدیق دوسری تحقیق میں بھی ہوتی ہے، جیسے کینیڈا میں ارضیاتی سروے کے سلسلے میں ہونے والی تحقیق جس کی سربراہی رتھ جیکسن نے کی تھی اور اس میں زلزلوں پر تحقیق ہوئی تھی۔نڈسن کہتے ہیں کہ یہ ’واقعی ایک براعظم ہے۔‘یہ ایسا ہی براعظم ہے جیسا ہم مشرقی گرین لینڈ میں دیکھتے ہیں۔ یہ گرین لینڈ کا تسلسل ہے۔ ہمارا بنیادی نقطہ یہی ہے۔ ہم نے پتھروں کو جمع کیا ہے اور ثابت کیا ہے کہ یہ چٹان کا حصہ ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ وہ کیا ہیں۔ اور ہم گھر پر موجود ہیں۔’ہو سکتا ہے کہ یہ چٹان گرین لینڈ کا حصہ ہو لیکن اگر آپ دوسری طرف سے دیکھیں گے تو یہ روس کا تسلسل معلوم ہوگا۔ ایسے پتھر روسی جزیروں پر بھی ملے ہیں۔ نڈسن کے مطابق کینیڈا میں بھی شواہد ملے ہیں کہ یہ پہاڑی سلسلہ اس کے جزیرے کا تسلسل ہے۔یہ حیران کن نہیں کیونکہ

ایلزمیئر جزیرہ گرین لینڈ کے قریب ہے جس تک رسائی شمالی سرے پر 20 کلو میٹر چوڑی آبنا سے ہوتی ہے۔ درحقیقت یہ ممکن ہے کہ لمانوسوو رِج ایک ہی وقت میں روسی، کینیڈین اور گرین لینڈک ہے۔نقشوں کی ازسرنو تخلیقروس، ڈنمارک اور کینیڈا کی جانب سے اقوام متحدہ کی براعظم کی حدود کی کمشین کو دائر کیے گئے مطالبوں میں لمانوسوو رِج مرکزی کردار ادا کرتی ہے۔ کسی ملک کی قائم حدود سے 2500 میٹر گہرائی تک اگر زمین موجود ہے تو اس بنیاد پر حدود سے تجاوز کیا جاسکتا ہے۔اگر تینوں ملک اسے اصول کا استعمال کرتے ہیں تو کئی علاقوں پر ایک سے زیادہ ملک تجاوز کر جائے گا۔ اس میں قطب شمالی کے اردگرد 54850 مربع ناٹیکل میل کا علاقہ شامل ہے جس کے دعویدار تینوں ملک ہیں۔تو آگے کیا ہو گا؟ کیا یہ ممکن ہے کہ علاقائی تنازعے پر تینوں آرکٹک ملک آپس میں لڑ پڑیں گے؟اس کا جواب ممکنہ طور پر نہیں میں ہو گا۔ اگر ملک مشتعل ہوتے ہیں تو کئی دہائیوں تک اقوام متحدہ کے طریقہ کار کی پاسداری، جو مشکل ہونے کے ساتھ ساتھ مہنگی بھی ہے، ضائع جائے گی۔ ان تینوں ملکوں نے نقشوں پر اپنی لکیریں کھینچ کر امن اور تعاون پسند طریقہ اپنایا ہے جو کہ اقوام متحدہ کے سمندر کے قانون کے عین مطابق ہے۔آرکٹک فائیو میں ان ممالک کے علاوہ امریکہ اور ناروے شامل ہیں اور یہ اعلامیہ 2008 میں وجود میں آیا تھا تاکہ آرکٹک کی سرحدوں کو سلجھایا جاسکے۔ اس کی بدولت حالات اس وقت قابو میں آئے تھے جب روس نے قطب شمالی پر ایک سال قبل اپنا پرچم لگا دیا تھ دراصل اگر بین الاقوامی سطح پر سرحدی تنازع پیش آتا ہے تو اقوام متحدہ کی سرحدوں کی کمشین اس میں مداخلت

نہیں کرتی۔ڈرہم یونیورسٹی میں جغرافیہ کے پروفیسر فلپ سٹینبرگ جو بین الاقوامی سرحدوں کے ریسرچ یونٹ کے ڈائریکٹر بھی ہیں، کہتے ہیں کہ ’کمیشن کہتی ہے کہ ’سیاست سے دور رہیں۔ وہ زمینی خودمختاری کے کسی مسئلے میں نہیں الجھتے۔‘اس سلسلے میں فاک لینڈ جزیرے یا ملوینز کی مثال سب کے سامنے ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ’جیسے ہی ارجنٹینا کی جانب سے مطالبہ کمیشن کو موصول ہوا تو برطانیہ نے اعتراض کردیا۔‘کمیشن نے ارجنٹینا کے سرحدی دعوے کو محض براعظم کی حدود تک زیر غور رکھا لیکن متنازع جزیرے کے گرد پانیوں کو نہیں۔حب الوطنی پر مبنی رویےملکوں نے پُرامن طریقے کار کا وعدہ کیا ہے لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ اس مسئلے میں سیاسی دلچسپی نہیں ہو گی۔اب تک اقوام متحدہ کی کمشین نے تینوں مطالبات پر کوئی فیصلہ نہیں کیا۔ لندن میں رائل ہالووے یونیورسٹی میں جغرافیہ کے پروفیسر کلوس ڈوڈز کے مطابق روس نے 2001 میں اس پر پہلا مطالبہ دائر کیا تھا اور سال کے آخر تک مثبت تاثر ملا تھا۔کمشین نے روس کو عندیہ دیا تھا کہ وہ ان کے مطالبے سے ہمدردی رکھتے ہیں۔ یہ روسیوں کے لیے دلچسپ بات ہے۔ 20 سال انتظار کے بعد مجھے لگتا ہے کہ وہ جو چاہتے ہیں انھیں مل جائے گا۔ یہ اس بات کی تصدیق ہوگی کہ براعظم کی حدود اور زیر سمندر چٹانیں ان کی ہیں۔‘پروفیسر ڈوڈز کہتے ہیں کہ اس سے روس مفاہمت کی اچھی پوزیشن پر آجائے گا۔ ‘آپ سوچ سکتے ہیں کیا ہو گا۔ صدر پوتن کسی عظیم مقام پر کھڑے ہوں گے۔ ان کے پاس آرکٹک کا بڑا سا نقشہ ہوگا اور وہ کہیں گے کہ ’آرکٹک ہمارا ہے۔‘ایسے رویے متوقع ہیں لیکن انھیں کچھ سختیوں سے قبول کرنا ہوگا۔ اقوام متحدہ کی کمیشن کے پاس کوئی قانونی اختیارات نہیں ہیں۔ اس کے نتائج صرف ثبوت کی سائنسی درستی پر مبنی ہوں گے۔

کمشین یہ تجویز نہیں کرتی کہ نقشے پر لکیریں کہاں کھینچنی ہیں۔ یہ صرف سفارتی سطح پر ہوسکتا ہے۔پروفیسر ڈوڈز کہتے ہیں کہ ’آپ کو لبمی سانس لے کر روس سے مذکرات کرنے ہوں گے۔ پوتن نے ظاہر کیا ہے کہ آرکٹک روس کی بقا کے لیے اہم ہے۔ مجھے لگتا ہے کہ مذاکرات بہت مشکل ہوں گے۔ میں کینیڈا اور ڈنمارک کے لیے پُرامید ہوں لیکن یہ مشکل ہو گا۔‘روس نے اقوام متحدہ میں اپنے مطالبے کے حوالے سے اتنی جرات نہیں دکھائی جتنی وہ دکھا سکتا تھا۔ اپنے دائر کردہ مطالبے میں روس کا علاقہ قطب شمالی کے فوراً بعد رُک جاتا ہے۔ یہ ڈنمارک اور کینیڈا کی حدود سے پہلے پہلے تک علاقے کا مطالبہ کرتا ہے۔ دوسری طرف ڈنمارک نے اپنے مطالبے میں لمانوسوو رِج کو شامل کرتے ہوئے روس کے خاص معاشی زون کو بھی شامل کرلیا ہے۔سٹینبرگ کہتے ہیں ’ڈنمارک نے سوچا ہے ہم روس تک جانے کے لیے ساری سائنس لگا دیں گے لیکن کینیڈا اور روس نے سوچا کہ ہم کسی صورت دوسرے ملک کے اتنا قریب سمندری علاقہ حاصل نہیں کر سکیں گے تو ایسا مطالبہ کیوں کریں؟‘شمالی وسائلمرکزی آرکٹک سے متعلق ایک غلط رائے یہ ہے کہ علاقائی تنازع سے جھڑپ ہوسکتی ہے۔ جب سٹینبرگ کے محکمے نے پہلی مرتبہ 2008 میں اپنا وہ نقشہ شائع کیا جس میں ملکوں کی سرحدیں مل رہی تھیں تو ایک طوفان برپا ہوگیا۔’یہ نقشہ وائرل ہو گیا۔ لوگ کہنے لگے کہ دیکھوں آرکٹک میں جنگ ہونے والی ہے۔ مجھے آج بھی اس تاثر کو رد کرنا پڑتا ہے۔‘اس غلط رائے کی وجہ ہے کہ لوگوں کو لگتا ہے بہت کچھ داؤ پر لگ چکا ہے۔ تیل اور دوسرے ذخائر اکثر توجہ کا مرکز ہوتے ہیں۔

حکومتی بیانات سے بھی ایسی رائے کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے۔جب کینیڈا نے سنہ 2013 میں اقوام متحدہ میں اپنا دعویٰ دائر کیا تھا کہ تو اس کے وزیر خارجہ نے کہا تھا کہ ’ہم پُرعزم ہیں کہ ہمارے شہری ان ’بے پناہ وسائل‘ سے فائدہ اٹھا سکیں جو کینیڈا کے انتہائی شمال سے ملیں گے۔‘لیکن یہ ’بے پناہ وسائل‘ شاید بعد میں کچھ بھی نہ نکلیں۔ یونیورسٹی آف مینی ٹوبا میں دفاعی اور سکیورٹی سینٹر کی ڈائریکٹر انڈریا کیرون کو بھی یہی لگتا ہے۔’یہ واضح ہے کہ تیل اور گیس کے ذخائر ملکوں کے خاص معاشی زونز کے اندر موجود ہیں۔ سمندری علاقے میں وسائل ہونا غیر واضح ہے۔‘سٹینبرگ بھی یہی کہتے ہیں کہ مرکزی آرکٹک کسی کے لیے بھی ممکنہ معاشی پیداوار کا ذریعہ نہیں۔بحر میں گرمیوں کے دوران پتلی اور ڈبو دینے والی برف میں سمندری سفر بھی حوصلہ افزا پہلو نہیں۔ سمندری علاقے پر حق حاصل ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ آپ شپنگ کو کنٹرول کرسکیں گے یا کمرشل سطح پر مچھلیاں پکڑ سکیں گے۔ یہ صرف سمندر کے اندر اور نیچے سطح تک محدود ہے۔اگر وسائل کی کھوج فائدہ مند نہ رہی یا تکنیکی اعتبار سے ممکن نہ ہوئی تو یہ بحث کیوں؟سٹینبرگ کے مطابق ایک وجہ قومی فخر ہے۔’کئی آرکٹک ریاستوں کے لیے شمال پر حق یا بلکہ اسے فتح کرنا ان کی قومی شناخت کا حصہ ہے۔ کینیڈا کی ڈاک کی ٹکٹ پر سانتا کو دیکھا جاسکتا ہے۔ بچے بڑے ہوتے ہوئے سوچتے ہیں کہ سانتا کینیڈین ہیں۔‘ایک عام وجہ یہ ہے کہ ’اگر آپ دعویٰ نہیں کریں گے تو کوئی اور کر دے گا۔‘ثقافتی اہمیتآکسفورڈ بروکس یونیورسٹی میں سیاسی جغرافیہ کی سینیئر پروفیسر انگرڈ مڈبی کے مطابق ’یہ وہ علاقہ ہے جس میں صدیوں سے دلچسپی رہی ہے۔‘’قطب شمالی سے متعلق کئی داستانیں ہیں۔ ہم بچپن میں سنتے تھے کہ قطب شمالی سانتا کلاز کا گھر ہے۔ یہ دنیا سے متعلق ہماری ذہنی کیفیت ہے۔ اور یہ ایک ایسی جگہ ہے جہاں لوگ کبھی نہیں جائیں گے۔ یہ ایسی چیز ہے جو صرف سوچ تک محدود ہے۔‘مڈبی کہتی ہیں کہ قطب کا خیال سیاسی اور علامتی وجوہات کی بنا پر اہم ہے۔قطب شمالی زمین سے دور ہے۔ یہ ایسی جگہ نہیں جہاں کوئی رہے گا لیکن بحر منجمد شمالی مزید جنوب کی طرف جاتا ہے اور آرکٹک کے ساحلی

ملکوں سے جا کر ملتا ہے۔ ثقافتی اور شناختی اعتبار سے اس بحر سے متعلق خیالات ان ساحلی ملکوں سے ہی جڑے ہوئے ہیں۔‘آرکٹک کے باشندوں کی زندگیاں ہزاروں برسوں سے پانی اور برف کے گِرد گھومتی رہی ہیں۔ یہاں کے باشندوں کے حقوق کے لیے سرگرم ڈیلی سیمبو ڈرو کے مطابق ’ہمارا برف پر دوسروں سے زیادہ انحصار ہے۔‘وہ کہتی ہیں ’یہاں شمال کی جانب اسے ملانے کے کوششیں ’ناہموار‘ رہی ہیں۔ کچھ ملکوں نے یہاں کے باشندوں سے بات چیت کی ہے لیکن بعض اوقات براہ راست بات چیت نہیں ہوسکی۔‘موسمیاتی تبدیلی سے مرکزی آرکٹک میں دلچسپی بڑھنے کے ساتھ انووٹ کونسل، یہاں کے باشندوں کے حقوق کی تنظیم، نے ریاستوں سے بات چیت پر زور دیا ہے اور ان کے حقوق پر توجہ دینے کا مطالبہ کیا ہے۔آرکٹک کے مرکز میں سمندر کی سطح کا شاید موسیماتی تبدیلی سے زیادہ تعلق نہ ہو۔ خاص طور پر اگر یہاں موجود وسائل کو نکالا نہیں جاتا۔ اسے ماحول کے محافظ کے طور پر دیکھا جا رہا ہے اور اسی بات کی کینیڈا، ڈنمارک اور روس حمایت کرتے ہیں۔استحکام کے لیے یہاں آرکٹک اور دوسری جگہوں کے باشندوں کو اہمیت دی جارہی ہے۔ڈرو کہتی ہیں ’ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ بحر اور ساحلی سمندروں کا آپسی تعلق ہوتا ہے۔ یہاں کے باشندوں اور آرکٹک ریاستوں کے شہریوں کے لیے یہ ممکنہ خطرہ بن سکتا ہے۔‘تینوں ملکوں کے دعوؤں پر اقوام متحدہ کی سائنس کی کمیشن کی طرف سے جواب آنے میں مزید کئی دہائیاں لگ سکتی ہیں۔ممکن ہے کہ مستقبل میں امریکہ بھی دعویٰ دائر کردے جس سے تصویر پھر بدل جائے۔ ناروے نے اپنے مطالبہ میں کم جگہ پر دعویٰ دائر کیا ہے اور اس نے قطبی علاقے کو شامل نہیں کیا جبکہ اس کے تجویز کردہ صرف چند علاقے ڈنمارک سے ملتے ہیں۔ اس نے بھی اپنی تجاویز اقوام متحدہ میں جمع کرادی ہیں۔اب تک لمانوسوو کے پہاڑی سلسلے پر تین ملکوں کے دعوے کافی پُرامن رہے ہیں۔ موسم کی سختی کی وجہ سے ملک آپس میں تعاون کر پاتے ہیں اور سائنسی تحقیق پر مل کر پیسے خرچ کرتے ہیں۔ یہاں برف توڑنے کی ایک دن کی قیمت 250000 امریکی ڈالر سے زیادہ بنتی ہے۔اقوام متحدہ کا طریقہ کار بین الاقوامی ساکھ رکھتا ہے اور اس میں پُرامن تعاون کی شرط موجود ہے۔ اس وجہ سے اس زیر سمندر پہاڑی سلسلے کو فتح کرنے کا نتیجہ سرد جنگ کی گہرائیوں تک نہیں جائے گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں