بادشاہی مسجد سے’ نعلین پاک ‘ کس طرح چوری ہوئی اور اس میں کون کون ملوث تھا؟ اینکر پرسن اُسامہ غازی ناقابلِ یقین حقائق سامنے لے آئے

لاہور(نیوز ڈیسک) تحریک انصاف کے رہنماء ڈاکٹر عامر لیاقت کا کہنا ہے کہ ڈی جی اوقاف طاہر رضا بخاری کی تعلیمی قابلیت اور لوگوں سے تعلقات تو سامنے آ ہی چکے ہیں، جو مسجد وزیر خان میں شوٹنگ کی اجازت دی گئی اس میں یہ خود شامل تھے۔ تفصیلات کے مطابق معروف اینکر پرسن اسامہ غازی کے پروگرام میں گفتگو

کرتے ہوئے عامر لیاقت حسین کا کہنا تھا کہ شوٹنگ میں ملوث ہمارے ایک اداکار نے آ کر معافی مانگ لی، صباء قمر نے بھی پھر معافی مانگ لی تو یہ معاملہ ختم ہوگیا، لیکن تمام مکاتب فکر کے علماء کا مطالبہ یہ تھا کہ اس معاملے میں قصور وار صباء قمر اور بلال سعید نہیں بلکہ ڈی جی اوقاف ہیں، انکو پکڑا جائے، انہوں نے کس بناء پر مسجد وزیر خان میں رقص کی اجازت دے دی؟ دورانِ پروگرام گفتگو کرتے ہوئے اسامہ غازی کا کہنا تھا کہ جب بادشاہی مسجد سے نعلین پاک چوری ہوئے اس وقت بھی اوقاف میں طاہر رضا بخاری تھے اور ان پر یہ الزام بھی ہے کہ انہوں نے ہی نعلین پاک چوری کروائے اور یہہ معاملہ ابھی تک لٹکا ہوا ہےجس پر پروگرام میں شریک تجزیہ کار بابر ڈوگر کا کہنا تھا کہ یہ نعلین پاک کو لے کر نیروبی گئے اور پھر وہاں سے واپس لائے یا نہیں اس کے بعد نعلین پاک چوری ہوگئے، ان پر الزام یہ ہے کہ نعلین پاک چوری کروانے میں ملوث ہیں لیکن انہوں نے اس انکوائری کو دبایا ہوا ہے، ایف آئی آر میں انکا نام بھی ہے۔ عامر لیاقت حسین کا کہنا تھا کہ لاہور میں جامعہ اشرفیہ نے مطالبہ کیا دیگر جامعات سے بھی یہی مطالبہ آیا کہ ڈی جی اوقاف کے خلاف کارروائی کی جائے، لیکن صوبائی وزیر برائے مذہبی امور کے پاس اتنے اختیارات بھی نہیں ہیں کہ وہ ڈی جی اوقاف کے خلاف انکوائری کر سکیں، جس پر انہوں نے تنگ آ کر وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بُزدار کو لکھ دیا ہے کہ انکے خلاف کارروائی کی جائے۔ پروگرام میں شریک تجزیہ کار اسد کھرل کا کہنا تھا کہ اس سے زیادہ طاقت کیا ہوگی ہے کہ یہ 14 سال سے بیٹھے ہوئے ہیں اور سترویں گریڈ سے بیسیوں گریڈ تک پہنچ گئے ہیں پروگرام میں کیا گفتگو ہوئی؟ ویڈیو آپ بھی دیکھیں :