اسرائیل کو تسلیم کیا تو فلسطین کے ساتھ کشمیر سے بھی ہاتھ دھونا پڑیں گے ۔۔۔۔ وزیراعظم عمران خان کا دانشمندانہ بیان ۔۔۔۔ اسرائیل کو تسلیم کرنے والے ممالک شرم سے پانی پانی

لاہور (ویب ڈیسک) پاکستان کے وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ اسرائیل کو اُس وقت تک تسلیم نہیں کر سکتے جب تک فلسطینیوں کو ان کا حق نہیں ملتا۔ ان کے مطابق سعودی عرب کے ساتھ خراب تعلقات کی خبریں غلط ہیں جبکہ پاکستان کی ترقی اور مستقبل چین کے ساتھ جڑی ہیں۔

بی بی سی کی ایک رپورٹ کے مطابق ۔۔۔۔۔انھوں نے یہ باتیں پاکستان کے نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے اینکر پرسن کامران خان کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہیں۔انٹرویو نشر ہونے کے بعد پاکستان کے سوشل میڈیا پر #PMImranKhanonDunyaNews سمیت کئی ٹرینڈ چل پڑے اور صارفین دھڑا دھڑ اس انٹرویو پر اپنا ردعمل دینے لگے۔کسی نے عمران خان کے اسرائیل پر مؤقف کی تعریف کی تو کوئی پروگرام کے میزبان کامران خان کے سوالوں کے انتخاب کی داد دیتا نظر آیا۔اس سوال پر کہ متحدہ عرب امارات کی اسرائیل کے بارے میں پالیسی کو پاکستان کیسے دیکھ رہا ہے، وزیر اعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ پاکستان اسرائیل کو کبھی تسلیم نہیں کر سکتا۔ان کا کہنا تھا کہ ‘اس معاملے پر ہمارا موقف بڑا واضح ہے۔ ہمارا موقف قائداعظم نے 1948 میں واضح کر دیا تھا کہ ہم اسرائیل کو کبھی تسلیم نہیں کر سکتے کہ جب تک فلسطینیوں کو ان کا حق نہیں ملتا۔ ان کی انصاف کے مطابق آبادکاری نہیں ہوتی جو کہ فلسطینوں کا دو قومی نظریہ تھا کہ ان کو ان کی پوری ریاست ملے۔۔۔’وزیر اعظم عمران خان نے مزید کہا کہ ‘اگر ہم اسے تسلیم کر لیتے ہیں تو پھر ایسی ہی صورتحال کشمیر کی بھی ہے تو ہمیں تو اسے بھی چھوڑ دینا چاہیے۔ لہذا پاکستان اسرائیل کو تسلیم نہیں کر سکتا۔’ان کا کہنا تھا کہ ‘جب ہم اسرائیل اور فلسطین کی بات کرتے ہیں تو کیا ہم خدا کو جواب دیں گے کہ ہم ان لوگوں کو جن پر ہر قسم کی زیادتیاں ہوئی ہیں، جن کے حقوق سلب کیے گئے ہیں، ان کو تنہا چھوڑ سکتے ہیں، اس بات کو میرا ضمیر تو کبھی بھی تسلیم نہیں کرتا۔’

انٹرویو میں وزیراعظم عمران نے کہا کہ سعودی عرب کے ساتھ کوئی اختلافات نہیں ہیں اور ان کے ساتھ مضبوط برادرانہ تعلقات قائم ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ تمام ملک اپنے خارجہ پالیسی کے اعتبار سے فیصلہ کرتے ہیں۔ سعودی عرب کی بھی اپنی پالیسی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ‘یہ جو کشمیر کے معاملے پر کہا گیا کہ اس پر او آئی سی کا اجلاس ہونا چاہیے تھا، وہ ان ملکوں کی اپنی اپنی خارجہ پالیسی ہے وہ اپنے فیصلے کریں، پاکستان کا ایک اپنا موقف ہے۔’ان کا مزید کہنا تھا کہ ‘سعودی عرب پاکستان کا اہم اتحادی ہے اور اس نے ہر مشکل وقت میں پاکستان کی مدد کی ہے۔ اور اس بار بھی مشکل ترین وقت میں ہماری مدد کی۔ سعودی عرب سے پاکستان کے تعلقات بگڑنے کی افواہیں بالکل غلط ہیں۔ ہمارے سعودی عرب سے بہترین تعلقات ہیں، ہم سعودی عرب کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں۔’خیال رہے کہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان کشیدہ تعلقات کے پس منظر میں پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ سعودی عرب کے دورے پر ریاض میں ہیں۔ میڈیا رپورٹس میں کہا گیا تھا کہ پاکستان کے آرمی چیف قمر جاوید باجوہ سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان ‘کشیدگی’ کم کرنے کے لیے سعودی عرب کے دورے پر گئے ہیں۔دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کی خبریں اس وقت سامنے آئی تھیں جب پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے پانچ اگست کو مسئلہ کشمیر سے متعلق ایک ٹی وی انٹرویو میں سعودی عرب پر شدید تنقید کی تھی۔