ہوش اڑا دینے والے انکشافات، جان کر آپ یقین نہیں کریں گے

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)سندھ ہائی کورٹ کے بینچ نے ایف آئی اے کو ہدایت کی ہے کہ وہ تمام یتیم خانوں کے مراکز کے معاملات کی تحقیقات کرے اور وہاں یتیموں کی شادیوں سے متعلق ان کے ریکارڈ کی جانچ کرے۔ جسٹس صلاح الدین پنہور کی سربراہی میں سنگل جج بینچ نے اس رپورٹ پر تشویش کا اظہار کیاکہ یتیم

خانے کے مرکز میں رہائش پذیر نوجوان لڑکیوں کی شادیاں ان کی رضامندی کے بغیر کی جا رہی ہیں اور اس طرح کی شادیوں کے بارے میں کوئی ریکارڈ برقرار نہیں رکھا گیا۔انہوں نے ایف آئی اے کے ڈائریکٹر جنرل کو ہدایت کی کہ وہ شادی شدہ لڑکیوں کی موجودہ حیثیت کا پتا لگائیں اور یہ بھی معلوم کریں کہ شادی کے لیے کیا ان لڑکیوں کی رضامندی لی گئی ہے، انہوں نے مزید ہدایت کی کہ اس بات کا بھی پتا لگایا جائے کہ آیا یہ شادیاں جائز ہیں یا نہیں اور کہیں اس میں مجرمانہ فعل یا انسانی اسمگلنگ کا تو کوئی امکان موجود نہیں۔بنچ نے کہا کہ کسی بھی طرح کی غیر قانونی کارروائی کی صورت میں تمام ذمہ دار لوگوں کو کام میں لینا چاہیے جبکہ ایف آئی اے انہیں اپنانے یا گود لینے کے طریقہ کار کی بھی جانچ کرے۔انہوں نے چیف سیکریٹری کو یہ ہدایت بھی کی کہ وہ 15 دن کے اندر اندر سماجی بہبود کے افسران کے ذریعہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ ایسے تمام اداروں کو شادیوں اور دلہنوں کا ریکارڈ رکھنا چاہیے اور لڑکیوں کو اپنی آنے والی زندگی کا انتخاب کرنے کی اجازت دینی چاہیے۔سماعت کے آغاز پر ٹیم کے دیگر اراکین کے ساتھ ایدھی یتیم خانہ مرکز کا دورہ کرنے والے عدالت دوست فرد نے رپورٹ کے ذریعے بینچ کو آگاہ کیا کہ لڑکیوں کو مناسب سہولیات کے بغیر ایک عام کلاس میں رکھا گیا ہے اور انہیں نوکروں کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے ۔ رپورٹ میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ یتیم خانے کے مرکز سے متصل ایک علیحدہ جگہ اپنی بیٹی کیساتھ رہنے والی انچارج خاتون نے لڑکیوں کی مرضی کے بغیر ان کی شادیوں کے فیصلے کیے اور ایسی شادیوں کا ریکارڈ دستیاب نہیں تھا۔عدالت نے کہا کہ پناہ گاہوں کو ایسی لڑکیوں/خواتین کے لیے مناسب، محفوظ اور وقار بخش زندگی کا مکمل اور شفاف ریکارڈ یقینی بنانا ہوگا، ان کے شادی بیاہ کے اہتمام کی کاوشوں کو سراہنے کی ضرورت ہے لیکن صرف اس صورت میں جب ان کی قانونی حیثیت ہو۔