فوج کی چھتری تلے پروان چڑھنے والے ،جنرل ضیاء مرحوم کے وارث نواز شریف کو فوج سے اتنی نفرت کب اور کیسے ہوئی؟ ہارون الرشید کی ایک حیران کن تحریر

لاہور (ویب ڈیسک) ضیاء الحق کا پاکستان مضبوط تھا۔ ان کے بعد کمزور سے کمزور تر ہوتا گیا۔ نوبت اب یہاں تک آپہنچی ہے کہ تینوں بڑی سیاسی جماعتیں کشمیر سے بے نیاز ہیں او رمسجدِ اقصیٰ سے بھی۔ شاعر یاد آتا ہے ایک بار اور بھی بطحا سے فلسطین آ راستہ دیکھتی ہے

نامور کالم نگار ہارون الرشید اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔ مسجدِ اقصیٰ تیرا حمید نظامی کو مٹی اوڑھے نصف صدی بیت گئی ۔لگتاہے کہ ابھی کل کی بات ہے۔ ا س لیے کہ مرحوم کو ان کے ورثاء نے یاد رکھا۔ 1977ء سے 1988ء تک تاریخِ پر جنرل محمد ضیاء الحق نے انمٹ نقوش چھوڑے۔ دنیا کی سب سے بڑی وار مشین سوویت یونین کو شکست فاش سے دوچار کیا۔ افغانستان سے پسپا ہونے پر مجبور کیااور اس کے بطن سے بہت سی آزاد ریاستیں ابھر آئیں۔ عظیم زار پیٹر کے عہد سے روسی پھیلتے چلے آئے تھے۔ افغانستان کے بعد ان کا ہدف پاکستان تھا، گرم پانیوں تک رسائی۔ یہ جنرل محمد ضیاء الحق ہی تھے، جنہوں نے سکھوں کی حوصلہ افزائی کی اور وہ بیج بو گئے، جو کبھی نہ کبھی شجر بنیں گے اور ثمر بار ہوں گے۔ جنرل ضیاء الحق کے بعد بھی گرونانک کے پیروکار آزادی کے تصور سے دستبردار نہ ہوئے اور کبھی نہ ہوں گے ۔اپنے مرقد میں ضیاء الحق اس پہ شاد ہوں گے۔ ایک امام مسجد کا فرزند، جس کے بارے میں کبھی سوچا بھی نہ گیا تھا کہ وہ دنیا کی بہترین افواج میں سے ایک کاسربراہ بنے گا۔ یہی نہیں، دنیا کی بہترین انٹیلی جنس ایجنسیوں میں سے ایک ایجنسی کا معمار ہو گا۔ اس ادارے کی تعمیر میں جنرل اختر عبد الرحمٰن کے کردار کو بھی فراموش نہیں کیا جا سکتا۔ وہ آدمی، جو کبھی ریڈیو پر سنائی نہ دیا، ٹی وی اور اخبار میں دکھائی نہ دیا۔ جس کی زندگی میں بہت کم لوگ اس کے نام سے آشنا تھے۔

جن کے رفیق بریگیڈئیر یوسف نے افغانستان پر اپنی معرکتہ الآرا کتاب The Bear Trapeلکھی تو اردو میں جنرل کی عسکری اور ذاتی زندگی پر ایک چھوٹی سی کتاب بھی۔ ’’خاموش سپاہی‘‘۔ دو کتابیں اس کے سوا بھی لکھی گئیں۔ ان میں سے ایک پر اس ناچیز نے ریاضت کی اور یہ پاکستان کی تاریخ میں سب سے زیادہ پڑھی جانے والی کتابوں میں سے ایک تھی۔ 1990ء میں ایک ترقی پسند دانشور، مقبوضہ کشمیر گئے جو پی ٹی وی لاہور کے جنرل مینیجر بھی رہے۔ وہ حیرت زدہ رہ گئے کہ جنرل ضیاء الحق کشمیریوں کے سب سے بڑے ہیرو تھے ’’ہر گھر میں ڈکٹیٹر کی تصویر مسکراتی ہے‘‘ اس نے لکھا۔ جولائی 1992ء میں سہیل وڑائچ کے ساتھ کابل جانے کا اتفاق ہوا، جہاں گندم کے خوشے ابھی ہرے تھے۔ وہی کابل، چندے جہاں ظہیر الدین بابر نے حکمرانی کی تھی ۔ ایسی محبت اس سے پالی کہ وہیں اپنے مزار کی وصیت کی۔غزنی شہر کابل سے کچھ زیادہ دور نہیں، جہاں سبکتگین کا فرزند محمود غزنوی محو استراحت ہے۔ وہ آدمی، جس نے سترہ بار ہندوستان پہ یلغار کی۔ ہندوستان کبھی ایک متحدہ ملک نہ تھا۔ محمود کی فتوحات سے اس عہد کا آغاز ہوا، جس نے بالاخربرصغیر میں شہاب الدین غوری کے اقتدار کی راہ ہموار کی۔ سات سو برس تک مسلمان اس سرزمین پر حکمران رہے۔ محمود نے اگر لاہور میں اپنا گورنر مقرر نہ کیا ہوتا۔ شیخِ ہجویرؒ اگر اس شہر میں تشریف نہ لاتے تو مسلم برصغیر کا وجود نہ ہوتا۔ صدیوں پہلے جس کی ابتدا محمد بن قاسم سے ہوئی تھی، عرب، ایران، افغانستان اور وسطی ایشیا سے ترک،

تاجک اور دوسرے مسلمان برصغیر ہجرت کرتے رہے۔ قائدِ اعظم نے کہا تھا: پاکستان کی بنیاد اس دن رکھ دی گئی تھی، جب ہندوستان میں پہلا آدمی مسلمان ہوا تھا۔ جناح نے جسے متشکل کیا، عہدِ آئندہ میں بھی جسے ایک تاریخ سازکردار ادا کرنا ہے۔ وہی محمد علی جناح، نہایت ڈھٹائی کے ساتھ جنہیں بعض دانشور سیکولر ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں؛حالانکہ عمر بھر ایک بار بھی یہ لفظ انہوں نے استعمال نہ کیا۔ سیاست کی دنیا بھی عجیب ہے۔برسوں بلکہ عشروں تک جس میں کبھی ایک سیاہ سفید دکھائی دیتا ہے اور کبھی ایک سفید کو سیاہ ثابت کر دیا جاتاہے۔ جنرل محمد ضیاء الحق کا اگر کوئی وارث تھا تو نواز شریف لیکن 12اکتوبر1999ء کے انقلاب نے انہیں فو ج سے نفرت میں مبتلا کر دیا۔ اس قدر نفرت کہ برہمن انہیں گوارا محسوس ہونے لگا۔ دولت جمع کرنے کی ہوس بری طرح ان پہ سوار ہوئی اور پھر بادشاہ بننے کی کہ نسل در نسل ان کا خاندان ملک پر مسلط رہے۔ جنرل ضیاء الحق ویسے نہ تھے، جیسا کہ ان کے بعض مداح کہتے ہیں۔ ان میں خامیاں تھیں اور وہ عظیم غلطیوں کے مرتکب ہوئے مگر ویسے تو ہرگز نہ تھے، جیسے کہ کل سوویت یونین اور آج امریکہ کے پالے انہیں ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ذاتی زندگی میں نہایت اجلے و غریب نوازاور تہجد گزار ۔بیت اللہ اور مسجد نبوی میں اشک فشا، ایٹمی پروگرام کے معمار کہ بھٹو تو ابتدائی حالت میں چھوڑ گئے تھے، مال ودولتِ دنیاسے بے نیاز۔ ضیاء الحق کا پاکستان نہایت مضبوط تھا۔ اس کے بعد کمزور سے کمزور تر ہوتا گیا۔ نوبت اب یہاں تک آپہنچی ہے کہ پاکستان کی تینوں بڑی سیاسی جماعتیں کشمیر سے تقریباً بے نیاز ہیں او رمسجدِ اقصیٰ سے بھی۔ شاعر یاد آتا ہے ایک باراور بھی بطحا سے فلسطین آ راستہ دیکھتی ہے مسجدِ اقصیٰ تیرا۔ (ش س م)