’’اِس عورت کو کہو بکواس بند کرے‘‘ لائیو پروگرام میں علامہ ہشام ظہیر اور ماروی سرمد اُلجھ پڑے

کراچی (ویب ڈیسک) لبرل ازم کا پرچار کرنے والی ماروی سرمد ٹی وی پروگرام میں علامہ ہشام الٰہی ظہیر پر برس پڑیں، انہوں نے کہا کہ تم جیسے مولویوں کے پاس لوگ بچوں کو اکیلا چھوڑنے پر راضی نہیں ہوتے، مجرم تم خود ہو، اسی لیے مولویوں کو سزا سے بچاتے ہو، منہ پر داڑھی کا

مطلب نہیں تم سب کے مالک بن گئے۔ مذہبی اسکالر علامہ ہشام الٰہی ظہیر نے کہا تھا کہ مسجد وزیر خان میں شوٹنگ کرنے والوں کیخلاف کاروائی ہونی چاہیے۔ نجی ٹی وی کے پروگرام میں ماروی سرمد نے کہا کہ کوئی لبرل یہ نہیں کہتا کہ کسی کو سزا نہ ملے، یہ لوگ جان بوجھ کر اس طرح کی باتیں کرتے ہیں کہ کسی کو سزا نہ ملے ، کیونکہ مجرم یہ خود ہوتے ہیں، انہی کے مولوی ہیں کوئی اپنے بچوں کو ان کے ساتھ اکیلا چھوڑنے کو راضی نہیں ہے۔ یہ کیا منہ بھر بھر کے باتیں کرتے ہیں۔ ماروی سرمد نے کہا کہ انہوں نے میرے بارے میں جو زبان استعمال کی ان کو کس نے حق دیا ہے؟ دوسری بات یہ ہے کہ انہوں نے اگر اپنے منہ پر داڑھی لگائی ہوئی ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ سب کے مالک بن گئے ہیں؟ گھٹیا انسان تو تم لوگ ہو، جو دوسروں کو الزام دیتے ہو، اور لوگوں کی جان کے پیاسے بنے ہوئے ہو۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ کہتے ہیں میں نے پیسے لیے ہیں، یہ ثابت کرے میں اس کو عدالت میں لے کر جاؤں گی، یہ بتائیں میں نے کس ملک سے پیسے لیے ہیں؟ اسلام کی توہین انہوں نے کی ہے، ان پر اسلام کی توہین کرنے کا مقدمہ ہونا چاہیے۔ مذہبی اسکالر علامہ ہشام الٰہی ظہیر نے کہا تھا کہ اسلام میں مسجد میں شوٹنگ کرنے کی اجازت نہیں ہے۔ جن لوگوں نے مسجد وزیر خان میں شوٹنگ کی ہے ان کیخلاف کاروائی ہونی چاہیے۔ علامہ ہشام ظہیر نے ماروی سرمد کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا ’’اس عورت کو کہو بکواس بند کرے، یہ فحش بدکار عورت کو یہاں کیوں بٹھایا ہوا ہے۔۔‘‘۔واضح رہے میرا جسم میری مرضی کے موضوع پر بات کرتے ہوئے ماروی سرمد اور ڈرامہ رائٹر خلیل الرحمان قمر کے درمیان بھی بہت بحث ہوئی تھی، جس پر خلیل الرحمان قمر نے ماروی سرمد کو کھری کھری سنائیں تو ماروی سرمد آپے سے باہر ہوگئی تھیں۔