امریکی صدارت کے امیدوار جوبائیڈن نے نبی کریم ؐ کی جس حدیث کا تذکرہ کیا اسے زبان پر لانے والوں کو مشرف دور میں غائب کیوں کردیا جاتا تھا اور آج اس تذکرے کے بعد پوری دنیا میں ہلچل کیوں مچ گئی ہے ؟ اوریا مقبول جان کی خصوصی تحریر

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار اوریا مقبول جان اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔چونکہ یہ ویڈیو وائس آف امریکہ کی اردو سروس نے بنائی تھی، اس لئیے فوراً اس کی سربراہ مشہور صحافی ’’تابندہ نعیم‘‘ کو معطل کرکے جبری رخصت پر بھیج دیا گیا، جس کا منطقی انجام نوکری سے برخاستگی ہے۔

اس کے ساتھ ہی چار دیگر ملازمین کو بھی معطل کرکے 11 اگست 2020ء کو اظہار وجوہ کے نوٹس جاری کر دئیے گئے۔ان میں سے تین نے اپنے جوابات جمع کروادئیے ہیں، جبکہ چوتھے نے کہا ہے کہ میں عدالت میں اپنا مقدمہ لے کر جائوں گا۔ اگر ان تین کے جوابات بھی تسلی بخش نہ ہوئے، تو انہیں 19اگست 2020ء کو نوکری سے نکال دیا جائے گا۔ وائس آف امریکہ کے موجودہ سربراہ ’’مائیکل پیک‘‘ (Michael Pack)نے جون میں اس ادارے کا چارج سنبھالا تھا۔ اس کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ ایسا کچھ ہو جائے گا۔ جوبائیڈن والی اس وڈیو نے تو وہاں طوفان کھڑا کر دیا، اور مائیکل پیک نے اردو سروس کے علاوہ سات دیگر سینئر پروڈیوسر کو بھی براستہ کورئیر سروس ایسے خطوط بھجوائے ہیں، کہ نوکری سے پہلے جو ان کی سیکورٹی کلیئرنس ہوئی تھی، اسے ختم کیا جاتا ہے اور اب انہیں ازسرِ نو اپنی سکیورٹی کلیئرنس کرواناپڑے گی۔ جوبائیڈن کی اس وڈیو کے بارے میں سب سے بڑا الزام یہ ہے، کہ اس کے بنانے والوں نے اس نظریاتی تصور کی خلاف ورزی کی ہے، جو امریکہ پوری دنیا میں اپنے نشریاتی ادارے کے ذیعے پھیلاتا ہے۔ اس وڈیو کے نشر ہونے کے فوراً بعد وائس آف امریکہ کے بھرتی کے سارے نظام کا ازسرِنو جائزہ لیا جارہا ہے۔ وائس آف امریکہ کے پندرہ سو ملازمین ہیں، جن میں سے اکثریت بیرون ملک افراد کی ہے، کیونکہ نشریات کئی زبانوںمیں ہوتی ہیں۔ اب ہر ملازم کو انفرادی طور پر سکیورٹی کلیئرنس کی چھلنی

میں سے دوبارہ چھانا جارہاہے۔ وائس آف امریکہ کے آزادیٔ اظہار کے ’’ٹھیکیداروں‘‘ نے اپنے وضاحتی بیان میں وہی روایتی باتیں کی ہیںکہ ہم تحقیق کررہے ہیں کہ یہ وڈیو کہیں جانبدارانہ مواد تو نہیں رکھتی اور اس میں کہیں دونوں طرف کا موقف بیان کرنے میں کوتاہی تو نہیں ہوئی۔ اس کے ساتھ ہی یہ الزام بھی لگایا گیا ہے کہ امریکہ نے جو 2018ء کی امیگریشن پالیسی بنائی تھی، اسے چونکہ سپریم کورٹ نے بھی صحیح قرار دیا تھا، اس لئیے اس پر گفتگو عدالت کی توہین تو نہیں۔ توہینِ عدالت کی تلوار بھی ساتھ ہی لٹکادی گئی۔ کسقدر منافقت ہے کہ اس صدارتی امیدوار جوبائیڈن نے جو کہا ہے، آپ اس پر اسے عدالت میں نہیں گھسیٹتے، بلکہ میڈیا پر وار کرتے ہیں تاکہ آئندہ میڈیا والوں کو سبق ہو جائے۔ اس وڈیو میں کیا ہے، جسے اب تک کروڑوں لوگ دیکھ چکے ہیں۔ وڈیو انگریزی میں ہے، لیکن اس کی اردو سب ٹائٹلنگ کی گئی ہے، جو غالباً اردو سروس کے ناظرین کے لئیے تھی۔ وڈیو جو بائیڈن کے کلوزاپ میں کہے گئے اس فقرے سے شروع ہوتی ہے، ’’صدارت کے پہلے دن ہی میں مسلمانوں پر پابندی کا خاتمہ کردوں گا‘‘۔ اس کے بعد یہ ٹائٹل آتا ہے، ’’صدارتی امیدوار جوبائیڈن کا امریکی مسلمانوں سے خطاب، خطاب کا اختتام حدیث پر کیا گیا‘‘، اس کے بعد پھر جوبائیڈن کی تقریر کا وہ حصہ بتایا جاتا ہے جس میں یہ حدیث ہے۔ ’’پیغمبر اسلام‘‘ کی حدیث ہمیں سکھاتی ہے، ’’تم لوگوں میں سے جو کوئی غلط ہوتا دیکھے اسے ہاتھ سے روکے، اگر ایسا نہ کرسکے تو زبان سے روکے،

یہ بھی نہ کر سکے تو دل میں برا جانے‘‘۔ اس کے بعد جوبائیڈن کے وہ فقرے ہیں کہ ’’تمہاری آواز تمہارا ووٹ ہے اور مسلمان امریکیوں کی آواز بہت اہم ہے، میں ایک ایسا امریکی صدر بنوں گا جو روزمرہ کے معاملات میں مسلمانوں کے خیالات اور تجاویز کو سنے گا۔ میں مسلمانوں کو اپنی انتظامیہ کا حصہ بنائوںگا‘‘۔ اس کے بعد دکھایاگیا ہے کہ امریکہ کی مسلمان تنظیمیں جو بائیڈن کی حمایت کررہی ہیں، جن میں مسلمان اراکین کانگریس بھی شامل ہیں۔ آخر میں مختلف مسلمانوں کو دکھا کر یہ فقرہ لکھا ہوا ہے، ’’ہم تاریخ کا رخ موڑ سکتے ہیں‘‘ (We Can Change The Course Of History)۔ یہ صرف دو منٹ کی وڈیو ہے، جس کے نشر ہونے پر پوری امریکی نشریاتی دنیا میں ایک بھونچال آگیا ہے۔ اظہار رائے کی اخلاقیات کے داعی وائس آف امریکہ، دیگر امریکی ادارے اور یورپی میڈیا کی تو تاریخ ہی جھوٹ، فریب، دھوکے اور حقائق کو مسخ کرنے والی خبروں اور وڈیوز سے عبارت رہی ہے۔ آخری جھوٹ صدام حسین کے کیمیائی ہتھیاروں کے بارے میں بولا گیا تھا اور بار بار بولا گیا اور اس کے بعد بے پناہ جانی نقصان کرکے معافی مانگ لی گئی تھی۔ صرف ایک ادارے بی بی سی کے نوے فیصد پروگرام کیمیائی ہتھیاروں کے بارے میں جھوٹ پر مبنی تھے اور اس مقابلے میں وہ لوگ جو لندن میں وار (لڑائی ) کے خلاف مظاہرے کررہے تھے، ان کو صرف 2فیصد دکھایا گیا تھا۔ مارچ 1968ء کی 16تاریخ کو، جب ویت نام میں ’’مائی لائی‘‘ کی جان لی گئی ، اس دن وہاں 649رپورٹر موجود تھے،

لیکن ایک بھی اس ظلم خبر نشر نہیں ہوئی تھی۔ میڈیا کی اس جھوٹ، فریب اور دھوکے کی تاریخ پر ہزاروں صفحات لکھے جا سکتے ہیں۔لیکن یہاں معاملہ کچھ اور بھی ہے اور وہ ہے، حضرت ابوسعید خذری کی روایت کردہ اس حدیث کا جو صحیح مسلم، مسند احمد بن حنبل اور سنن ابی دائود میں صحیح اسناد کے ساتھ موجود ہے۔ اس حدیث کو مسلمانوں کے ذہن سے کھرچنے کی کوششیں گذشتہ کئی سو سالوں سے ہورہی ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ حدیث پہلے درجے پر اس شخص کے ایمان کو رکھتی ہے، جو برائی کو ہاتھ سے روکے اور ان لوگوں کو جو برائی کو دل سے بھی برا نہ سمجھیں انہیں تو ایمان کے نچلے درجے سے بھی خارج قرار دیتی ہے۔ گیارہ ستمبر کے بعد پرویزمشرف دور میں اس حدیث کو بیان کرنے والے علماء کو اٹھالیا جاتا تھا اور آج تک یہ سلسلہ ختم نہیں ہوا۔ یہ حدیث ایک ایسا ترازو ہے، جس میں ’’نہی عن المنکر‘‘ یعنی برائی کو روکنے کی ذمہ داری تو لی جاتی ہے۔ اس حدیث سے جہاں ستاون اسلامی ممالک کے سیکولر، لبرل آمر اور بادشاہ و حکمران خائف ہیں، وہیںآزادیٔ اظہار کا ’’ٹھیکیدار‘‘ میڈیا بھی بہت خوفزدہ ہے۔ اسی حدیث کے انکار پر ہی تو پورا قادیانی مذہب کھڑا ہے کہ مرزا غلام احمد سے یہ اعلان کروایا گیا تھا کہ میرے ’’نبی‘‘ ہونے بعد اب جہاد حرام ہوچکا ہے۔ کس قدر حیران کن بات ہے کہ یہ حدیث اس شخص کے منہ سے میرے اللہ نے نکلوائی، جو آٹھ سال امریکہ کا نائب صدر رہا اور اب صدارتی امیدوار ہے۔ میرے اللہ کا امر سب پر غالب ہے۔