اسلام آباد کے حکمرانوں کے بارے میں اسی شہر کی ایک خاتون اپنے جاننے والوں کو کیا کہانی سناتی پھر رہی ہے ؟ کہانی آپ کو بھی کچھ سوچنے پر مجبور کردے گی

لاہور (ویب ڈیسک) ہمیں اپنے حکمرانوں کے بارے میں بہت احتیاط سے کام لینا چاہیے اور ان کی طاقت اور ہمت سے بڑھ کر ان سے امیدیں وابستہ نہیں کرنی چاہئیں ۔ امید کی ایک صورت یہ نکل سکتی تھی کہ حکومت کی اپوزیشن اتنی جاندار ہو اور مضبوط جو حکومت کو عوام دوست

نامور کالم نگار عبدالقادر حسن اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔ پالیسیاں بنانے پر مجبور کر دے مگر اپوزیشن کا محاذ ابھی ٹھنڈا ہے چند ایک اخباری بیانوںکے علاوہ ابھی تک اپوزیشن نے عملاً کچھ نہیں کیا اور جس نے چیں بچیں کرنے کی کوشش کی تھی وہ عوام سے دور ہے اور جو بچ گئے ہیں وہ بچ کر چلنے کی کوشش میں ہیں۔ حکمرانوں کی اتحادی جماعتیں جن میں قاف لیگ اور ایم کیو ایم سر فہرست ہیں وہ پر نکالنے کی کوشش کرتے ہیں تو ان کو واپس پنجروں میں دھکیل دیا جاتا ہے ۔البتہ عوام ایک ایسی طاقت ہے جنہوں نے اپنے گونا گوں مہلک مسائل کے حل کے لیے ووٹ دیے تھے اور ان مسائل کو پیدا کرنے والوں کو مسترد کر دیا تھا وہ اگر چاہئیں تو اپنے مسائل حل نہ ہونے کی وجہ سے حکومت کو مشکل میں ڈال سکتے ہیں لیکن ان کو گھروں سے نکالنے کے لیے کسی لیڈر کی ضرورت ہوتی ہے جو فی الحال دستیاب نہیں ہے۔ مجھے میاں نواز شریف کے وہ الفاظ یاد آتے ہیں جو انھوں نے الیکشن سے قبل کہے تھے کہ آیندہ حکمرانوں کے لیے حکمرانی کانٹوں کی سیج ہو گی لیکن انھوں نے یہ وضاحت نہیں کی تھی کہ یہ کانٹے بچھائے کس نے ہیں لیکن اس کا کیا کیجیے کہ کچھ لوگوں نے خبردار ہونے کے باوجود ان کانٹوں پر بے تابی سے برہنہ پا چلنا قبول کیا۔اسلام آباد میں مقیم ایک رمز شناس اور باخبر خاتون مرحومہ سرفراز اقبال صاحبہ ایک پرانی کہانی سناتی تھیں۔ جس کے مطابق اسلام آباد کا اقتدار تو شہزادے شہزادی اور جن کا قصہ ہے ۔ شہزادی اپنے خوابوں کے شہزادے کو اچانک سامنے پا کر ہنستی ہے اور پھر رو دیتی ہے۔ شہزادہ جب اس ہنسنے اور رونے کی وجہ پوچھتا ہے تو وہ بتاتی ہے کہ خوش ہوں کہ تمہیں دیکھا ہے اور روتی ہوں کہ ابھی جن آئے گااور تمہیں کھا جائے گا۔ تم جلدی سے کہیں چھپ جاؤ۔یہی ہماری کہانی ہے شہزادہ آتا ہے شہزادی ہنستی اور روتی ہے اور پھر جن آجاتا ہے اور یہ جن ایک خطرہ بن کر شہزادی اور شہزادے کے گرد منڈلاتا رہتا ہے ۔اب یہ شہزادے کی فراست پر منحصر ہے کہ وہ کس طرح اس دیو کے آہنی پنجے سے زور آزمائی کیے بغیر اپنے حسن و تدبر سے شہزادی کے حسن و جمال کے قرب میں اپنی زندگی گزارے یا پھر جن کے سپرد ہو جائے جس کی وہ گزشتہ سات دہائیوں سے ایک مرغوب غذا ہے۔