اداکارہ بننے کی شوقین گھر سے بھاگی ہوئی ملتان کی ایک غیر معمولی حد تک خوبصورت لڑکی کی کہانی

لاہور (ویب ڈیسک) ہندوستان کی پہلی رنگین فلم، مغل اعظم نے پاکستان کے رنگین مزاج تماش بینوں کے دل میں آگ لگادی ، اور چونکہ اس وقت پاکستان ٹیلی وژن کی ”محبت کا پھیلاﺅ“ اس قدر زیادہ نہیں تھا، لہٰذا لاہور سے دور دراز علاقوں سے کئی لڑکیاں، اور کئی شادی شدہ عورتیں فلم دیکھنے لاہور

آپہنچیں، حالانکہ ان کے وارثین، بلکہ سرتاج قطعی طورپر مزاجاً ، اور مذہبی حوالے سے ان سے مختلف تھے، میری اس بات کی صداقت کی تصدیق ، اداکار رنگیلے کے ساتھ واحد کامیاب اداکارہ صاعقہ سے کرلیں، اس وقت وہ لاہور میں ہمارے گھرکے قریب ہی رہتی تھیں ، کیونکہ اس وقت آج کی مشہور ترین اداکارہ کی خالہ ملتان سے بھاگ کر لاہور آگئی تھی، اور اس کی خالہ زاد بہن بھی اسی ”ہلچل“ کے نتیجے میں لاہور ہی کی ہوگئی ہے۔اداکارہ صاعقہ نے، اسے میرے گھر بھجوادیا تھا، کہ آپ اسے سمجھائیں کہ فلموں میں کام کرنا اتنا آسان نہیں ہوتا،میں نے اس کے شوہر کو فون کرکے لاہور بلوایا ، اور وہ اسے لے کر ملتان چلا گیا، قارئین بات بہت لمبی ہوجائے گی ، تاہم جیسے کہ میں نے پہلے عرض کیا ہے، آج کل وہ خاندان فلم انڈسٹری پہ چھایا ہوا ہے، اور سنا ہے کہ وہ موصوفہ پھر بھاگ کر ایسی آئی، کہ واپس جانے کا نام ہی نہیں لیا، اور آج کل اسی خاندان کا نام ہے۔فلم مغل اعظم میں شہنشاہ اکبر کا کردار بھارت کے مشہور اداکار پرتھوی راج نے ادا کیا تھا، اس نے اکبر بادشاہ بننے کی اس قدر ریہرسل کی تھی، کہ وہ گھر میں بھی اکبر بادشاہ بنا رہتا، اور اسی انداز میں گفتگو کرتا، اور بادشاہوں کی طرح گھروالوں کو حکم دیا کرتا تھا، جس کا یہ نتیجہ نکلا، کہ مرتے وقت بھی وہ اپنے آپ کو حقیقتاً اکبر بادشاہ ہی سمجھتا رہا، اور کہتا رہا کہ مجھے پانی پلایا جائے، مجھے کھانا کھلایا جائے وغیرہ وغیرہ ۔ نفسیاتی طورپر، اور ”ہیپناٹزم “ کا کلیہ وقاعدہ بھی یہی ہے کہ باتوں کو اس قدر تواتر سے دہرایا جائے، تو انسان ویسا ہی ہوجاتا ہے ، مثلاًیہ کہناکہ اب آپ کو نیند آرہی ہے، آپ بہت بڑے سرسبز گلستان اور پارک میں پھر رہے ہیں، ٹھنڈی ٹھنڈی ہواچل رہی ہے، حالانکہ کلینک سے باہر ”لو“ چل رہی ہوتی ہے۔ اور پھر آہستہ آہستہ مریض واقعی سو جاتا ہے۔