آٹھ سال قبل سعودی حکومت نے پاک فوج کو کروڑوں ڈالر امداد کی پیشکش کی ، اس وقت کے آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی نے کیا کہہ کر یہ آفر مسترد کردی ؟ ہارون الرشید کا حیران کن انکشاف

لاہور (ویب ڈیسک) آٹھ نو برس پہلے سعودیوں نے جنرل کیانی سے کہا تھا کہ ایک بلین ڈالر وہ پاکستان کو دینے پر آمادہ ہیں۔ اپنی نگرانی میں خرچ کریں۔جنرل نے معذرت کر لی۔ انہی دنوں اسی شرط پر قبائلی علاقے کے لیے ہیلری کلنٹن نے دو سو ملین ڈالر کی پیشکش کی تھی۔

نامور کالم نگار ہارون الرشید اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ان کی بات جنرل نے مان لی مگر ایک شرط کے ساتھ: منصوبہ پختون خوا کی حکومت بنائے گی۔ ایک مشیر اور نگران کا کردار ادا کروں گا۔ پھر ایک نادر تجویز انہیں سوجھی۔ سات سو کلومیٹر لمبی سڑک کے مزدوروں کو دوگنی اجرت دی جائے گی۔ عرض کیا، اس میں کیا مصلحت ہے؟ اپنے مخصوص دھیمے لہجے میں انہوں نے کہا: ڈیڑھ دو سال میں ایک مستقل مزاج مزدور اتنا روپیہ جمع کر لے گا کہ چاہے تو چھوٹا موٹا کاروبار کر سکے۔ اب خیال آتا ہے کہ غور و فکر کرنے والے پرعزم لوگ ہی دنیا کو بدلتے ہیں۔ حالات کے بہاؤمیں بہنے والے نہیں، احمد مشتاق نے کہا تھا کشتیاں ٹوٹ چکی ہیں ساری اب لیے پھرتا ہے دریا ہم کو قبائلی نفسیات کو جنرل جانتا تھا۔ جانتا تھا کہ صدیوں کی غربت اور جبر کے مارے یہ لوگ کفایت شعار اور سخت جان ہوتے ہیں لیکن زندگی موقع دے تو اٹھ کھڑے ہوتے اور جت جاتے ہیں۔ اس موضوع پر شاید ہی ڈھنگ کا کبھی کچھ لکھا گیا ہو کہ عام پاکستانیوں میں سے ہمارے پشتون بھائی، سب سے بڑی تعداد میں افلاس میں سے نکلے ہیں۔ کامیابی کا یہی ایک راستہ ہے۔ برسبیلِ تذکرہ سوشل میڈیا پر جنرل کیانی کے خلاف مہم ایک بار پھر تیز و تند ہے۔ ایک دو ارب سے بڑھتے بڑھتے آسٹریلیا میں، ان کے ’’ملکیتی جزیرے‘‘کی قیمت 1600ارب روپے ہو چکی۔ پہلی بار یہ خبر 2014ء کے اوائل میں چھپی تھی۔ یہ کہ آسٹریلیا جاتے ہوئے اسلام آباد کے ہوائی اڈے پر انہیں روک دیا گیا۔ جنرل راحیل شریف کو اس ناچیز نے پیغام بھیجا کہ ازراہِ کرم وہ تردید کریں۔ آسٹریلیا کا قصد تو دور کی بات ہے، جنرل نے ویزے کی درخواست تک نہیں دی تھی۔ وہاں ان کا کچھ نہیں رکھا۔ ان کے بھائی کاروبار میں ضرور تھے۔ ممکن ہے، کچھ اونچ نیچ بھی ہوئی ہو مگر جنرل کا قطعاً کوئی تعلق نہیں تھا۔ایک موثر عدالتی نظام ہوتا تو دودھ کا دودھ، پانی کا پانی ہو گیا ہوتا۔