کشمیر کون آزاد کرائے گا ؟ آج پاکستان کے سیاسی افق پر جتنے سیاستدان موجود ہیں ، ان میں سے صرف ایک سے مجھے امید ہے ۔۔۔۔ سینئر اور بزرگ ترین پاکستانی صحافی نے نام لے کر پیشگوئی کر دی

لاہور (ویب ڈیسک) مجھے یہ شام آج بھی یاد ہے جب مسجد کے صحن میں جمع چند افراد ایک طرف سیاست کی باتیں کر رہے تھے اور ہم بچے ان کی باتیں سن کر اسکول کی عمارت کی طرف دوڑ گئے تھے جہاں رونق لگنے والی تھی، قیام پاکستان کا جشن منایا جانا تھا اور سبز ہلالی پرچم

لہرایا جانا تھا۔ نامور کالم نگار عبدالقادر حسن اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔جن پاکستانیوں نے یہ دن دیکھا تھا ان کویہ کبھی نہیں بھول سکتا جب ہمارے گائوں سمیت پاکستان کا ملک قائم ہونے والا تھا۔بہر کیف ہم اب وہ نہیں رہے جو کبھی ہوا کرتے تھے مگر پھر بھی زندہ رہنے کی کوشش کرتے ہیں۔ کلام پاک میں ہے کہ ہم دنوں کو انسانوں کے درمیان بدلتے رہتے ہیں۔ اور کیا بعید کہ وہ دن جن میں گھمایا جا رہا ہے کبھی ہمارے حق میں بھی بدل جائیں۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا ہم ایک مسلمان بن کر نریندر مودی کے عہد میں زندہ رہیں گے۔ اس سے بڑی بدقسمتی کی اور بات کیا ہو سکتی ہے کہ ہم اپنی حیثیت بدلنے کی کوشش کرینگے یا نہیں۔ اگر ہم نے مسلمان بننے کی کوشش نہ کی تو پھر ہمارے ساتھ جو سلوک ہو گا وہ انسانی تصور سے کچھ بعید نہیں اس لیے ہمیں اب ایک نئی جرات مندانہ زندگی اختیار کرنی ہو گی۔ملک میںجو سیاستدان موجود ہیں ان پر جب نگاہ ڈالتا ہوں اور سیاستدانوں کی حد تک میں کچھ نہ کچھ جانتا بھی ہوں تو ایک بار پھر عرض کرتا ہوں کہ مجھے عمران خان دکھائی دیتا ہے جو فی الحال بظاہر ملاوٹ سے محفوظ ہے۔ دوسری ایک جماعت یعنی جماعت اسلامی ہے جو اپنے اندر ایک ایسا نظام رکھتی ہے کہ اس کی اجتماعی خرابیاں اگر ہوں تو اس چھلنی سے گزرتی رہتی ہیں۔ جماعت ایک مکمل جمہوری جماعت ہے جس سے انکار ممکن نہیں۔

عمران خان صحیح سمت میں جا رہا ہے وہ نا تجربہ کار ضرور ہے مگر بے وقوف نہیں ہے۔ بات یہ کہ قوم کے سامنے کوئی امید تو ہونی چاہیے ورنہ وہ اندھیروں میں بھٹک جائے گی۔ کشمیر کی آزادی کا وقت اب دور نہیں رہا۔ عمران خان نے بالکل صحیح کہا ہے کہ مودی کشمیر کے مسئلے پر پھنس چکا ہے۔ دانشمندی یہ ہوگی کہ پاکستان اپنے کارڈ ہوشمندی سے کھیلے جو مودی کی کشمیر میں جارحیت کو کشمیریوں کی فتح میں تبدیل کر دے۔جلد یا بدیر یہ فیصلہ ہونے والا ہے اور پاکستان کی جانب سے جاری کیا جانے والا نیا نقشہ بہت جلد حقیقت کا روپ دھار لے گا مگر دشمن عیار اور تعداد میں بہت ہیں لیکن دوست نہ ہونے کے برابر اور مسلمان ملک کے لیڈروں کا حال تو ہمارے سامنے ہے جس کا گلہ ہمارے وزیر خارجہ نے کیا ہے، انھوں نے اسلامی ملکوں کی تنظیم کو برملا کہا ہے کہ وہ یہ فیصلہ کریں کہ کشمیر کے مسئلے پر پاکستان کے ساتھ ہیں یا اس کے مخالف ہیں۔پہلے بھی کئی بار عرض کیا ہے کہ مسلمان ملکوں نے کشمیر کے مسئلے پر پاکستان کی وہ مدد اور حمایت نہیں کی جس کی ان کو بطور ایک مسلمان ملک کرنی چاہیے تھی اور اب ہماری حکومت نے ان ملکوں سے اس بات کا گلہ بھی کر دیا۔ لیکن جدید دنیا میں ہر ملک کے اپنے اپنے مسائل اور ترجیحات ہیں ہیں۔کشمیر کی لڑائی پاکستان کو اپنے زور بازو پر لڑنی ہے پاکستانیوں کے ساتھ ساتھ مجاہدین بھی کشمیری بھائیوں کا ساتھ دیں گے۔ باقی اللہ مدد کرے گا۔