بریکنگ نیوز: راول ڈیم کے کنارے پاک نیوی کا سیلنگ کلب سیل کرنے کا معاملہ ۔۔۔۔ اسلام آباد ہائیکورٹ نے ایک اور حکم جاری کردیا

اسلام آباد (ویب ڈیسک) اسلام آباد ہائی کورٹ نے راول ڈیم کنارے نیوی سیلنگ کلب کو سیل کرنے کا حکم برقرار رکھتے ہوئے نیوی کلب کی نئی ممبرشپ پر بھی پابندی عائد کر دی ہے۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے کہ کون سا قانون ہے جس کے تحت نیوی اس قسم کی ایکٹیوٹی کرسکتی ہے؟

عدالتی حکم کی خلاف ورزی کی گئی تو کارروائی ہو گی۔ عدالت نے نیوی کو جواب داخل کرانے کیلئے مہلت دیتے ہوئے سماعت 19 اگست تک ملتوی کر دی ۔ گزشتہ روز چیف جسٹس اطہر من اللہ نے راول ڈیم کے کنارے نیوی سیلنگ کلب کی تعمیر اور کلب کو سیل کرنے کے عدالتی حکم پر عمل درآمد نہ کرنے کے خلاف دائر توہین عدالت کی درخواستوں کی سماعت کی۔ چیف آف نیول اسٹاف کی جانب سے سابق اٹارنی جنرل اشتر اوصاف نے وکالت نامہ جمع کرا یا اور جواب داخل کرانے کیلئے مہلت کی استدعا کی۔دوسری جانب ایک خبر کے مطابق حکومتی اور اپوزیشن ارکان اسمبلی نے تحفظ بنیاد اسلام بل کیخلاف احتجاج کیااوراس پر شدید اعتراضات کرتے ہوئے واپس لینے کا مطالبہ کر کے تحفظ بنیاد اسلام بل قانون بننے سے روکدیا گیا۔اتفاق رائے سے ترامیم کا فیصلہ،حکومتی ارکان اسمبلی نے اسے حکومت کیخلاف سازش قرار دیدیا۔صوبائی وزیر قانون راجہ بشارت نے ایوان کو یقین دہانی کرادی کہ علماء کی رائے سے ترامیم کرینگے، جب تک بل پر مکمل اتفاق رائے نہیں ہوگا اس پر مزید پیش رفت نہیں ہوگی۔ پنجاب اسمبلی کا اجلاس دو گھنٹے 15 منٹ کی تاخیر سے ڈپٹی اسپیکر سردار دوست محمد مزاری کی صدارت میں شروع ہوا۔ اجلاس کے آغاز میں ہی متعدد ارکان اسمبلی کھڑے ہوگئے اور ارکان نےنکتہ اعتراض پر بات کرنے کی اجازت چاہی۔پیر اشرف رسول نے انکشاف کیا کہ یہ بل شہزاد اکبر کے کہنے پر اسمبلی سے منظور کرایا گیا۔ تحفظ بنیاد اسکام بل کی حمایت کرنے پر تحریک انصاف کے رکن سید یاور عباس بخاری نے ایوان سے معافی مانگ لی۔ارکان اسمبلی کا کہنا تھا کہ بل کی منظوری کے وقت ہمیں اندھیرے میں رکھا گیا، اس بل سے پاکستان میں فرقہ وارانہ کشیدگی پیدا ہوگی، اسمبلی کسی شخص کو یہ نہیں کہہ سکتی کہ اسکا فرقہ کیا ہوگا۔بل کو واپس اسمبلی میں لاکر اس پر تمام مکاتب فکر کے افراد پر علماء کی کمیٹی بنائی جائے اس بل کو کسی صورت قبول نہیں کرینگے۔