پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان برف پگھلتی دیکھ کر کیا منصوبہ بنا لیا گیا ہے ؟ صابر شاکر کی بڑی بریکنگ نیوز

لاہور (ویب ڈیسک) ایک اہم تبدیلی بلکہ بہت ہی بڑا واقعہ جو خاموشی سے وقوع پذیر ہوا وہ وزیراعظم عمران خان اور بنگلہ دیش کی وزیر اعظم حسینہ واجد کے مابین پندرہ منٹ کی فون کال تھی‘ جس کی شدت اور حدت سرحدوں کے پار بہت زیادہ محسوس کی گئی اور اس کے آفٹر شاکس دلی

میں آج تک محسوس کیے جارہے ہیں۔نامور کالم نگار صابر شاکر اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔ نہ صرف دلی بلکہ پاکستان کو دولخت کرنے کی سازش کے آرکیٹیکٹ اور تمام غیرملکی کردار‘ سب حیران ‘ پریشان نظر آرہے ہیں اور اس کھوج میں ہیں کہ پاکستان اور بنگلہ دیش کے مابین اور وہ بھی شیخ مجیب الرحمان کی بیٹی حسینہ واجد کے دورِ اقتدار میں برف کیسے پگھلی اور نفرتوں اور دشمنی کے پہاڑ کیسے سر ہوگئے اور انہیں اس اہم ترین ڈویلپمنٹ کی ہوا تک نہ لگی۔ دلی اور دیگر کرداروں کی لاعلمی کا اندازہ بہ آسانی لگایا جاسکتا ہے۔ بھارتی میڈیا کا درد تو اپنی جگہ مغربی ذرائع ابلاغ بھی پاکستان اور بنگلہ دیش کے وزرائے اعظم کی خبروں پر منفی تبصرے اور زہرآلود تجزیے کرتے نظر آرہے ہیں اور حسینہ واجد کو باور کرانے کی کوشش کررہے ہیں کہ پاکستان سے دشمنی ‘دوستی میں تبدیل نہ ہونے پائے‘ لیکن گزشتہ ایک سال میں ہونے والی خفیہ اہم سرکاری و غیر سرکاری سفارتکاری کا پھل کافی حد تک پک چکا ہے اور اسلام آباد اور ڈھاکہ میں موجود ہم خیال پرانی رنجشوں کو بھلا کر ایک نئے سفر کی شروعات چاہتے ہیں اور یہ دوستی کی خواہش دونوںجانب پائی جاتی ہے۔ اس میں ہمارے ازلی دشمن بھارت اور مودی کی انتہاپسندی اورفاشسٹ نظریے نے بھی کافی کردار ادا کیا ہے۔ اب جبکہ پندرہ منٹ کی کال کا اعلامیہ اسلام آباد سے جاری ہوا کہ کشمیر کے معاملے پر بھی بات ہوئی تو اس کے بعد ڈھاکہ میں انڈین ہائی کمشنر بنگلہ دیش کے دفتر خارجہ سے معلومات حاصل کرنے کی کوشش کررہے ہیں

لیکن انہیں مثبت جواب نہیں مل رہا اور چار ماہ سے زائد عرصے سے انہیں ملاقات کا وقت نہیں دیا جا رہا۔انڈیا کے شہریت ترمیمی ایکٹ کے بعد بھارت بنگلہ دیش تعلقات مزیدسردمہری کا شکار ہوچکے ہیں۔ انڈیا کو دیے گئے منصوبوں کے معاہدے منسوخ کرکے ٹھیکے چین کو دیے جارہے ہیں اور پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان تجارت کا آغاز بھی ہوچکا ہے۔ انڈیا کے منفی پروپیگنڈے کو بنگلہ دیش کے وزیرخارجہ بیمار ذہنیت قرار دے رہے ہیں۔ وہ دہلی کو اپنا منہ بند کرنے اور بنگلہ دیش کے معاملات میں مداخلت نہ کرنے کی وارننگ بھی دے چکے ہیں۔ وزیراعظم حسینہ واجد نے بھی پاکستان کے ساتھ بدلتے تعلقات کا دفاع کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ خارجہ پالیسی میں وہ آزاد ہیں اور پاکستان بنگلہ دیش کا دشمن نہیں ہے‘ انہیں حق حاصل ہے کہ وہ جس ملک سے چاہیں دوستی کریں‘ انڈیا کو اس سلسلے میں منفی پروپیگنڈ کرنے کی کوئی ضرورت نہیں کیونکہ حسینہ واجد کے خیال میں پاکستان اور بنگلہ دیش کی قربت پر منفی ردعمل ظاہرکرنے والے خطے کے عوام کی کوئی خدمت نہیں کررہے۔ بنگلہ دیش کی واضح پوزیشن کے باوجود دِلی سرکار بے چین ہے اور حسینہ واجد کے دورہ ٔپاکستان کو رکوانے کے لیے ہر حربہ استعمال کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔گزشتہ برس پانچ اگست کے مودی کے اقدام نے جنوبی ایشیا کے ممالک کی آنکھیں کھول دی ہیں‘ اس لیے چین اس وقت جارحانہ موڈ میں ہے اور ایران‘ بنگلہ دیش‘ نیپال اور بھوٹان کو معاشی ترقی کا پیکیج آفر کررہا ہے‘ کیونکہ سی پیک سے یہ تنازعہ شروع ہوا جبکہ پاکستان اور چین کیلئے سی پیک ایک گیم چینجر ہے۔ ایک طرف تعمیر وترقی کی سوچ ہے اور دوسری طرف انڈیا اور امریکہ کے توسیع پسندانہ عزائم اور تکبر‘ اس لیے چین نے پانچ اگست کے بھارتی اقدام کا جواب گلوان کے محاذ پر دیا ہے اور پاکستان نے اپنا نیا سیاسی نقشہ جاری کرکے۔ پہلے یہ نقشہ سیاسی قیادت نے منظور کیا اور بعد ازاں وفاقی کابینہ نے منظوری دی۔ کشمیر سے شروع ہونے والا مفاہمت کا یہ سفر کہاں تک چلتا ہے اس کے لیے انتظار کرنا پڑے گا لیکن اطلاعات یہ ہیں کہ آنے والے دنوں میں قومی اتفاق رائے بڑے پیمانے پر دیکھنے کو ملے گا اور جو اس قومی اتفاق رائے کے عمل سے باہر ہوگا اسے آئندہ کے لیے نظر انداز کردیا جائے گا۔