ہمارے پاسپورٹ پر لکھا ہے اسرائیل کے سوا یہ دنیا کے تمام ممالک کے لیے کارآمد ہے ، مگر آج تک کسی اسلامی ملک نے پاکستان کے حق میں کشمیر کا نعرہ بلند کیوں نہیں کیا ؟ جاوید چوہدری کی دل کو چھو لینے والی باتیں

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار جاوید چوہدری اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔یہ دنیا حقیقتوں کی دنیا ہے اور اس دنیا میں سب کچھ آج ہوتا ہے اور آج طاقت کا نام ہے اور طاقت کو کسی نقشے‘ کسی جھنڈے اور کسی ترانے کی ضرورت نہیں ہوتی‘کم زور صرف نقشے بدلتے رہ جاتے ہیں

جب کہ طاقت ور انھیں روند کر آگے نکلتے چلے جاتے ہیں اور ہم حقیقتوں کی اس دنیا میں کیا کر رہے ہیں؟ ہم نے کل مقبوضہ کشمیر کو پاکستان کے نقشے میں شامل کر کے خوشی کے شادیانے بجانا شروع کر دیے‘ ہم اسے اپنی عظیم کام یابی اور غزوہ ہند قرار دے رہے ہیں‘ کاش فارن افیئرز ہیر رانجھا کا قصہ ہوتے تو ہم آج پوری دنیا میں جھنڈے گاڑھ چکے ہوتے لیکن یہ دنیا حقائق کی دنیا ہے۔اس میں سلطان ایوبی کے بعد ایوبی سلطنت بھی ایوبی نہیں رہتی‘ وہ بھی اپنے نقشوں کے ساتھ زمین کا پیوند بن جاتی ہے‘ ہم نہ جانے کس کو بے وقوف بنا رہے ہیں‘ ہم کس کو دھوکا دے رہے ہیں‘ کشمیر کل بھی مقبوضہ تھا اور یہ آج چھ اگست کو بھی مقبوضہ ہے اور یہ اس وقت تک مقبوضہ رہے گا جب تک ہم طاقت ور نہیں ہوتے‘ جب تک ہم خوابوں کی جذباتی دنیا سے نکل کر حقیقتوں کی تلخ زمین کا ذائقہ نہیں چکھتے اور حقیقت یہ ہے ہم اس قدر کوتاہ فہم اور نالائق ہیں کہ ہماری حکومت اور اپوزیشن قومی ایشوز پر بھی اکٹھا نہیں بیٹھتی‘ ہم اپنی ضرورت کے مطابق گندم بھی نہیں اگا سکتے‘ ہم ٹڈی دل کا مقابلہ نہیں کر سکتے‘ ہم چینی‘ آٹا اور پٹرول مافیا کو کنٹرول نہیں کر پاتے اور ہم کراچی کے نالے بھی صاف نہیں کر سکتے‘ پتا نہیں ہم کب حقیقتوں کا سامنا کریں گے؟پاکستان پوری دنیا میں واحد ملک ہے جس کے پاسپورٹ پر لکھا ہے ’’یہ پاسپورٹ سوائے اسرائیل کے دنیا کے تمام ممالک کے لیے کارآمد ہے‘‘

ہم پاسپورٹ پر یہ کیوں لکھتے ہیں؟ ہم نے کبھی سوچا! صرف اور صرف برادر عرب ملکوں کی محبت میں! ہم نے اپنے ازلی دشمن بھارت کو 1947 میں ہی تسلیم کر لیا تھا‘ ہم نے مشرقی پاکستان کو صرف ایک سال بعد بنگلہ دیش مان لیا تھا لیکن ہم 72 سال سے اسرائیل کو تسلیم نہیں کر رہے‘ کیوں؟ برادر عرب ملکوں کی محبت میں‘ ہم نے یہ فیصلہ برادر اسلامی ملکوں کے لیے کیا تھا‘ ہم نے اچھا فیصلہ کیا ہو گا لیکن ہمیں اس محبت‘ اس قربانی کا کیا صلہ ملا؟ برادر عرب ملک تو دور فلسطینیوں نے بھی اسرائیل کو تسلیم کرتے وقت ہم سے نہیں پوچھا تھا‘ ہم آج بھی اپنے موقف پر ڈٹے ہوئے ہیں جب کہ برادر اسلامی ملکوں میں اسرائیل کے سفارت خانے کھل چکے ہیں لیکن چلیے ہم اس کے باوجود پاکستانی موقف کو کریکٹر کا نام دے دیتے ہیں۔مسلمان مسلمان کے لیے کھڑا نہیں ہو گا تو کون ہو گا لیکن سوال یہ ہے کیا آج تک کسی برادر اسلامی ملک کے منہ سے کشمیر کا نعرہ نکلا‘ کسی نے آگے بڑھ کر کشمیریوں کو گلے لگایا؟ آپ پرانی بات چھوڑ دیجیے‘ بھارت نے پانچ اگست 2019 کو مقبوضہ کشمیر کا اسٹیٹس ہی تبدیل کر دیا‘ نریندر مودی نے اسے بھارت کا حصہ بنا دیا لیکن ان برادر اسلامی ملکوں نے پاکستان اور کشمیریوں کے لیے اپنے منہ سے ایک لفظ بھی نہیں نکالا جن کے لیے ہم72 سال سے اسرائیل سے متھا لگا کر کھڑے ہیں‘ آپ یہ بھی چھوڑ دیجیے‘ سعودی عرب نے پاکستان کو معاشی سپورٹ دینے کے لیے پاکستان کے اسٹیٹ بینک میں تین ارب ڈالر رکھوائے تھے۔

ہم جس وقت مقبوضہ کشمیر کو پاکستان کے نقشے کا حصہ بنا رہے تھے سعودی عرب نے اپنی یہ رقم واپس لے لی اور ہم نے بے عزتی کے ڈر سے یہ خبر تک چھپا لی‘ آپ دل پر ہاتھ رکھ کر یہ جواب دیجیے اگر ہمارے برادر اسلامی ملک پانچ اگست 2019 کو صرف ایک سال کے لیے اپنے پاسپورٹس پر ناٹ فار انڈیا لکھ دیتے یا یہ بھارتی ملازمین کو اپنے ملکوں سے نکل جانے کا حکم دے دیتے تو کیا آج ایک سال بعد مقبوضہ کشمیر میں فوج یا کرفیو ہوتا؟ ہرگز نہ ہوتا مگر ہمارا ساتھ دینا تو دور ہمارے برادر اسلامی ملکوں نے 18 جون 2020 کو بھارت کو سلامتی کونسل کاغیرمستقل ممبر بنوانے کے لیے تاریخی ووٹ دیے۔ہم اکیلے کھڑے رہ گئے اور کسی برادر اسلامی ملک نے ہمارے کندھے پر ہاتھ نہ رکھا‘ ہمارے برادر اسلامی ملکوں نے نریندر مودی کو کشمیر پر قبضے کے بعد اعلیٰ اعزازات سے بھی نوازا تھا اور پاکستان کو کشمیر پر او آئی سی کا اجلاس بھی نہیں بلانے دیا اور ہیومن رائیٹس کمیشن کی قرارداد پر ووٹ بھی نہیں دیے تھے‘ یہ ظلم اگر یہاں تک محدود رہ جاتا تو بھی شاید ہمارا بھرم رہ جاتا لیکن ہمارے برادر اسلامی ملک اب کلبھوشن یادیو کی رہائی کے لیے بھی ہم پر دباؤ ڈال رہے ہیں اور ہم ان کی ناراضی سے بچنے کے لیے آئین میں ترامیم کر رہے ہیں اور یہ ہیں وہ حقائق جن کا سامنا کرنے کے بجائے ہم نقشے بدل رہے ہیں اور اس پر ڈھول بھی بجا رہے ہیں۔خدا کے لیے اب تو جاگ جائیں‘ اب تو حقیقتوں کا سامنا کرنا شروع کر دیں‘ اب تو بے وقوف نہ بنیں‘ خدا کے لیے جان لیںدنیا میں اگر نقشوں سے

قوموں کے مقدر بدلے جا سکتے تو ہم فوراً سڑکوں کے نام تبدیل کر دیتے‘ ہم فوراً عمران خان کے ساتھ امیرالمومنین لکھ دیتے‘ ہم فوراً پاکستان کا نام ریاست مدینہ رکھ دیتے‘ روپے کو اشرفیاں کہنا شروع کر دیتے اور ہم فوراً پاکستان کے سلیبس میں خلافت عثمانیہ کا نقشہ شامل کر دیتے لیکن افسوس قوموں کے مقدر لفظوں اور نقشوں سے نہیں بنتے‘ یہ عمل‘ عقل اور ہمت سے بنتے ہیں اور ہماری ریاست کی ہمت کی حالت یہ ہے پشاور کی ایک عدالت میں ایک ملزم کو جج کی موجودگی میں جان سے محروم کر دیا گیا مگر پوری ریاست میں اس واقعے کی مذمت کی ہمت نہیں۔عقل کا عالم یہ ہے ہم کراچی کے نالے صاف نہیں کر سکتے‘ قوم پچھلے پانچ ماہ سے ارطغرل کو حقیقت اور کورونا کو ڈرامہ سمجھ رہی ہے اور یہ آج بھی سمجھتی ہے اگر مراد سعید کووزیر خزانہ بنا دیا جائے تو یہ ملک کے سارے قرضے اتار دیں گے جب کہ پیچھے رہ گیا عمل تو ہم پورے کشمیر سے منسوب ہائی وے کو چھوٹے سے سری نگر کا نام دے کر تالیاں بجا رہے ہیں اور ہم نقشے میں موجود مقبوضہ کشمیر کو دوبارہ نقشے میں ڈال کر مبارک بادیں وصول کر رہے ہیں اور ہمیں کوئی سمجھانے والا نہیں‘ بے وقوفو! اگر دنیا میں نقشوں سے قومیں بننی ہوتیں تو ارطغرل عثمان تین براعظموں کا مالک ہوتا لیکن وہ کیا تھا؟وہ سلطان معظم کہلانے کے باوجود 80 سال کینیڈین کمپنی کی تنخواہ پر پلتا رہا اور باقی 17 سال ترک حکومت سے وظیفہ لیتا رہا‘ اگر نقشے سب کچھ ہوتے تو آج وزیراعظم عمران خان سری نگر کی ڈل لیک میں شنکارے سے قوم سے خطاب کر رہے ہوتے‘ یہ کشمیر ہائی وے کی تختی اتار کر اس کی جگہ شاہراہ سری نگر کی تختی نہ لگا رہے ہوتے چناں چہ خدا کے لیے آنکھیں کھولیں‘ اتنی دیر میں تو کبوتر بھی سمجھ دار ہو جاتے ہیں‘ یہ بھی بلی کو دیکھ کر آنکھیں بند نہیں کرتے اور ہم تو پھر بھی انسان ہیں۔