یہ تو حال ہے ۔۔۔۔ حسینہ واجد سے ٹیلی فون پر گفتگو کے دوران جب عمران خان نے کشمیر کا ذکر چھیڑا تو آگے سے بنگلہ دیشی وزیراعظم نے کیسا ٹکا سا جواب دیا ؟ حیران کن انکشاف

لاہور (ویب ڈیسک) وزیرا عظم عمران خان کا حسینہ واجد کو عید سے قبل فون کرنا درست حکمت عملی ہے ،تاہم جب خان صاحب نے کشمیر میں ہونے والے مظالم کا ذکر چھیڑا تو محترمہ حسینہ واجد نے ٹکا سا جواب دیا کہ یہ تو بھارت کا اندرونی معاملہ ہے۔ کشمیر کو پاکستان

بنا نے اور سرینگر کی جا مع مسجد میں نما ز ادا کرنے کے لیے بہت سے لوازما ت ہیں۔ نامور کالم نگار عارف نظامی اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔سب سے پہلے تو ہمیں سفارتی محاذ پر کشمیر کاز کے لیے سخت جدوجہد کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ زمینی حقائق شاہ محمود قریشی کی رجائیت پسندی کا سا تھ نہیں دیتے۔ امریکی صدر ٹرمپ اس معاملے میں بھارت کے موقف کے حامی ہیں کیونکہ بھارت چند دہائیوں سے امریکہ کا سٹرٹیجک اوراقتصادی حلیف بن چکا ہے۔ ٹرمپ کی چین کے ساتھ حالیہ مخاصمت کے بعد امریکہ اور بھارت مزید قریب آ گئے ہیں یہی حال یورپی ممالک کا ہے۔ ہمارے اسلامی برادران تو اب کشمیر کے حوالے سے پاکستان کے حق میں زبانی جمع خرچ سے بھی ہچکچاتے ہیں۔ شاہ محمود قریشی آج کل اندرونی سیاست میں زیادہ مصروف ہیں،بین الاقوامی سفارتکاری کل وقتی کام ہے،کشمیر کاز کے حوالے سے انہیں امریکہ سمیت دنیا کے جن بڑے دارالحکومتوں کے دورے کرنے چاہئے تھے وہ نہیں کر پائے۔ ضروری ہے کہ وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی لڑائی کا جنون بڑھانے کے بجائے کشمیر کاز کے لیے سفارتی سطح پر کوششوں کو تیز تر کریں۔ کشمیر کا بہترین سفارتی حل تو بھارت کے ساتھ دوطرفہ مذاکرات میں ہی مضمر ہے لیکن مودی اپنی نفرت کی سیاست کی بناپر پاکستان کے ساتھ کسی قسم کے تعاون پر آمادہ نہیں۔ جب تک پاکستان اندرونی طور پر خلفشاراور محاذ آرائی کا شکار رہے گا، اقتصادی طور پر اپنے پاؤں پر کھڑا ہونے کے بجائے ہمیں کشکول لے کر دنیا بھر میں پھرنا پڑے گا تو دنیا میں ہماری بات سنی ان سنی ہی کر دی جائے گی۔ تحریک انصاف کی حکومت کے دوسال مکمل ہونے کو ہیں۔ خان صاحب کو اندرونی اور بیرونی پالیسیوں کے حوالے سے ترجیحات بدلنا ہونگی بصورت دیگرموجودہ ڈگر پر چلتے ہوئے ہم کشمیری عوام کے زخموں پر پھاہا رکھنے کے حوالے سے زبانی جمع خرچ کے سوا کچھ نہیں کر پائیں گے۔