جموں کشمیر کا پاکستان سے الحاق کنفرم ۔۔۔ ساتھ دو گے کہ نہیں؟ اقوام متحدہ میں جانے سے پہلے وزیراعظم عمران خان نے تمام اسلامی ممالک کے سربراہان کو اعتماد میں لے لیا

لاہور (ویب ڈیسک) وزیر خارجہ کا او آئی سی کو دو ٹوک پیغام ، شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ آنکھ مچولی بند کریں، فیصلہ کریں کہ کشمیر کے معاملے پر پاکستان کے ساتھ ہیں یا نہیں، مسئلہ کشمیر پر اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ کا اجلاس بلائے جائے ورنہ وزیراعظم سے کہوں گا کہ

ہم خود ہم خیال اسلامی مملک کے علیحدہ گروپ کا اجلاس بلائیں۔تفصیلات کے مطابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے نجی ٹی وی چینل کے پروگرام سے گفتگو کرتے مقبوضہ کشمیر سے متعلق او آئی سی اور سعودی عرب کی پالیسی کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ وزیر خارجہ نے او آئی سی کو دو توک پیغام دیتے ہوئے کہا ہے کہ مقبوضہ کشمیر کے معاملے پر پاکستان کا مطالبہ ہے کہ اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ کا اجلاس بلایا جائے۔وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ او آئی سی اب فیصلہ کرے کہ کشمیر کے معاملے پر اپنے بانی رکن کا ساتھ دے گا یا نہیں۔ اگر او آئی سی اب بھی کوئی فیصلہ نہیں کرتا تو پھر وزیراعظم سے کہوں گا کہ وہ اسلامی ممالک کو کشمیر کے معاملے پر پاکستان کا ساتھ دیتے ہیں، ان کے الگ گروپ کا اجلاس بلایا جائے۔ یہ اجلاس او آئی سی کے پلیٹ فارم یا کسی دوسرے پلیٹ فارم پر بلایا جا سکتا ہے۔وزیر خارجہ کا مزید کہنا ہے کہ او آئی سی بتائے کہ آخر کیوں بھارت میں بابری مسجد کی جگہ رام مندر کی تعمیر پر خاموش ہے، کیوں مقبوضہ کشمیر میں جاری مظالم پر خاموش ہے؟۔ وزیر خارجہ کا مزید کہنا ہے کہ سعودی عرب کیساتھ پاکستان کیساتھ برادرانہ تعلقات ہیں، پاکستانی مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کی حفاظت کیلئے اپنی جان تک قربان کر سکتے ہیں، تاہم اب سعودی عرب کو فیصلہ کرنا ہوگا کہ کشمیر کے معاملے پر ہمارا ساتھ دیا جائے گا یا نہیں۔وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ کشمیر میں جاری مظالم پر اب ہم خاموش نہیں بیٹھ سکتے۔ وزیراعظم سے کہوں گا کہ اگر سعودی عرب ہمارا ساتھ نہیں دیتا تو پھر ہم مزید انتظار نہیں کر سکتے۔ اب پاکستان کو خود آگے بڑھنا ہوگا۔ وزیر خارجہ کا مزید کہنا ہے کہ سعودی عرب کو بوجھل دل سے سمجھانے کی کوشش کی گئی۔ سعودی عرب نے ملائشیا کانفرنس میں شرکت نہ کرنے کا کہا تھا جس کے بعد ہمیں کانفرنس میں شرکت نہ کرنے کا فیصلہ کرنا پڑا، تاہم مہاتیر محمد کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں کہ انہوں نے کوئی شکوہ نہیں کیا، پاکستان کی پوزیشن کو سمجھا۔