بھارتی فضائیہ رافیل طیاروں سے لیس مگر چین کے جے20 کی چند خصوصیات آپ کو دنگ کر ڈالیں گی

اسلام آباد (ویب ڈیسک) فرانسيسی لڑاکا طيارے رافال کی پہلی کھيپ حال ہی ميں بھارت پہنچی، جس پر ذرائع ابلاغ ميں کافی چرچے ہوئے۔ کئی نشرياتی اداروں نے ان طياروں کا پاکستانی ايف سولہ اور چينی جے ٹوئنٹی سے موازنہ کيا اور اس بات کا تجزيہ کيا کہ کسی ممکنہ تصادم کی صورت ميں

کس ملک کا پلڑا بھاری رہے گا۔پانچ رافال طيارے انتيس جولائی کو بھارت رياست ہريانہ کے امبالا ايئر بيس پر پہنچے۔ 9.4 بلين ڈالر کی ايک ڈيل کے تحت فرانس مجموعی طور پر چھتيس رافال طيارے سن 2021 کے اواخر تک بھارت کو فراہم کرے گا۔گزشتہ چند برسوں سے بھارتی حکومت اپنی افواج کو جديد ترين ہتھیاروں اور ساز و سامان سے ليس بنانے کے ليے بھاری سرمايہ کاری جاری رکھی ہوئی ہے۔ اسی سبب بھارت ان ہتھیاروں کا سب سے بڑا امپورٹر بن گيا ہے۔ جولائی کے اوائل ميں روسی ساخت کے اکيس MiG-29 اور بارہ Sukhoi Su-30MKI طياروں کی خريداری کے سودے کو بھی حتمی شکل دی گئی۔روايتی حريف ممالک پاکستان اور چين کے ساتھ حاليہ کشيدگی کے تناظر ميں رافال کی اس مخصوص وقت پر ڈليوری، نئی دہلی انتظاميہ کے ليے اسٹريٹيجک اہميت کی حامل ہے۔ وزير دفاع راج ناتھ سنگھ نے فوری طور پر مختلف بيانات ميں علاقائی ممالک کو خبردار کيا اور دعوی کيا کہ ان جديد ترين لڑاکا طياروں سے بھارتی دفاع مضبوط ہو گيا ہے۔ رافال طياروں کی حوالگی پر يکم اگست کو چين نے اپنا رد عمل ظاہر کيا اور چين کے گلوبل ٹائمز نامی نشرياتی ادارے نے مختلف عسکری ماہرين کے حوالے سے لکھا ہے کہ رافال کا چینی طیارے جے ٹوئنٹی سے کوئی مقابلہ نہيں۔چينی ماہرين کے مطابق رافال ‘تھرڈ پلس جنريشن‘ کا لڑاکا طيارہ ہے جبکہ جے ٹوئنٹی چوتھی جنريشن کا طيارہ ہے۔ چينی تجزيہ کاروں کے مطابق رافال يقيناً اس وقت بھارتی فليٹ ميں شامل Su-30MKI سے بہتر ہے مگر يہ کوئی بہت بڑی يا واضح سبقت نہيں۔

فوربز ميگزين پر شائع ہونے والی ايک رپورٹ کے مطابق چين نے بھارت کے ساتھ کشيدگی کے تناظر ميں لداخ کے قريب ہوٹان ايئر بيس پر چوبيس جے گيارہ اور جے سولہ طيارے تعينات کر رکھے ہيں۔ سولہ ٹن وزنی جے گيارہ کولڈ وار کے دور کے روسی ساختہ ‘سو ستائيس‘ سے مشابہت رکھتا ہے جبکہ بيس ٹن وزنی جے ٹوئنٹی Su-30MKI سے کافی بڑے ہيں۔ يہ دونوں حجم کے اعتبار سے رافال سے زيادہ بڑے اور بھاری ہيں جبکہ ان دونوں کی رينج بھی رافال سے زيادہ ہے۔دوسری جانب بھارتی ماہرين چينی دعووں پر سوال اٹھا رہے ہيں۔ ہندوستان ٹائمز ميں چھپنے والے سابق ايئر چيف مارشل بی ايس دھنوا کے بيان ميں وہ رافال کو ساڑھے چار جنريشن کا لڑاکا طيارہ قرار ديتے ہيں۔ وہ سوال اٹھاتے ہيں، ”مائٹی ڈريگن کہلانے والا جے ٹوئنٹی سپر کروز کی صلاحيت کيوں نہيں رکھتا؟‘‘ انہوں نے چند اور آلات کی نشاندہی کی جو جے ٹوئنٹی ميں لگے ہوئے ہيں۔ دھنوا کے مطابق رافال ‘گيم چينجر‘ ہے اور ہر صورت ميں اسے چينی جديد ترين جے ٹوئنٹی پر برتری حاصل ہے۔ فوربز ميگزين پر ايک اور بھارتی دفاعی تجزيہ کار کے مطابق چينی ساختہ جے ٹوئنٹی حد سے حد بھی ساڑھے تين جنريشن کا لڑاکا طيارہ ہے۔فوربز ميگزين ميں چھپنے والے آرٹيکل کے مطابق اس سوال کا جواب مشکل ہے اور شايد يہ بے معنی بھی ثابت ہو۔ حقيقت يہ ہے کہ دونوں ممالک کے لڑاکا طيارے بہت با صلاحيت ہيں اور دونوں ہی ملک ايٹمی طاقت کے حامل بھی ہيں۔ يہ وجہ ہے کہ اگر کوئی ممکنہ تصادم ہو بھی گيا، تو وہ چھوٹے پيمانے پر ہو گا اور انتہائی کنٹرولڈ ہو گا تاکہ معاملات ہاتھ سے نہ نکليں۔ ايسی صورتحال ميں طيارے کی فضا ميں صلاحيت سے زيادہ اہم پائلٹس کی تربيت، زمين پر موجود رڈار سسٹمز کی اہليت، طيارہ شکن ميزائل دفاعی نظام کی موجودگی يا عدم موجودگی سميت کمانڈ اينڈ کنٹرول نيٹ ورک پر زيادہ انحصار ہو گا۔امريکا ميں قائم نيشنل انٹسٹيٹيوٹ آف ايشين اسٹڈيز سے وابستہ آرزان تاراپورے کے مطابق بھارت کی جانب سے لداخ ميں پانچ رافال طياروں کی تعيناتی زيادہ علامتی ہے نہ کہ اس کا مقصد مشنوں ميں استعمال ہے۔