1901 میں ایک انگریز کمشنر نے کوئٹہ کے ایک جج کے بددیانت ریڈر کو سونے کے سکے بطور انعام کیوں دیے تھے ؟ ایک پرانا واقعہ پڑھ کر آپ کو پاکستان میں بے ایمانی و بددیانتی کے زور پکڑ جانے کی وجہ پتہ چل جائے گی

لاہور (ویب ڈیسک) چمن کے پہلے اسسٹنٹ کمشنر آغا سرور شاہ 1901ء میں وہاں تعینات ہوئے۔ یہ بلوچستان کے ایک اہم خاندان سے تعلق رکھتے تھے۔ آغا سرورشاہ کے دور میں چمن کے عوام میں یہ خبر عام ہوگئی کہ اسسٹنٹ کمشنر نے اپنے ریڈر کو ایک مقدمے کا جو فیصلہ لکھوایا تھا، ریڈر نے صرف آٹھ آنے

لیکر اگلے دن سنائے جانے والا فیصلہ ایک فریق کو پہلے ہی سے بتا دیا ہے۔ نامور کالم نگار اوریا مقبول جان اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔صبح تک پورے چمن شہر کو یہ علم ہو چکا تھا کہ کیا فیصلہ سنایا جانے والا ہے۔ یہ ایک ایسی بات تھی جو انتظامیہ کے لئے ندامت اور پریشانی کا باعث تھی۔ خبر پورے شہر میں عام ہو چکی تھی، مگر اس کا کوئی گواہ میسر نہ تھا کہ ریڈر کو سزادی جاتی۔ آغا سرور شاہ نے پورا معاملہ لکھ کر بذریعہ خصوصی پیغام رساں کوئٹہ میں موجود انگریز چیف کمشنر کو بھجوادیا۔ چند دنوں کے اندر چیف کمشنر نے چمن کا دورہ رکھا اور وہاں پر ایک عام دربار سے خطاب کرنے کے لئے اسسٹنٹ کمشنر کو لوگوں کو جمع کرنے کے لئے کہا۔ دربارِ عام یا کھلی کچہری میں چیف کمشنر نے خطاب کیا اور سب کے سامنے اس ریڈر کو سٹیج پر بلایا، اس کی تعریف میں کچھ کلمات کہے اور اپنی جیب سے کچھ سونے کے سکے نکال کر اسے انعام کے طور پرعطا کرتے ہوئے کہا کہ ایسے اہل کاروں کی خدمات سے ہی تاجِ برطانیہ کی عزت ہے، اس لئے میں اس کی کوئٹہ تعیناتی کا حکم دیتا ہوں۔ اس پوری روئیداد کو لکھنے کے بعد آغا سرور شاہ نے ایک نوٹ تحریر کیا تھا، جس میں انہوں نے لکھا کہ ’’انگریز چیف کمشنر نے اس کی حکمت بیان کرتے ہوئے بتایا کہ، چمن کے سرحدی شہر کی تمام باتیں افغانستان کے عوام تک براہِ راست پہنچتی ہیں۔

اگر اس بددیانت ریڈر کی بات افغانستان کے عوا م تک پہنچ گئی، تو وہاں اس خبر سے ایسی لاتعداد کہانیاں جنم لیں گی اور لوگ سمجھنے لگیں گے کہ برطانوی ہند میں انصاف نام کو نہیں ہے اور وہاں رشوت کا بازار گرم ہے۔دیکھو دشمن کے مقابلے میں تمہارا مجموعی تصور بہت اہم ہے۔ اگر تم نے دشمن کی زبان کو اپنی کمزوریاں دے دیں تو وہ تمہاری ساری دھاک ، رعب اور دبدبے کو زمین بوس کر دے گا۔ اس لیئے یہ ضروری تھا کہ تاجِ برطانیہ کے وسیع تر مفاد کے لیئے اس اہل کار کے جرم پر پردہ ڈالا جائے‘‘۔ آج تقریباً ایک سو انیس سال کے بعد جب پاکستان کی پارلیمنٹ میں وزیر ہوا بازی غلام سرور خان نے پاکستانی پائلٹس کی ڈگریوں کے معاملے کو جس طرح نمک مرچ لگا کر اور بڑھا چڑھا کر پیش کیا تو مجھے وہ چیف کمشنر بہت یاد آیا۔ وہی ہوا جو ایسی ناسمجھی کے نتیجے میں ہوتا ہے۔ پوری دنیا میں پہلے یورپی یونین اور پھر امریکہ نے پی آئی اے کی پروازوں پر پابندی لگائی اور آخر میں ایتھوپیا جیسے ملک نے بھی ہماری دیانت پر سوال اٹھا دئیے۔ سیانے کہتے ہیںکہ ایسے نادان دوست کسی لڑکی کے لئے آئے رشتے کو یہ کہہ کر بھگا دیتے ہیں کہ، ’’ اب تو یہ ٹھیک ہو گئی ہے لیکن پہلے اس کی بہت شکایات ملتی تھیں‘‘۔ حیرت اس بات کی ہے کہ جس وزیر نے یہ حماقت کی ہے وہ گذشتہ دو دہائیوں سے اسمبلی میں منتخب ہوتا آیا ہے، لیکن تحریکِ انصاف کے بچگانہ ماحول نے اسے بھی ویسا ہی بنا دیا ہے۔ ملک سنبھالنا، چلانا اور اس کی عزت کو قائم رکھنا، ایک تنے ہوئے رسے پر چلنے کے مترادف ہے۔ سنبھل سنبھل کر پائوں رکھنا پڑتے ہیں۔ لیکن خان صاحب نے حکومت میں ایسے ہی فاسٹ بائولر لگا رکھے ہیں، جن کا کام ہی لوزبال کروانا ہے۔ یہ ایک ایسا بال ہوتا ہے جس پر دشمن بے پرواہ ہو کر چھکا لگاتا ہے۔ انگریزی زبان میں احمقانہ حرکتیں کر کے اپنے ہی مفاد تباہ کرنے والے شخص کو لوز بالرکہا جاتا ہے۔ آپس کی لڑائی اور طعن و تشنیع کی سیاست نے پاکستانی حکومت میں بے شمار لوز بالرز کو جنم دے دیا ہے، جو ہر روز ایک نیا تماشہ کھڑا کر دیتے ہیں۔ بقول جون ایلیاء کون اس گھر کی دیکھ بھال کرے روز اک چیز ٹوٹ جاتی ہے۔(ش س م)