مساجد میں کرسی پر بیٹھ کر نماز پڑھنے کے بارے میں اللہ پاک قرآن مجید میں کیا حکم دیتا ہے؟ علماءِ دین کے اللہ اور اس کے رسول کی تعلیمات پر مبنی شاندار تجزیہ

کرسی پربیٹھ کرنمازپڑھنے کے بارے میں کیا حکم ہے؟علماءِ دین ومفتیانِ شرعِ متین اس مسئلہ میںکہ کرسی پر بیٹھ کرنماز پڑھنے کا کیا حکم ہے؟ آج کل مساجد میں اس کا بہت رواج ہوگیا ہے لہٰذا وضاحت کے ساتھ اس کاجواب دیں تاکہ عوامُ النّاس کو اس حوالے سے شرعی رہنمائی حاصل

ہوجائے ؟نیزکرسی پر بیٹھ کر نماز پڑھنے والا شخص پورا قیام یا بعض صف سے آگے ہوکر کرے تواس کا کیا حکم ہے؟ اور مساجد میں معذور افراد کیلئے کرسیاں کہاں رکھنی چاہئیں ؟ مزید یہ کہ کرسی کے ساتھ لگے ہوئے تختوں پر بعض لوگ سر رکھ کر سجدہ کرتے ہیں اس کا کیا حکم ہے، یہ کہنا کہ مکروہِ تحریمی و گناہ ہے درست ہے یا نہیں ؟سائل: محمد عبداللہ بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم اَلْجَوَاب بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّاب اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَ الصَّوَاب فرائض وواجبات اور سنّتِ فجر میں قیام فرض ہے. ان نمازوں کو اگر بلاعذرِ شرعی بیٹھ کر پڑھیں گے تو ادا نہ ہوں گی اور اگر خود کھڑے ہوکر نہیں پڑھ سکتے مگر عصایا دیوار یا آدمی کے سہارے کھڑا ہونا ممکن ہو تو جتنی دیر اس طرح سہارے سے کھڑا ہوسکتا ہے اتنی دیر کھڑا ہونا فرض ہے۔ جو اعذار قیام کو ساقط کرنے والے ہیں وہ دو قسم کے ہیں: (۱) حقیقی: یعنی اس طرح معذور ہو کہ قیام اس کے لیے ممکن نہ ہو۔ (۲) حکمی: یعنی اس درجہ معذور نہ ہو کہ قیام پر قدرت ہی نہ ہو؛ بلکہ قدرت تو ہو مگر گرجانے کا اندیشہ ہو یا ایسی کمزور حالت ہو جو عند الشرع عذر میں شامل ہے، مثلاً : بیمار ہے اور ماہر مسلم تجربہ کار ڈاکٹر نے کہا ہو کہ کھڑے ہونے میں بیماری میںاضافہ ہوگا یا بیماری دیر سے صحیح ہوگی؛ یا کھڑے ہونے میں ناقابلِ برداشت درد ہوتا ہو، ان صورتوں میں بیٹھ کر نماز ادا کرنا جائز ہے۔

مَنْ تعذر علیہ القیامُ لمرضٍ حقیقي، وحدَہ أن یلحَقَہ بالقیامِ ضررٌ، وفي البحر: أراد بالتعذر، التعذر الحقیقی بحیث لو قام سقط، أو حکمي بأن خاف أي غلب علی ظنہ بتجربۃ سابقۃ أو إخبار طبیب مسلم حاذق زیادتہ أو بُطأِ برئہ بقیامہ أو دوران رأسہ أو وجد لقیامہ ألماً شدیدًا صلی قاعدًا (در مع الرد زکریا: ۲/۵۶۵) اگر غیرمعمولی درد نہ ہو؛ بلکہ ہلکی اور قابل برداشت تکلیف کا سامنا ہوتو یہ عند الشرع عذر نہیں اس صورت میں بیٹھ کر نماز اداکرنا جائز نہیں، وإن لم یکن کذلک (أي بما ذُکر) ولکن یلحقہ نوعُ مشقۃٍ لا یجوز ترکُ القیام (تاتارخانیہ زکریا: ۲/۶۶۷)، جو شخص قیام پر قادر نہیں، لیکن زمین پر بیٹھ کر سجدہ کے ساتھ نماز ادا کرسکتا ہے تو اس کو زمین پر بیٹھ کر سجدہ کے ساتھ نماز ادا کرنا ضروری ہے، زمین پر سجدہ نہ کرتے ہوئے کرسی پر یا زمین پر اشارہ سے سجدہ کرنا جائز نہیں۔ وإن عجز عن القیام وقَدَرَ علی القعود؛ فإنہ یصلي المکتوبۃَ قاعدًا برکوعٍ وسجود ولا یجزیہ غیر ذلک (تاتارخانیہ زکریا: ۲/۶۶۶۷)، اگر رکوع سجدہ پر قدرت نہیں اور زمین پر بیٹھ کر اشارہ سے نماز ادا کرسکتا ہے تو تشہد کی حالت پر بیٹھنا ضروری نہیں؛ بلکہ جس ہیئت پر بھی خواہ تورک (عورت کا تشہد میں بیٹھنے کا طریقہ) کی حالت پر یا آَتی پالتی مارکر بیٹھنا سہل وممکن ہو اس ہیئت کو اختیار کرکے زمین ہی پر بیٹھ کر اشارہ سے نماز ادا کی جائے، کرسیوں کو اختیار نہ کیا جائے؛ کیوںکہ شریعت نے ایسے معذورین کو زمین پر بیٹھنے کے سلسلے میں مکمل رعایت دی ہے کہ جس ہیئت میں ممکن ہو بیٹھ کر نماز ادا کرے من تَعَذَّرَ علیہ القیامُ لمرضٍ۔۔۔ أو خَافَ زیادتَہٗ۔۔۔ أو وَجَدَ لقیامہ ألماً شدیداً صلی قاعداً کیف شاء (درمختار مع الشامی زکریا: ۲/۵۶۶) اس صورت میں بلا ضرورت کرسیوں پر بیٹھ کر نماز اداکرنا بہ چند وجوہ کراہت سے خالی نہیں