’’ میرا دوست بیرون ملک سے ڈھاکے کا پیسہ مجھے بھیجے تو وہ غیر قانونی نہیں۔۔ ‘‘شاہد خاقان عباسی کا حیران کُن اعتراف، بیرون ملک سے آنے والی رقم پرنئی منطق اپنا لی

اسلام آباد(ویب ڈیسک) سابق وزیر اعظم اور مسلم لیگ ن کے سینئر رہنماء شاہد خاقان عباسی کا کہنا ہے کہ میرا دوست بیرون ملک سے ڈاکے کے پیسے مجھے بھیجے وہ غیر قانونی نہیں، آپ مجھے پراسیکیوٹ نہیں کرسکتے، پھر آپکو پورے پاکستان کو پراسیکیوٹ کرنا پڑے گا۔تفصیلات کے مطابق نجی ٹی وی چینل سے

بات کرتے ہوئے شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ آپ مجھے پراسیکیوٹ نہیں کرسکتے، پھر آپکو پورے پاکستان کو پراسیکیوٹ کرنا پڑے گا۔شاہد خاقان عباسی نے مزید کہا کہ آپ قانون لاگو کردیں کہ پبلک آفس ہولڈر باہر سے پیسے نہیں منگواسکتا، وہ ٹی ٹی نہیں لاسکتا،اسکے لئے ٹی ٹی ہی غیرقانونی کردیں۔ قانون یہ ہے کہ باہر سے جو پیسہ پاکستان آتا ہے وہ جائز ہے، ہم نے اسکو لمٹ کیا۔آپ باہر سے آنیوالے پیسے کو غیرقانونی قرار دیدیں۔جس پر کاشف عباسی نے کہا کہ توقع تو یہی ہے کہ آپ جواب دیں گے کہ پیسہ کہاں سے آیا۔جس پر شاہد خاقان عباسی نے جواب دیا کہ میں جواب دیدوں گا کہ مجھے میرے دوست نے بھیجے ہیں، وہ غیرقانونی نہیں ہوتا، اگر وہ اس ملک میں ڈاکہ ڈالتا ہے اور مجھے پیسے بھیجتا ہے تو یہ غیرقانونی نہیں ہوتا۔شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ اگر حکومت اپنا رویہ درست کرلے تو ہم اس حکومت کو پانچ سال دینے کو بھی تیار ہیں، اے پی سی کا مقصد حکومت گرانا نہیں ہے، حکومت جن لوگوں کو پاکستان لیکر آئی ، انہیں کو ذلیل ورسوا کرکے واپس بھیج دیا۔